کاکڑ کی آکڑ فروری تک ہے؟

 کاکڑ کی آکڑ فروری تک ہے؟
 کاکڑ کی آکڑ فروری تک ہے؟

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


 نگران وزیراعظم انوارالحق کاکڑ کی نگرانی مدت تو بہت لگتی لیکن اگر نگران کابینہ کے پہلے اجلاس سے کئے جانے والے ان کے خطاب کا عمیق نظری سے جائزہ لیا جائے تو صاف ہویدا ہو جاتا ہے کہ ان کے پاس صرف فروری 2024ءتک کا مینڈیٹ ہے ، اس سے آگے ملکی معیشت کی گاڑی کی چابی ان کے ہاتھ سے لے لی جائے گی۔ 
خاص طور پر اگر آئی ایم ایف کے معاہدے کی 9ماہ کی مدت کو سامنے رکھا جائے تو فروری کے مہینے میں وہ مدت پوری ہو جائے گی، کیونکہ لگ بھگ 12جولائی کو یہ معاہدہ منظور ہو گیا تھا چنانچہ مارچ کے مہینے تک لازم ہو گا کہ ایک منتخب حکومت انتخابات کے نتیجے میں قائم ہو چکی ہو جو اپریل میں اس معاہدے کے اختتام سے قبل نئے معاہدے کی داغ بیل ڈال سکے۔اس دوران، یعنی اگست سے فروری تک جناب کاکڑ کے ذمے صرف ان اصلاحات کا تسلسل یقینی بنائے رکھنا ہو گا جو شہباز شریف حکومت نے آئی ایم ایف سے طے کئے تھے۔دوسرے الفاظ میں اس عرصے کے دوران عوام کو کچھ خاص ریلیف کی توقع نہیں رکھنی چاہئے جس کا ایک ٹریلر تو 15اگست کو چل گیا تھا جب نگران حکومت نے تیل کی قیمت میں 17روپے فی لٹر سے اوپر کا اضافہ کردیا تھا۔ ان سے آگے بھی خیر کی توقع نہیں رکھی جا سکتی اور نہ رکھنی چاہئے ۔ پوری قوم کو مل کر کوئی ایسی نماز ادا کرنی چاہئے کہ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں پاتال میں جا گریں وگرنہ ان نگرانوں نے تو اس لئے بھی عوام کی مُنڈی دبائے رکھنی ہے کہ کل کی بجائے آج ہی انتخابات کا واویلا مچادیں۔خیر سے پیپلز پارٹی نے تو ابھی سے شروع کردیا ہے اور حسب ِ معمول جناب زرداری ثابت کرنے پر تلے نظر آتے ہیں کہ وعدے قرآن اور حدیث نہیں ہوتے ،کیونکہ ان کے وزیراعلیٰ نے تو مشترکہ مفادات کی کونسل میں نئی مردم شماری کے نتائج کو نوٹیفائی کرکے نئی حلقہ بندیوں کی گیم شروع کی اور اب ان کی پارٹی کے سیکرٹری اطلاعات فیصل کریم کنڈی کہتے پائے جا رہے ہیں کہ پیپلز پارٹی آن بورڈ نہیں تھی ۔ کوئی ان سے پوچھے کہ کیاسابق وزیراعلیٰ سندھ بھنگ پی کر مشترکہ مفادات کونسل میں گئے تھے کہ ہاتھ کاٹ کر دے آئے اور اب پیپلز پارٹی خون لگا کر شہیدوںمیں شامل ہونے کی سعی کر رہی ہے ۔اس قسم کی حرکتوں نے پہلے ہی پنجاب میں پیپلز پارٹی کا بھٹہ بٹھادیا ہے اور اگر یہ لوگ باز نہ آئے تو سندھ بدر بھی کردیئے جائیں گے ۔ 
