نرخ مقرر کرنے سے گریز، سپریم کورٹ نے سی این جی کی قیمتوں سے متعلق کیس کا فیصلہ محفوظ کرلیا

نرخ مقرر کرنے سے گریز، سپریم کورٹ نے سی این جی کی قیمتوں سے متعلق کیس کا فیصلہ ...
نرخ مقرر کرنے سے گریز، سپریم کورٹ نے سی این جی کی قیمتوں سے متعلق کیس کا فیصلہ محفوظ کرلیا

  


اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) سپریم کورٹ نے سی این جی کی قیمتوں سے متعلق کیس کا فیصلہ محفوظ کرلیاہے جوجمعہ کو سنائے جانے کا امکان ہے ۔ جسٹس جواد ایس خواجہ کی سربراہی میں سپریم کور ٹ کے دو رکنی بنچ نے سی این جی کی قیمتوں سے متعلق کیس کی سماعت کی ۔دوران سماعت سی این جی ایسو سی ایشن نے استدعا کی کہ سی این جی کی قیمت 73 روپے فی کلو مقرر رکھی جائے تاہم سپریم کورٹ نے اوگرا کے کام میں مداخلت سے انکار کردیا۔جسٹس جواد ایس خواجہ نے اپنے ریمارکس میں کہاکہ پانچ سال بیت گئے مگر سی این جی مالکان نے شرائط پوری نہیں کیں، آج کوئی حکم جاری کیا جائے گا۔ سیکرٹری پٹرولیم نے عدالت کو بتایا کہ ای سی سی کے اجلاس میں وزیر قانون کی سربراہی میں کمیٹی قائم کر دی گئی ہے اور حکومت کو بھی قیمتوں پر تشویش ہے۔ جسٹس جواد ایس خواجہ کا کہنا تھا کہ عدالت نے سی این جی سے متعلق کوئی حکم امتناعی جاری نہیں کیا، اوگرا کو کہا ہے کہ وہ اپنا کام کرے، عدالت اس کے کام میں مداخلت نہیں کرے گی۔ انہوں نے کہا تھا کہ ملک بھر میں سی این جی کے معاملے پر بحث چھڑ گئی اور بیان بازی جاری ہے ، عدالت کسی بیان سے متاثر ہو کر کوئی فیصلہ نہیں کرے گی بلکہ حقائق کو سامنے رکھ کر فیصلہ کیا جائے گا۔عدالت نے فیصلہ محفوظ کرتے ہوئے قراردیاہے کہ کل سنایاجائے گا۔ سماعت کے بعد سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سی این جی ایسو سی ایشن کے چیئرمین غیاث پراچہ نے کہا کہ ایس این جی پی ایل سے مطالبہ کیا کہ ملک بھر میں غیر قانونی طور پر بند کئے گئے 700 کے قریب سی این جی سٹیشنز کھولے جائیں اور گیس کی لوڈ شیڈنگ فوری طور پر ختم یا کم کی جائے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اوگرا کو قیمت تجویز نہیں کررہے، اپنا خرچہ بتارہے ہیں۔

مزید : اسلام آباد


loading...