وہ ملک جہاں پٹرول صرف 3 روپے لٹر ہے لیکن آپ پھر بھی وہاں رہنا نہیں چاہیں گے

وہ ملک جہاں پٹرول صرف 3 روپے لٹر ہے لیکن آپ پھر بھی وہاں رہنا نہیں چاہیں گے
وہ ملک جہاں پٹرول صرف 3 روپے لٹر ہے لیکن آپ پھر بھی وہاں رہنا نہیں چاہیں گے

  

کراکس(مانیٹرنگ ڈیسک) جنوبی امریکہ کے ملک وینزویلا میں اب تک پٹرول و ڈیزل وغیرہ مفت تھے تاہم اب صدر نکولس میڈورو نے ملک کو درپیش بدترین معاشی بحران کے پیش نظر تیل کی قیمتیں لاگو کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ ہندوستان ٹائمز کے مطابق وینزویلا حکومت کی طرف سے پٹرولیم مصنوعات پر اس قدر سبسڈی دی جاتی تھی کہ شہری لگ بھگ مفت اپنی گاڑیوں کے ٹینک بھروایا کرتے تھے۔ اب صدر نکولس کے اس حکم کے بعد پیر کے روز سے انہیں فی لیٹر 5ہزار بولیوار (وینزویلا کی کرنسی)میں پٹرول ملا کرے گا۔ بولیوار میں یہ رقم کچھ زیادہ لگ رہی ہے تاہم وینزویلا کی بدتر معاشی حالت کے باعث اس کی کرنسی کی قدر اس درجہ کم ہو چکی ہے کہ یہ 5ہزار بولیوار ہمارے صرف 3روپے کے برابر ہے، گویا وینزویلا کے شہری اب بھی 3روپے فی لیٹر پٹرول خریدیں گے۔

رپورٹ کے مطابق صدر نکولس نے اس کے ساتھ ایک حکم یہ بھی جاری کیا ہے کہ اب شہریوں کو محدود مقدار میں پٹرول دیا جائے گا۔ ایک مہینے میں ایک گاڑی کو صرف120لیٹر پٹرول بھروانے کی اجازت ہو گی۔ صدر نکولس نے گزشتہ روز اپنے خطاب میں یہ اعلان کرتے ہوئے اپنی قوم سے کہا کہ ”میرے پیارے ہم وطنو! یہ جنگ ہے، ایک ظالمانہ جنگ۔ جو کمپنی تیل کا ایک قطرہ بھی وینزویلا لے کر آتی ہے، امریکہ اسے سخت سزا دیتا ہے۔“ صدر نکولس کی طرف سے یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب 5ایرانی آئل ٹینکر تیل لے کر وینزویلا پہنچے ہیں۔ ان ٹینکروں میں 15لاکھ بیرل تیل پہنچایا گیا ہے تاکہ وینزویلا میں تیل کے بحران پر قابو پایا جا سکے۔ واضح رہے کہ وینزویلا طویل عرصے سے خانہ جنگی کی زد میں ہے اور اس پر سخت امریکی پابندیاں عائد ہیں جس سے اس کی معاشی حالت اس قدر ناگفتہ بہ ہو چکی ہے کہ شہری فاقوں سے تنگ آ کر ملک چھوڑ کر بھاگ رہے ہیں۔

مزید :

بین الاقوامی -