حفاظتی انتظامات بہتر نہیں ہو سکتے؟

حفاظتی انتظامات بہتر نہیں ہو سکتے؟
حفاظتی انتظامات بہتر نہیں ہو سکتے؟

  

پشاور میں ہونے والی دہشت گردی کے بعد قومی سطح پر جو کارروائی شروع کی گئی اس کے حوالے سے اب خبریں بھی آنے لگی ہیں۔ خصوصی طور پر کراچی میں رینجرز نے انٹیلی جنس شیئرنگ کے بعد دہشت گردوں کو تلاش کرنے کا سلسلہ شروع کیا ہے تو ان کی طرف سے مزاحمت شروع ہو گئی ہے، اب ہر روز مقابلے ہو رہے ہیں، گزشتہ روز بھی رینجرز نے تلاش کے بعد طالبان کے ایک کمانڈر سمیت ان کے ساتھیوں کو مارا ہے۔ یوں کامیابیاں ملنے لگی ہیں اوریہ سب بھی سانحہ پشاور کے بعد سے ہوا ہے، ملک بھر میں یوں بھی ’’سیکیورٹی ہائی الرٹ‘‘ کا پیغام دیا گیا اور ایسا ہوا بھی ہے۔

یہ ایک حقیقت ہے جو سامنے نظر آئی اور بیان بھی کر دی، ایک اور حقیقت آج کل لاہور کی سڑکوں پر نظر آنے لگی ہے۔ حکام نے حفاظتی انتظامات کا نئے سرے سے جائزہ لے کر چانچ پڑتال کا سلسلہ بحال کیا ہے، کاؤنٹر ٹیررازم ایجنسی انٹیلی جنس شیئرنگ کے تحت اپنا کام کررہی ہے تو پولیس بھی اپنی کارکردگی دکھانے لگتی ہے، پولیس کی ’’کوئیک ریسپانس فورس‘‘ کی گشت بڑھا دی گئی اور مقامی پولیس نے ناکے بھی لگا لئے ہیں، اللہ سے دعا ہے کہ پولیس نے یہ جو انتظامات کئے ہیں یہ فائدہ مند بھی ہوں اور ان کی وجہ سے دہشت گرد پکڑے جائیں اور امن و امان کی حالت بھی بہتر ہو، یہ تو ہماری دعا ہے، لیکن جو کچھ ہماری سڑکوں پر عملی طور پر نظر آ رہا ہے وہ تو کچھ اور ہی ہے۔

آج کل شہر میں ناکوں والے بھائی اور ٹریفک وارڈنز حضرات بہت چست ہیں۔ گھر سے دفتر آتے اور پھر واپسی پرجو نظر آتا ہے وہ کچھ یوں ہے کہ مختلف چوراہوں پر ایک طرف ٹریفک وارڈنز جمع ہو کر موبائل فون پر باتیں اور آپس میں ہنس کھیل رہے ہوتے ہیں۔ یہ حضرات اشارے پر یا چوک میں کھڑے نہیں ہوتے، چوک کے ایک کونے میں شکار کے منتظر ہوتے ہیں، کوئی ٹریفک قواعد کی خلاف ورزی کرتا نظر آئے تو اسے روک کر اس کا چالان کیا جاتا ہے، ادھر ناکے والے حضرات بھی گزرتے لوگوں اور گاڑیوں پر نگاہ رکھے ہوتے ہیں، اب دونوں قسم کے ملازمین میں ایک بات مشترک پائی جا رہی ہے، وہ موٹرسائیکل سواروں کی شامت ہے۔ ٹریفک وارڈن موٹرسائیکل سواروں کو روک کر ہیلمٹ نہ پہننے والوں کے چالان کر رہے ہوتے ہیں، جبکہ ناکہ پر کھڑے پولیس ملازمین بھی موٹرسائیکل سواروں پر ہی ’’نظر کرم‘‘ رکھتے ہیں اور ان کو روک کر تلاشی کے مرحلے سے گزارتے ہیں۔ کچھ نہ ملے تو ان سے کاغذات طلب کئے جاتے ہیں، اگر کسی کا کوئی سا بھی قانون کاغذ کم ہو اسے تھانے لے جانے کی دھمکی دے کر ایک طرف بٹھا دیا جاتا ہے اور پھر وہی ہوتا ہے جو منظور خدا ہوتا ہے۔ اس عرصہ میں ان کے پاس سے کئی کاریں اور متعدد موٹرسائیکل بھی گزر جاتی ہیں اور وہ کسی کی پڑتال نہیں کر پاتے۔ یوں یہ سلسلہ جاری ہے اور خود ان کو پوچھنے والا کوئی نہیں، جب ان کی توجہ اخلاقیات اور قانون کی طرف دلائی جاتی ہے تو ایک کان سے سن کر دوسرے کان سے اُڑا دیتے ہیں۔ یوں یہاں تو دہشت گردوں کو اسی طرح تلاش کیا جاتا ہے اور ان کا محاسبہ ہوتا ہے، حالانکہ کاؤنٹر ٹیررزم والے محلوں تک جا کر تلاش کررہے ہیں کہ کوئی مسافر بن کر ہی نہ آیا ہو۔

لاہور پولیس کے موجودہ سربراہ بہت پرجوش ہیں اور جدید طریقے اختیار کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔انہوں نے تو جدید ٹیکنالوجی سے زیادہ فائدہ حاصل کرنے کی کوششوں کا بھی آغاز کیا ہوا ہے، تاہم یہ ہمارے شیرجوان سڑکوں پر کسی اور ہی کام میں مصروف ہیں، اس حوالے سے یہی کہا جا سکتا ہے کہ ان ناکوں کا ابھی تک کوئی فائدہ تو نظر نہیں آیا، البتہ ڈیوٹی کرنے والے حضرات اپنے لئے راحت کا انتظام ضرور کرلیتے ہیں، اس لئے ان کی نگرانی اور تربیت بھی ہونا چاہیے تاکہ کوئی فائدہ تو ہو۔گزشتہ شام جب گھر واپسی ہوئی تو جگہ جگہ یہی کچھ ہو رہا تھا، اسے گڈگورننس کے خلاف سازش قرار دیں یا ہوس کی بات کریں تو بھی کوئی تبدیلی تو نظر نہیں آتی، کیا حقیقی معنوں میں جدید دور کے تقاضوں کے مطابق ان حضرات کی تربیت نہیں ہو سکتی۔ ہم خود اس امر کے قائل ہیں کہ پوری قوم کو مل کر دہشت گردی کے خاتمے کی کوشش کرنا چاہیے اور ہر ایک کو اپنا حصہ ضرور ڈالنا چاہیے ، اس کے لئے پولیس کے بہتر رویے اور نظم و ضبط کے ساتھ ساتھ شہریوں کو مشکوک حضرات کی نشاندہی بھی کرنا چاہیے۔ *

مزید : کالم