قتال کی باتیں کرنیوالے بے گناہ بچوں کے قتل کے ذمہ دار ہیں ، ارحم سلیم قادری

قتال کی باتیں کرنیوالے بے گناہ بچوں کے قتل کے ذمہ دار ہیں ، ارحم سلیم قادری

لاہور(جنرل رپورٹر) حکمران دہشت گردوں سے ڈرتے رہیں گے تو قوم کے بچے مرتے رہیں گے قتال کی باتیں کرنے والے بے گناہ بچوں کے قتل کے ذمہ دار ہیں۔ حکومت دہشت گردوں کے حامی مذہبی راہنماؤں کو بے نقاب کرے سانحۂ پشاور کے ماسٹر مائنڈ بدترین انجام سے بچ نہیں سکتے سانحۂ پشاور نے قوم کو متحد کر دیا ہے دہشت گردوں کی کارروائیوں کے جواز پیش کرنے والے مذہبی راہنما قوم پر رحم کریں لال مسجد کے خطیب مولوی عبدالعزیز کا سانحۂ پشاور کا جواز پیش کرنااور واقعہ کی مذمت نہ کرنا قابل مذمت ہے۔ مولوی عبدالعزیز کو د داعش کی حمایت کرنے پر گرفتار کیا جائے ، دہشت گردوں کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کا وقت آ گیا ہے۔ حکومت نے اب بھی کچھ نہ کیا تو یہ ایک المیہ ہو گا ان خیالات کا اظہار انہوں نے سانحہ پشاور کے شہدائے کیلئے تعزیتی ریفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا انہوں نے کہا حکومت ملک بھر میں دہشت گردوں کے ٹھکانے اور پناہ گاہیں مسمار کرے اور دہشت گردوں کے مددگاروں کے خلاف بھی ملک بھر میں آپریشن کیا جائے قوم طالبان کی حامی مذہبی جماعتوں کا بائیکاٹ کرے۔ دہشت گردوں کے لیے نرم گوشہ رکھنے والے اپنی سوچیں تبدیل کریں بے گناہ بچوں کو مارنے والے دہشت گرد وحشی درندے ہیں۔

۔

لعل مسجد آج بھی کالدم جماعتوں ،داعش،اور طالبان کا ہیڈ کواٹر بنا ہوا ہے،لعل مسجد والوں بھی ہمارے بچوں کے قتل میں برابر کے شریک ہیں ،مولوی عبدالعزیز جسے آستین کے سانپوں سے نمٹانا ضروری ہو گیا ،جوظلم اور بربریت کا اخلاقی اور سیاسی جواز پیش کر رہے ہیں ،دہشت گردوں کو سپورٹ کرنے والا اسلام کے قلب میں بٹھا کر ریاستی اداروں اور عدلیہ کو منہ چڑا رہا ہے،ہر چوک اور چورائے پر دہشت گردوں پھانسی پر لٹکایا جائے، علاوہ ازاں انجمن طلبہ اسلام کے مرکزی صدر ارحم سلیم قادری کی ہدایت پر اے ٹی آئی نے ملک بھر میں ’’یوم دعا‘‘ منایا۔ اس سلسلہ میں اہلسنّت کی تین لاکھ مساجد میں سانحۂ پشاور کے خلاف مذمتی قراردادیں منظور کی جائیں گی اور علمائے اہلسنّت طالبان کے گمراہ کن فلسفۂ جہاد کے خلاف خطباتِ جمعہ دئیے جبکہ نماز جمعہ کے بعد ہر مسجد میں شہداء کے لیے قرآن خوانی اور مظاہرے بھی کیے گئے۔ یوم دعا کے موقع پر اہلسنّت کی مساجد میں نمازیوں سے دہشت گردوں کی مزاحمت کا حلف بھی لیا گیا

مزید : میٹروپولیٹن 1