”مجھ کو خوشی کے ساتھ ساتھ ہوتا رہا ملال بھی “

”مجھ کو خوشی کے ساتھ ساتھ ہوتا رہا ملال بھی “
”مجھ کو خوشی کے ساتھ ساتھ ہوتا رہا ملال بھی “

  


میں الحمراءکلچرل کمپلیکس میںہونے والے ٹاپرز کنونشن میں مدعو تھا، خوبصورت موسم میں ہزاروں نوجوانوں کو دیکھ کے پروین شاکر کا شعر یادآتا رہا ، ” کچھ تو ہوا بھی سرد تھی کچھ تھا تیرا خیال بھی ، مجھ کو خوشی کے ساتھ ساتھ ہوتا رہا ملال بھی “، ہوا بھی واقعی سرد تھی اور خیال بھی اپنے ان نوجوانوں کا تھا جو پاکستان کی آبادی کا پینسٹھ فیصد ہیں، اگر ہم ان کی صحت،تعلیم اور روزگار کابندوبست کرنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں تو یہ ہمارا سرمایہ ہیں اور اگر ناکام رہتے ہیں تو یہی سب سے بڑی ذمہ داری ہیں، ملال یہی ہے کہ ہم نے اپنے اس اثاثے کی طرف توجہ ہی نہیں دی، ان ہیروں کو پتھر ہی رہنے دیا، تراشا خراشا نہیں اور آج بھی اگر ہم انہیں تعلیم دے دیتے ہیں اور روزگار نہیں دیتے تو یہی کل ہمارا سب سے بڑا ملال بن جائے گا۔ وہاںوزیراعلیٰ نے نوجوانوں کے لئے جو اقدامات بیان کئے وہ واقعی قابل تعریف ہیں ، مجھے توایسے لگاکہ ہم اس پینسٹھ فیصد آبادی کےلئے پیسنٹھ سال کی ہی لیٹ نکالنے کی کوشش کر رہے ہیں، حیرت تو ابھی چند روز قبل ہی مجھے وزیراعلیٰ کے معاون خصوصی برائے صحت خواجہ سلمان رفیق کے منہ سے یہ الفاظ سن کر بھی ہوئی تھی کہ ابھی تک ہم پولیوسمیت مختلف امراض کے حفاظتی ٹیکے لگانے اور قطرے پلانے کے لئے پنجاب بھر میں ہر سو میں سے صرف ستاون بچوں تک پہنچ رہے ہیںتو ہم اپنے بچوں کو ان امراض سے محفوظ رکھنے کا دعویٰ کیسے کر سکتے ہیں۔ انہوںنے بتایا کہ بعض اضلاع میں ویکسی نیشن کی شرح ساٹھ فیصد اور بعض میں چالیس فیصد تک ہے، تب مجھے لگا کہ ہم واقعی متعدی امراض کے خاتمے میں افغانستان اور صومالیہ کے ساتھ کھڑے ہیں اور اگر ایسے میں پولیو کے قطرے پلانے والے رضاکاروں پر قاتلانہ حملے ہوں گے تو یقینی طور پر ہم اپنی اس نئی نسل کے مجرم ہیں۔ اس نئی نسل کے جس کا شعور بہت بلند ہوتا چلا جا رہا ہے۔ مجھے خبیر پختونخواہ سے ٹاپ کرنے والی طالبہ کی پشتو، اردو اور انگریزی میں تقریر اور بلوچستان کے ٹاپر کی سادگی نے ہی نہیں ، آزاد کشمیر میں اول پوزیشن حاصل کرنے والے صہیب کے اس فقرے نے بھی مبہوت کر دیا کہ ہمارادفاعی بجٹ کہیں زیادہ اور تعلیم کا بجٹ اس سے کہیں کم ہے۔ ہمارا تعلیمی بجٹ، دفاعی بجٹ سے زیادہ ہونا چاہئے، کلچرل کمپلیکس میں بجنے والی تالیوں میں مجھے اندازہ ہوا کہ ہمارا نوجوان آنکھیں بند کر کے نہیں بیٹھا، وہ اپنے ارد گرد دیکھ اور معاملات کو سمجھ رہا ہے۔ میں نے وہاں موجود کالم نگار اور شاعرہ صوفیہ بیدار سے کہا کہ واقعی اب قوموں کا دفاع تلواروں اور توپوں کی بجائے ذہنوں سے ہوگا، ہم اپنے ان کروڑوں ہتھیاروں کو جتنا شارپ کریں گے، دشمن پر اتنا ہی بالادست ہوتے چلے جائیں گے، ہم خوشحالی لوگوں کے گھروں میں لفافوں میں ڈال کے نہیں پھینک سکتے، اگر ایک نوجوان پڑھ لکھ کے اچھے روزگار کا حامل ہوجاتا ہے تو وہ اپنے پورے خاندان کا نصیب بدل دیتا ہے۔ صہیب کی ہی ایک اور بات مجھے بہت خوبصورت لگی، اس نے کہا کہ وہ سول انجینئر بننا چاہتا ہے تاکہ وہ ہر جھونپڑی کو محل بنا دے ۔۔۔ یہ کام ایک سول انجینئر کیا کرے گامگر ہمارے سیاستدان کر سکتے بہرحال کر سکتے ہیں اگر وہ اپنے وطن اور عوام کے ساتھ مخلص ہوجائیں۔

