بچوں اور عورتوں کا قتل کرنیوالے خارجیوں کا جہاد سے کوئی تعلق نہیں، حافظ سعید

بچوں اور عورتوں کا قتل کرنیوالے خارجیوں کا جہاد سے کوئی تعلق نہیں، حافظ سعید

لاہور( سٹاف رپورٹر)جماعۃالدعو ۃ کی اپیل پر علماء کرام اور خطباء حضرات کی جانب سے خطبات جمعہ میں پشاور میں ہونیو الی بدترین دہشت گردی کو موضوع بنایا گیااورحکومت پاکستان سے اس امر کا مطالبہ کیا گیا ہے کہ معصوم بچوں کا خون بہانے والے دہشت گردوں کو جلد از جلد کیفرکردار تک پہنچایا جائے۔بچوں و عورتوں کا قتل اور انہیں زندہ جلانے والے خارجیوں کا جہاد سے کوئی تعلق نہیں ۔ یہ درندے غیر ملکی قوتوں کے ایجنڈے کو پروان چڑھا رہے ہیں۔پھانسی کی سزاؤں پر فوری عمل درآمد کی ضرورت ہے۔ صوبائی دارالحکومت لاہور سمیت پانچوں صوبوں وآزاد کشمیر کی مساجد میں نماز جمعہ کے اجتماعات میں سانحہ پشاور میں شہید ہونے والے بچوں کے لواحقین سے یکجہتی کا اظہار کیا گیا، شہداء کی غائبانہ نماز جنازہ ادا کی گئی اورملکی سلامتی و استحکام اور شہداء کے درجات کی بلندی کیلئے خصوصی دعائیں کی گئیں۔ خطبات جمعہ میں دہشت گردوں کے ہاتھوں بچوں کے قتل عام کے تذکرہ پرنماز جمعہ کے اجتماعات میں شریک افراد زارو قطار روتے رہے۔ اس موقع پر زبردست جذباتی مناظر دیکھنے میں آئے۔ جماعۃالدعوۃ پاکستان کے امیر پروفیسر حافظ محمد سعید نے پشاور میں ہونے والی دہشت گردی کو قومی سانحہ قرار دیا اور کہا کہ معصوم بچوں کا خون بہانے والے اسلام کی خدمت نہیں کر رہے بلکہ بیرونی قوتوں کے ہاتھوں میں کھیل کر اسلام اور جہاد کی بدنامی کا باعث بن رہے ہیں۔ حکومت کی طرف سے قاتلوں اور دہشت گردوں کو جلد پھانسیاں دینی چاہئیں۔نفاذ شریعت کے نام پر معصوم بچوں کا قتل کرنے والے خارجیوں کو دنیا کے سامنے بے نقاب کرنا بہت ضروری ہے۔ انہوں نے کہاکہ معصوم بچوں نے شہادتیں پیش کر کے دہشت گردوں کو یہ پیغام دیا ہے کہ پاکستانی قوم ان کے سامنے جھکنے والی نہیں ہے ۔ جس طرح ان ظالموں نے معصوم بچوں اور عورتوں کو چن چن کر نشانہ بنایا ہے تاریخ میں اس بدترین دہشت گردی کی مثال نہیں ملتی،یہ انسان نہیں درندے ہیں جو اسلام اور جہاد کا نام استعما ل کر کے فساد پھیلا رہے ہیں ۔

مزید : صفحہ آخر