”شاعری تخیل کا لاوا ہے جس کے پھوٹ نکلنے سے زلزلے کا امکان نہیں رہتا۔“

”شاعری تخیل کا لاوا ہے جس کے پھوٹ نکلنے سے زلزلے کا امکان نہیں رہتا۔“
”شاعری تخیل کا لاوا ہے جس کے پھوٹ نکلنے سے زلزلے کا امکان نہیں رہتا۔“

  

تحریر: ملک اشفاق

قسط: 50

کتھارسس کیا ہے

 ہمارے ذہن میں اکثر سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب ہم پر کوئی افتاد پڑتی ہے، کوئی مصیبت نازل ہوتی ہے یا کوئی غم ہمیں آن لیتا ہے تو ہم درد سے کراہتے ہیں اور دست بدعا ہوتے ہیں کہ خدا ہمیں مسرت اور سکونِ قلب سے ہمکنار کرے۔ لیکن جب ہم اچھی بھلی، تسلی بخش، فارغ البالی، خوشحالی اور عیش و عشرت کی زندگی بسر کرتے ہیں تو ہمیں یہ خواہش کیوں پیدا ہوتی ہے کہ حزنیہ ڈرامہ (آج کل عام طور پر فلم) دیکھ کر ہم خواہ مخواہ دوسروں کے باعث درد و الم سے جھولیاں بھر کر واپس لوٹیں اور ان کرداروں کے غم میں شرکت کریں جو شاید کبھی پیدا نہیں ہوئے یا ان واقعات سے دل کےلئے درد مول لیں جو کبھی رونما نہیں ہوئے اور جنہیں ہم اکثر و بیشتر اور بجا طور پر محض کہانیاں اور ڈرامہ نگار کے تخیل کی پیداوار سمجھتے ہیں۔ آج سے چند صدیوں پہلے اس کا جواب حاضر تھا” ہم اپنے جذبات کا انخلاءکرنے کےلئے تھیڑ جاتے ہیں۔“ ارسطو نے انہیں یہ فارمولا عطا کیا تھا اور اسے بے سوچے سمجھے یا اس زمانے کی سوچ کے مطابق بالکل درست اور کافی و شافی خیال کیا جاتا تھا۔ لیکن بعد میں نقادوں نے بے شمار تشریحیں اور توضیحیں، تاویلیں اور تعبیریں کرکے اس فارمولے کی صداقت یا عدم صداقت کو ایک انتہائی نزاعی مسئلہ بنا دیا۔ ہم بھی اس وقت اس مسئلے سے دو چار ہیں۔

 اس مسئلے کے آغاز میں ایف۔ ایل لوکس نے 3 سوال اٹھائے ہیں۔

-1 ارسطو کا اصل نقطہ نظر اور مفہوم کیا تھا؟

-2 ارسطو کا نقطہ نظر کس حد تک درست اور صحیح ہے؟

-3 ارسطو نے یہ نقطہ نظر (نظریہ) کیوں اختیار کیااور اس کے محرکات کیا تھے؟

ان سوالات کی نفسیاتی اور نزاعی اہمیت بہت زیادہ ہے۔ پہلے سوال پر اگرچہ مدتوں بحث ہوتی رہی لیکن عقیدہ ہمیشہ یہ رہا کہ ارسطو کا خیال نہایت عمیق ہے اور بالکل صحیح ہے۔ مختلف نقادوں نے کتھارسس کے لفظ کے مختلف ترجمے کئے مثلاً تزکیہ، اصلاح، پاکیزگی، تطہیر وغیرہ ۔ یہ بھی بتایا گیا کہ تھیٹر میں ہمارے جذبات(ترحم اور دہشت) ایک گونہ لاتعلقی، بے رنگی اور ذاتی تعصبات سے بریت پیدا ہونے کے باعث پاکیزہ و مطہر ہو جاتے ہیں۔ خود غرضانہ طور پر جذباتی ہونا برا ہے اور اوتھیلویا ہیملٹ کےلئے درد مندی اور خوف کے جذبات رکھنا اچھا ہے۔ کیونکہ اس طرح ہمارے خود غرضی کے حامل جذبات کا انخلاءہو جاتا ہے۔ یہ تمام باتیں بجائے خود نہایت خوب ہیں لیکن معلوم ہوتا ہے کہ ارسطو کا مطلب یہ نہیں تھا۔

 اس امر کی کڑی شہادت ملتی ہے کہ کتھارسس (یونانی لفظ) کا مطلب تطہیر و تزکیہ نہیں بلکہ انخلاءاور جلاب ہے۔ یہ طبی اصطلاح ہے۔ ارسطو کا والد طبیب تھا شاید اس وجہ سے اس کو یہ اصطلاح سوجھی ہو۔ آج بھی ڈاکٹر جلاب کےلئے کتھارٹک(Cathartic) گولیاں دیتے ہیں۔ لیکن انخلاءسے مراد مکمل انخلاءنہیں بلکہ فالتو اور ضرر رساں مواد کا انخلاءہے۔ قدیم زمانے سے یہ طبی نظریہ چلا آتا ہے کہ انسان میں4 خلطیں ہوتی ہیں جن کے توازن سے صحت برقرار رہتی ہے اور عدم توازن سے بیماریاں پیدا ہوتی ہیں۔ سوداوی امراض کےلئے فصد کھولنا بھی کتھارسس کے احاطہ معانی میں داخل ہے۔ حالانکہ فصد کھولنے سے مراد تمام خون کا اخراج نہیں ہو سکتا۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ انخلائے جذبات سے مراد جذبات کا مکمل انخلاءنہیں۔

 ان دلائل و شواہد سے ثابت ہوتا ہے کہ کتھارسس کا مطلب جذبات کا تزکیہ وتطہیر اور ان کو ارفع و اعلیٰ بنانا نہیں بلکہ اس حد تک کم کر دینا ہے جس سے ایک صحت مند توازن اور تناسب پیدا ہو جائے۔ فائیف(Fyfe) نے لارڈ بائرن کے ایک خط سے اقتباس نقل کرکے مذکورہ نقطہ نظر کی تائید کی ہے۔

”شاعری تخیل کا لاوا ہے۔ جس کے پھوٹ نکلنے سے زلزلے کا امکان نہیں رہتا۔“(جاری ہے )

نوٹ :یہ کتاب ” بک ہوم “ نے شائع کی ہے ، جملہ حقوق محفوظ ہیں (ادارے کا مصنف کی آراءسے متفق ہونا ضروری نہیں )۔

مزید :

ادب وثقافت -