وزیراعلیٰ نے تفصیل کے ساتھ ان حکومتی اقدامات کا ذکر کیا جو وہ تعلیم کے فروغ کے لئے کر رہے ہیں، مجھے یہ بھی حیرت ہے کہ پنجاب حکومت کو نو کروڑ عوام میں سے ایسے مشہور لوگ کیوں نہیں مل رہے جو اس کے کارناموں کی تعریفیں ٹی وی سکرین پر چلنے والے اشتہاروں میں اسی طرح کر سکیں جس طرح عبدالستار ایدھی سے لے کر فاطمہ ثریا بجیا تک سب سندھ حکومت کی کر رہے ہیں۔ بہرحال یہ تو حکومت کا ایشو ہے کہ وہ اپنے اقدامات پر لوگوں کو مطمئن کرپاتی ہے یا نہیں، میرا ایشو یہ ہے کہ ہماری حکومتوں کو صحت اور تعلیم کے ساتھ ساتھ روزگار کی فراہمی پر سب سے زیادہ توجہ دینی چاہئے۔ اگر مجھے موقع ملتا تو مجھے وزیراعلیٰ سے کہنا تھا کہ اگر آپ کے شہر میں ” مسٹر لاہور“ کا ٹائیٹل جیتنے والا محمد عمر سٹریٹ کرائم کر سکتا ہے تو پھر یہاں ہر نوجوان اپنے پاس مجرم بننے کا جواز رکھتا ہے۔ مسٹر جونئیر لاہور بھی ایسا ہی ایک اعزاز ہے جس کو نوجوان اپنا آئیڈیل بناتے ہیں۔ ہم بار بار زور دیتے ہیں کہ کھیلوں کو فروغ دیا جائے تاکہ نوجوان منفی کی بجائے مثبت سرگرمیوں میںاپنا وقت صر ف کریں۔ سماجی ماہرین درست کہتے ہیں کہ سٹریٹ کرائم کی ذمہ داری صرف بے روزگاری اور مہنگائی پر عائد نہیں کی جا سکتی ،اس میں والدین کی تربیت ، سکول میں اساتذہ کی دی ہوئی تعلیم اور گلی محلے کا ماحول بھی اہم کردارادا کرتا ہے مگر اس کے باوجود روزگار نہ ہونے کا ڈپریشن اور بہتر مستقبل کی امید کا فقدان ہی میری نظر میں نوجوانوں کو تباہی کے راستے پر لے جانے میں بڑے فیکٹرز ہیں،میں آگے چلتے ہوئے یہ بھی مانتا ہوں کہ حکومت کے پاس تمام نوجوانوں کو ملازمت دینے کی گنجائش نہیں مگر اس کے پاس وہ کردار تو ہے جس کے ذریعے وہ پرائیویٹ سیکٹر میں زیادہ سے زیادہ ملازمتیں پیدا کر سکتی ہے۔ میں اکثر مسلم لیگ نون کے رہنماو¿ں کے ساتھ بات کرتے ہوئے سابق دور کے جس منصوبے کے ملتوی ہونے پر سب سے زیادہ افسوس کرتا ہوں وہ لاہور ،سیالکوٹ موٹروے ہے۔اس سڑک کے بننے سے یقینی طور پر وہاں فیکٹریوں اور یونیورسٹیوں کی بھرمار ہونی تھی جس نے ملازمتوں کے ڈھیر سارے مواقع پیدا کرنے تھے۔بہرحال اب یہی انڈسٹری رنگ روڈ پر لگ سکتی ہے۔ حکومت پنجاب ڈاکٹر امجد ثاقب اور اخوت کے ذریعے بے روزگار ی کے خاتمے کے لئے جو جہاد کر رہی ہے ، میرے خیال میں تو اس میں بہت زیادہ وسعت لانے کی ضرورت ہے ، یہ سلسلہ تھوڑی رقم کے ساتھ کاروبار سے بڑھا کے پروفیشنلز تک بڑھانا چاہئے۔

