محمد علی جناحؒ کو ”قائداعظم“ کا لقب کس نے دیا؟

محمد علی جناحؒ کو ”قائداعظم“ کا لقب کس نے دیا؟
محمد علی جناحؒ کو ”قائداعظم“ کا لقب کس نے دیا؟

  

 تحریر : پروفیسر ڈاکٹر ایم اے صوفی

قسط: 20

قائد اعظم کا پاکستان 

قائد اعظم کی شخصیت کے کئی نمایاں پہلو ہیں جن میں ایک اہم بات یہ ہے کہ وہ کبھی اپنا فیصلہ دوسروں پر نہ تھوپتے تھے بلکہ تمام امور فیصلے کیلئے مسلم لیگ کونسل میں پیش کرتے او راراکین کی اکثریت جو فیصلہ کرتی ‘اسے قبول کرتے مثلاً کانگریس کی ہندوستان چھوڑ دو تحریک کا ساتھ نہ دینے کی منظوری‘ کابینہ مشن کی منظوری اور بعد میں نا منظوری ‘نیشنل ڈیفنس کونسل سے مسلم لیگی ممبروں کے استعفوں کی طلبی‘ راج گوپال اچاریہ فارمولا کی منظوری‘یوم راست اقدام کا فیصلہ ‘1946ءکی عبوری حکومت ‘3جون 1947ءکے منصوبہ کی منظوری ‘ایسے تمام مواقع پر بانیٔ پاکستان نے ہمیشہ جمہوریت کے اصولوں کی پاسداری کرتے ہوئے اپنے ساتھیوں کو پہلے اعتماد میں لیا نہ کہ از خود فیصلے کئے ۔ 

لیکن آج ہمارے حکمرانوں کا معاملہ اسکے برعکس ہے ،یہاں پہلے فیصلہ کرلیا جاتا ہے بعد میں ساتھی حلیفوں سے مشورہ یا منظوری لی جاتی ہے ۔

ہمارے ملک کی بد قسمتی ہے کہ قیام پاکستان کے صرف 1 سال بعد بانیٔ پاکستان قائد اعظم اس جہان فانی سے کوچ کر گئے وگرنہ پاکستان کے حالات وہ نہ ہوتے جو آج دیکھنے میں آرہے ہیں۔ملک میں جمہوریت کو صحیح معنوں میں پنپنے نہیں دیا گیا۔چار مختلف ادوار میں مارشل لاءنافذ رہے۔ بعض سیاستدانوں نے خود اسکی راہ ہموار کی۔

ہماری ریاست اسلامی،فلاحی جمہوری پاکستان کا مطلب ہے ہر آدمی کو حصہ دار ہونا چاہئے۔ جمہوریت کیسے ممکن ہے۔ پہلے ہر سیاسی جماعت اپنی صفوں میں جمہوریت رائج کرے۔1943ءمیں مسلم لیگ کے زعماءکو قائداعظم محمد علی جناحؒ نے کہا آپ کو تاحیات صدرچنناچاہتے ہیں۔ آپ نے کہا ہرگز نہیں۔ میں انسان ہوں مجھ سے بھی غلطی ہوسکتی ہے اور اس طرح صدارت کےلئے ایک فرد نہ ہو۔ انتخاب ہواور ہر سیاسی فیصلہ مسلم لیگ کونسل سے مشاورت سے ہونا چاہیے۔ اسی طرح باقی سیاسی جماعتوں پر بھی لازم ہے کہ اپنی جماعت میں الیکشن کرایاجائے اور اس طرح جمہوریت کا آغاز ہوگا۔ اقرباءپروری، خوشامدی نظریہ کو دور کرنا پڑے گا۔لہٰذا ہر سطح پر لوگوں کی رائے کو مقدم سمجھا جائے۔ اس طرح پاکستان خوشحال ہوگا۔ تعلیم کو عام کیا جائے۔وزراءاور بڑے لوگ VIPکلچر کوخیرباد کہیں۔سادگی کو اپنایا جائے۔بیرونی قرضہ جات سے دور رہنا چاہئے اور لوگوں کی بہبود کا سوچا جائے۔

 2اگست2012ءکے روزنامہ” نوائے وقت“ میں محترم منیر احمد منیر نے میرے مضمون کے جواب میں ایک مضمون تحریر کیا ہے۔ تاریخ کے طالب علم ہونے کی حیثیت سے میرا یہ فرض ہے کہ اس مضمون کے جواب میں جواب الجواب دیا جائے کیونکہ منیر احمد منیر کے مضمون میں لقب”قائداعظم“ کے خالق کو متنازعہ بنانے کی کوشش کی گئی ہے۔لہٰذا میرے مضمون بعنوان”لقب قائداعظمؒ کے خالق کو متنازعہ نہ بنایاجائے“ میں مکمل وضاحت کی گئی ہے۔

 قائداعظم محمد علی جناحؒ کو ” قائداعظم“کالقب جن شخصیات نے دیا اُن کی تفصیل یہاں پر بمعہ حوالہ دی جارہی ہے۔