نگران وزیراعظم انوارالحق کاکڑ کا یہ بھی کہنا ہے کہ جہاں ان کی نگران حکومت عالمی معاہدوں ، یعنی آئی ایم ایف سے معاہدے کی پاسداری کرے گی وہاں سپیشل انوسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل (ایس آئی ایف سی) کے لئے غیر ملکی سرمایہ کاری لانے کی راہ ہموار کرنے کی غرض سے جو بھی قانون سازی درکار ہوگی ، یقینی بنائے گی۔ گویا کہ آئی ایم ایف سے معاہدے کی شرائط کو من و عن عوام پر نافذ کرنے کے علاوہ ایس آئی ایف سی کے عزائم کی تکمیل ان کی حکومت کا دوسرابڑا مدعاہوگا ۔ بعض لوگوں کا یہ بھی خیال ہے کہ کاکڑ حکومت سے پی آئی اے اور پاکستان سٹیل ملز کی نجکاری جیسے کڑے کام بھی کروائے جائیں گے کیونکہ کسی بھی منتخب حکومت میں اتنا دل گردہ نہیں ہے کہ وہ اتنے بڑے پیمانے پر نوکریاں فراہم کرنے والے ادارے کو نجی تحویل میں دے کر ملازمین کو سرکاری پنشنوں اور دیگر مراعات سے محروم کردے۔ چنانچہ یہ بوجھ بھی کاکڑ حکومت کے نازک کندھوں پر منتقل کیا جا سکتا ہے اگرچہ ابھی تک ایسا کچھ باضابطہ طور پر سامنے نہیں آیا، لیکن اگر اگلے سات آٹھ ماہ تک نگران حکومت نے رہنا ہے تو اپنے جواز کے لئے اسے کچھ تو ہاتھ پاﺅں چلانے ہوں گے، اس لئے کیوں نہ لوگوں کے روزگار پر کلہاڑا چلایا جائے کہ ان لوگوں نے کون سا الیکشن لڑنا ہے کہ لوگ حلقوں میں ان کا گریبان پکڑ سکیں۔ پہلے ہی ہم دیکھ رہے ہیں کہ جنوری سے اب تک پنجاب کے وزیر اعلیٰ محسن نقوی اپنے ہونے کے جواز کو سرکاری اسپتالوں میں سابق چیف جسٹس ثاقب نثارکی طرح گھومنے گرجنے کو اپنا وتیرہ بنائے ہوئے ہیں،حالانکہ وہ بھی جانتے ہیں کہ ایسے دوروں سے نہ تو نئے ایئر کنڈشنر آجائیں گے، نہ دوائیاں مفت ملنے لگیں گی اور نہ میڈیکل شعبے سے وابستہ افراد اپنی روش بدلیں گے، کیونکہ وہ محسن نقوی کی نہیں سرکار کی نوکری کرتے ہیں۔ 
چنانچہ ہمارے وہ ٹی وی اینکر صاحبان جو 90روز میںانتخابات کی مالا جپ رہے ہیں اور دلائل کے قلابے ملاتے ہوئے ثابت کرنے پر تلے ہوئے ہیں کہ انتخابات میں تاخیر نون لیگ کو سوٹ کرتی ہے ان سے پوچھنا ہے کہ کیا وہ اس لئے 90روز کی تکرار کر رہے ہیں کہ پی ٹی آئی کو تاخیر سوٹ نہیں کرتی ، سیدھی سی بات ہے کہ نئی مردم شماری کے بعد نئی حلقہ بندیاں آئینی تقاضا ہے جس کے بعد انتخابات کا ڈول ڈالا جا سکتا ہے ، یعنی مردم شماری ہوتی ہی اس لئے ہے کہ انتخابات میں عوام کی نمائندگی یقینی بنائی جا سکے ۔ اس لئے محض اس لئے 90روز کے اندر انتخابات اس لئے نہیں ہو جانا چاہئیں کہ عمران خان کے خلاف مقدمات حتمی شکل اختیار نہ کریں اور عوام کو جل دینے کا ایک موقع ہاتھ آجائے۔ یہ فنکاریاں اب نہیں چلیں گی، بہت ہوگئی ڈرامہ بازیاں ، بہت سن اور دیکھ لیا عوام نے، اب مشرف کی باقیات کو کھل کھیلنے کا موقع نہیں دیا جائے گا ، اب قاضی فائز عیسیٰ کا دورآنے والا ہے ، اب معجزے رونما ہوں گے !

مزید :

رائے -کالم -