یونین کونسل 41میں ایک ماہ سے پانی بند

یونین کونسل 41میں ایک ماہ سے پانی بند

                                      لاہور(سروے رپورٹ: صبغت اللہ چودھری، تصاویر: ذیشان منیر)ہربنس پورہ یو سی41 کے مین بازارمیں سیوریج کا کام رہائشیوں کیلئے ایک عذاب کی شکل اختیار کر گیا ہے ، واسا کی نا اہلی اور ٹھیکیدار کی ہٹ دھرمی کے باعث اہل علاقہ کا پانی ایک ماہ سے بند ہے جبکہ گھروں میں بزرگ نمازی اور دیگر افرادباتھ روم استعمال کرنے اور وضو کرنے سے محروم ہیں، عرصہ ڈیڑھ سال سے زیر التواءسڑک کی تعمیر سیوریج کے آخری مرحلے میں آکر مبینہ طور پر متعلقہ محکموں اور ٹھیکیداروں کی لڑائی کی بھینٹ چڑھ گئی اورگنجان آبادی والے علاقے کے سینکڑوں گھروںکے ہزاروں مکینوں کو سرکاری اہلکاروں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا جن کا کوئی پرسان حال نہیں اس علاقے سے منتخب ہونیوالے قومی نمائندوں نے بھی الیکشن میں ووٹ لینے کے بعد یہاں کا رخ نہیں کیا۔اہل علاقہ کے مطابق ٹھیکیدار کی غفلت اور مبینہ بد نیتی کے باعث مین ہول میں مطلوبہ سائز سے چھوٹا پائپ ڈالنے کے باعث سارا مسئلہ خراب ہوا جسے ٹھیک کرنے کیلئے ایک ماہ سے رہائشیوں کا پانی بند ہے جبکہ زیر زمین پائیوں کی لیکیج سے پانی گھروں کی بنیادوں کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا رہا ہے۔مین بازار کی کھدائی اور نکاسی آب نہ ہونے کے باعث علاقہ نہایت پسماندہ کچی آبادی کا منظر پیش کر رہا ہے ، ابلتے گٹر اور گندگی کے ڈھیر دیکھ کر یوں معلوم ہوتا ہے کہ کسی سیاسی نمائندے اور انتظامیہ کی نظر کرم ابھی تک یہاں نہیں پڑی گزشتہ روز کئے جانیوالے ”پاکستان سروے“ میں مقامی رہائشیوں نے شکایات کے انبار لگا دیئے ، لوگوں نے یہاں سے منتخب عوامی نمائندوں کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا اور اپنے سیاسی نمائندوں کیخلاف شدید نعرے بازی کی۔ شہریوں کا کہنا تھا کہ الیکشن کے دوران بلند و بانگ دعوے کرنیوالے سیاستدانوں نے جیتنے کے بعد کبھی اس علاقے کی جانب مڑ کر نہیں دیکھا، ان نام نہاد عوامی نمائندوں کو لوگوں کی مشکلات سے کوئی غرض نہیں۔ زیر تعمیر سڑک اور غلط سیوریج ڈالنے کے حوالے سے تفصیلات بتاتے ہوئے مقامی رہائشی محمد منیر ، بابا احمد علی، محمد شریف، اللہ رکھا، محمد رفیق، محمد طارق، شیخ انعام الٰہی، محمد ذوالفقار پیپو، محمد رشید دوکاندار، رحمان رشید و دیگر نے بتایا کہ واسا کے ٹھیکیدار شفاقت علی نے جان بوجھکر مطلوبہ سائز سے چھوٹا پائپ ڈال دیا جو افتخار پارک کے پاس واقع مین ہول سے باہر ہے اور یہی مین ہول سڑک کے پورے منصوبے کی راہ میں رکاوٹ اور اہل علاقہ کیلئے اذیت کا باعث بنا ہوا ہے ۔پیپلز پارٹی پی پی 145 کے صدر میاں سیف الرحمن نے کہا کہ ساری خرابی ٹھیکیدار کی بد نیتی کے باعث ہوئی ہے جو حیلے بہانوں سے مسئلے کو لٹکا رہا ہے ، اصل بات یہ ہے کہ ٹھیکدار کے فنڈز ریلیز نہیں ہو رہے جس کی سزا اہل علاقہ کو دی جا رہی ہے ”پاکستان سروے“ میں لوگوں نے مزید بتایا کہ مین بازار کی تعمیر عرصہ دو سال سے التواءکا شکار ہے اور خدا خدا کر کے اس کی باری آ گئی تھی جو واسا اور اسکے ٹھیکیدار کی نا اہلی کی بھینٹ چڑ گئی ہے ۔ شہریوں نے ٹھیکیدار پر الزام عائد کیا کہ محکمہ خزانہ اور دیگر متعلقہ محکموںسے بروقت فنڈز ریلیز نہ ہونے اور وہاں کے متعلقہ اکاﺅنٹ افسر سے مالی تنازع کے باعث ٹھیکیدار نے جان بوجھ کر معاملہ خراب کیا ہے ۔ رہائشیوں نے حلقہ ایم این اے شیخ روحیل اصغر اور ایم پی اے وحید گل سے معاملے کا نوٹس لینے اور علاقے کے مسائل حل کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

مزید : میٹروپولیٹن 1