مجھے موقع ملتا تو میں وزیراعلیٰ سے یہ ضرور کہتا کہ آپ کے پاس تمام نوجوانوں کو ملازمتیں دینے کی گنجائش نہیں، آپ اپنے سیاسی مخالفین کی طرح ایک ایک ادارے میں پانچ پانچ گنا ملازم بھر کے انہیں پی آئی اے، ریلویز اور سٹیل ملز کی طرح تباہ بھی نہیں کرنا چاہتے لیکن جہاں ضرورت، گنجائش اور بجٹ سب موجود ہیں اور وہاں آپ صوبے کی پینسٹھ فیصد یوتھ کو نظر انداز کرتے ہوئے بوڑھوں کو بھرتی کر لیں گے تو اسے کوئی انصاف نہیں کہے گا۔صوبائی دارالحکومت سمیت مختلف اضلاع میں پولیس میں بھرتی کا عمل شروع ہے، سینئر کرائم رپورٹرز کے مطابق رمضان المبارک سے قبل لاہور میں پانچ ہزار اہلکاروں کی پوسٹوں کے لئے درخواستیں طلب کی گئیں، پینسٹھ ہزارنوجوانوں نے اپلائی کیا مگر آئی جی پنجاب نے رمضان المبارک آنے کا جواز دیتے ہوئے بھرتی کا عمل روک دیا، آئی جی عمر ہ کرنے گئے تو ڈی آئی جی اسٹیبلشمنٹ نے دوبارہ بھرتی کا حکم جاری کر دیا مگر آئی جی نے عمرے سے واپسی پر یہ بھرتی دوبارہ روک دی۔ پولیس کہتی ہے کہ وہ اپنی سیکورٹی ڈویژن الگ کر رہی ہے اوراس کے لئے اب پولیس نے تین ہزار ریٹائرڈ فوجیوں کو بھرتی کر لیا ہے۔ ان کا ارادہ تو چار ہزار ریٹائرڈ بندوں کو اکاموڈیٹ کرنے کا تھامگر پہلے انہوں نے امیدواروں کی عمر کی حد چالیس سال او ر ریٹائرمنٹ کی مدت دو سال رکھی تھی جس پر صرف چھ سو درخواستیں آئیںجس پرعمر بیالیس سال اور ریٹائرمنٹ کی مدت چار سال کر دی گئی ، اس پر تین ہزار ریٹائر فوجی بھرتی ہوئے ، ایک ہزار مزید ہوں گے اور میرے شہر کے نوجوان ملازمتوں کے لئے منہ دیکھتے رہ جائیں گے۔کہنے والے کہتے ہیں کہ آپ نے راولپنڈی کی ایک بڑی شخصیت کے کہنے پر نوجوانوں کی نوکریاں بوڑھوں کے حوالے کر دیں،کیا آپ محسوس کرسکتے ہیں کہ اس خبر پروہ نوجوان اور ان کے پینسٹھ ہزار خاندان کیا سوچتے ہوں گے ، آپ نے گذشتہ روز شائع ہونے والی تصویر میں،گنگا رام ہسپتال میں چھوٹی موٹی کچھ آسامیوں کے لئے ہزاروں بے روزگاروں کا رش بھی دیکھا ہو گا، مجھے تو یہی کہنا ہے کہ اگر ہم ان کروڑوں نوجوانوں کو تعلیم دے بھی دیں اور اپنے وسائل روزگار کی فراہمی کا بندوبست کرنے پر صرف نہ کریں تو ہمارے سروں کا یہی تاج ۔۔ یہی نوجوان ۔۔ ہمارا سب سے بڑا بوجھ بن جائیں گے، اگر ہم انہیں ملازمتیں فراہم کرنے میں کامیاب نہیں ہوتے تو ہم کتنے پڑھے لکھے نوجوان زرمبادلہ حاصل کرنے کے نام پر ایکسپورٹ کرنے میں کامیاب ہو سکیں گے۔ مسٹر لاہور کے سٹریٹ کرائم میں ملوث ہونے نے تو میری فکر بہت زیادہ بڑھا دی ہے، خوشی کی سرخی میں ملال کی سیاہی بڑھتی جا رہی ہے۔۔۔ مجھے موقع ملتا تو وزیراعلیٰ سے ضرور پوچھتا کہ کیا آپ بھی اس بارے فکر مند ہیں؟

مزید : کالم


loading...