 پاکستان کے ایک مستند انسائیکلوپیڈیا”پاکستانیکا“ از سیّد قاسم محمود،چھٹا ایڈیشن، نومبر2008ءالفیصل ناشران و تاجران کتب غزنی سٹریٹ اُردو بازار لاہور صفحہ نمبر889کے مطابق مولانا مظہر الدین نے محمد علی جناح کو پہلی بار”قائداعظم“ کالقب دیاتھا۔دسمبر 1937ءمیں مولانا نے محمد علی جناح اور لیاقت علی خان کو دہلی میں استقبالیہ دیا اور اپنے ادارے کی جانب سے سپاسنامہ پیش کیا۔اس سپاسنامے میںجناح صاحب کو ”قائداعظم، فدائے ملک و ملت،رہنمائے ملت اور قائدملّت“ جیسے خطابات سے نواز گیا۔ اس کے بعد تو مولانا نے جناح صاحب کے لقب”قائداعظم“ کی باقاعدہ تشہیر شروع کردی تھی۔ مولانا مظہر الدین1888ءمیں شیر کوٹ ضلع بجنور میںپیدا ہوئے۔ ان کی رعایت سے ”مولانا شیر کوٹی“ کہلاتے تھے۔ 1918ءمیں روزنامہ”مدینہ“بجنور سے وابستہ ہوئے۔

 1920ءمیں اپنا ہفتہ وار اخبار”الامان“ جاری کیا۔ بعد ازاں اسے دہلی منتقل کر دیا گیا۔ اس اخبار کے ذریعے تحریک خلافت کی پُر زور حمایت کی بلکہ ضلع بجنور کی خلافت کمیٹی کے صدر بھی رہے۔1935ءمیں حج کی سعادت حاصل کی اور بعد میں مسلم لیگ میں شمولیت اختیار کی اور مسلم لیگ کی سرگرمیوں اور تحریک پاکستان کو گھر گھر پہنچانے کے لیے اپنا اخبار”وحدت“جاری کیا۔ مولانا مظہر الدین صاحب نے فلسطین کانفرنس میں شرکت کی۔ واپسی پر”الامان“کا مصر نمبر شائع کیا۔ 14مارچ1939ءکو مولانا صاحب کو ان کے دفتر ہی میں قتل کردیا گیا۔نماز جنازہ جامع مسجد دہلی میں ادا کی گئی۔بعد ازاں شفیق نامی قاتل گرفتار ہوا اور اسے پھانسی کی سزا ہوئی۔

 1937ءمیں مولانا مظہر الدین نے محمد علی جناح کو ”قائداعظمؒ“ کالقب دیا۔ لیکن بعدازاں دسمبر 1938ءمیں آل انڈیا مسلم لیگ کے سالانہ اجلاس منعقدہ پٹنہ میں میاں فیروز الدین احمد نے”قائداعظمؒ زندہ باد“ کا نعرہ لگایا۔ اس کے بعد محمد علی جناح کا عوامی اور مقبول نام”قائداعظم“ہی ہوگیا۔ 

 اسی انسائیکلوپیڈیا کے صفحہ نمبر720کے مطابق میاں فیروز الدین ہی وہ شخصیت ہیں جنہوں نے سب سے پہلے قائداعظم زندہ باد کانعرہ لگوایا۔میاں فیروز الدین لاہور میں 1901ءمیں پیدا ہوئے۔مجلس خلافت کے قیام پر رجمنٹ کے سالار مقرر ہوئے۔آل انڈیا مجلس خلافت کے رُکن بھی منتخب ہوئے۔انہوں نے اپنے وقت کی تمام قومی وسیاسی تحریکوں میں سرگرمی سے حصہ لیا۔ جمعیت علمائے ہند، یونٹی کانفرنس،نہرو رپورٹ کی مخالفت،سائمن کمیشن کابائیکاٹ ، جلیانوالہ باغ کا سانحہ،مسجد شہید گنج کی واگزاری اور بالآخر1918ءمیں آل انڈیا مسلم لیگ کی تنظیم نو کے بعد اس جماعت کے ساتھ دائمی وابستگی رکھی۔علامہ اقبالؒ، مولانا ظفر علی خان، سرفضل حسین اور خضرحیات ٹوانہ کے ساتھ ان کے ذاتی مراسم تھے بلکہ خضر حیات ٹوانہ نے تو وزیراعلیٰ کی حیثیت سے انہیں 5 مربع اراضی اور ”خان بہادر“کا لقب دینے کی پیشکش کی تھی بشرطیکہ وہ مسلم لیگ کی حمایت سے دست کش ہو جائیں۔آپ نے اکتوبر1946ءمیں وفات پائی۔ نومبر1984ءمیں لاہور میونسپل کارپوریشن نے ایک سٹرک ان کے نام سے منسوب کی۔ 1987ءمیں حکومت پنجاب نے”تحریک پاکستان گولڈ میڈل“ سے نوازا۔

قائداعظمؒ کے لقب کے سلسلے میں مذکورہ انسائیکلوپیڈیاکے علاوہ تحریک پاکستان اور قیام پاکستان سے متعلق لکھی گئی تمام کتابوں میں مولانامظہر اور مولانا فیروز کا نام ہی آتا ہے۔ اس کے علاوہ انٹرنیٹ پر quaid-e-azamhistory.week.comکے مطابق بھی مولانامظہر الدین اور مولانا فیروز الدین کا نام ہی آتاہے۔

 ( جاری ہے ) 

کتاب ”مسلم لیگ اورتحریکِ پاکستان“ سے اقتباس (نوٹ : یہ کتاب بک ہوم نے شائع کی ہے، ادارے کا مصنف کی آراءسے متفق ہونا ضروری نہیں ۔ )

مزید :

بلاگ -