ہوائی اڈوں کے حفاظتی انتظامات!

ہوائی اڈوں کے حفاظتی انتظامات!

کراچی سے اطلاع ہے کہ پاکستان انٹرنیشنل ائر لائنز کی انتظامیہ نے حفاظتی انتظامات کے حوالے سے فکر مندی اور عدم اطمینان کا اظہار کیا اور حکومت سے درخواست کی ہے کہ اس سلسلے میں موثر انتظامات کئے جائیں، انتظامیہ کے مطابق ایئرپورٹ کے لئے جس سیکیورٹی ایجنسی کی خدمات حاصل کی گئیں وہ بھی تجربہ کار نہیں، یہ خبر اور ایئرپورٹ انتظامیہ کی تشویش درست ہے تو موجودہ حالات اور ماضی کی روشنی میں واقعی یہ پریشان کن ہے کہ کراچی میں پہلے بھی تخریب کاری ہو چکی ہے۔پشاور میں ہونے والی بہیمانہ کارروائی کے بعد سیاسی اور عسکری حکام نے از خود حفاظتی انتظامات کے حوالے سے غور کیا اور اسی نتیجے میں قومی پارلیمانی کانفرنس بلائی گئی جس نے پارلیمانی کمیٹی قائم کرکے قومی پالیسی مرتب کرنے کا فیصلہ اور اعلان کیا، کمیٹی بن گئی اور کام بھی شروع کر چکی ہے اس نے سات روز میں تجاویز مرتب کرکے دینا ہیں جس کے بعد حکومت اور فوج باہمی تعاون سے عمل درآمد کے فیصلے کریں گی۔

یہ عمل اچھا ہے جس کی تعریف کی گئی لیکن حیرت تو اس پر ہے کہ اب سانحہ پشاور کے بعد ایئرپورٹ والوں کو خیال آیا ہے، اس سے پہلے یہ سو رہے تھے، اگر حفاظتی انتظامات میں کوئی کمی تھی تو اسے پہلے ہی دور کر لینا چاہیے تھا، اب جس وقت دہشت گرد آپریشن ضرب عضب کی کامیابی سے بوکھلا چکے ہیں اور اوچھے ہتھکنڈوں پر اتر آئے ہیں تو ان کو بھی خیال آ گیا ہے، بہرحال اگر ایسی درخواست کی گئی یا توجہ دلائی گئی تو اس پر فی الفور غور ہونا چاہیے، صرف کراچی ہی نہیں ملک کے تمام ہوائی اڈوں کے حفاظتی انتظامات پر نظرثانی ہونا ضروری ہے، اب چونکہ پارلیمانی کمیٹی کام شروع کر چکی ہے تو اسے یہ مسئلہ بھی زیر غور لانا چاہیے کہ ہوائی اڈوں کی اہمیت اپنی جگہ پشاور اور کراچی پر وار ہو چکا ہوا ہے اور اب بھی ایسی اطلاعات ہیں کہ دہشت گرد اہم مقامات اور تنصیبات کو نشانہ بنانے کا ارادہ رکھتے ہیں اس سلسلے میں وفاقی اداروں کی ذمہ داری جو ہے سو ہے صوبائی حکومتوں کو بھی اپنی ذمہ داری نبھانا چاہیے۔ توقع ہے کہ اس پر فوراً غور اور عمل ہوگا۔

مزید : اداریہ