علماء کے وفد سے مولانا مجاہد الحسینی اور مولانا محمد زاہد کا خطاب

علماء کے وفد سے مولانا مجاہد الحسینی اور مولانا محمد زاہد کا خطاب
 علماء کے وفد سے مولانا مجاہد الحسینی اور مولانا محمد زاہد کا خطاب

  



پاکستان کی مختلف درس گاہوں کے طلباء دینی و علمی معلومات کے سلسلے میں مختلف دارالعلوموں کے معائنے اور عظیم دینی و ملی شخصیات سے ملاقات و زیارت کا اہتمام کر رہے ہیں، چنانچہ جامعتہ الرشید کراچی کے دورۂ حدیث شریف مکمل کرنے والے چالیس علمائے کرام کے ایک وفد نے جامعہ امدادیہ فیصل آباد کا دورہ کیا، وہاں بعد نمازِ مغرب دارالحدیث میں جامعتہ الرشید کراچی اور جامعہ امداد یہ فیصل آباد کے طلباء کا عظیم اجتماع ہوا جس میں ممتاز عالمِ دین دارالعلوم ڈا بھیل (انڈیا) کی مستند شخصیت علامہ مجاہد الحسینی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عالم اسلام کی نامور دینی درسگاہ جامعتہ الرشید کے طلباء نے دورۂ حدیث شریف کی تکمیل کا اعزاز پانے کے بعد اجازت حدیث شریف کی خاطر طویل سفر کی زحمت برداشت کی ہے۔ اہل فیصل آباد اور جامعہ امدادیہ کی جانب سے آپ حضرات کو ’’اہلاً و سہلاً‘‘ کہتا ہوں، یہ ایک مستحسن روایت ہے جس کے لئے ’’جامعتہ الرشید‘‘ مبارک باد کی مستحق ہے۔ مولانا مجاہد الحسینی نے خطاب میں فرمایا کہ آپ حضرات خوش نصیب ہیں کہ حصولِ علم کی خاطر آپ کو اپنے اسلاف، محدثین و فقہاء کی طرح دشوار گزار پیدل سفر کا صبر آزما اور مشکل مرحلہ در پیش نہیں ہے، ہمارے اسلاف ایک ایک حدیث شریف کے حصول اور تحقیق کے لئے کئی کئی منزلیں پیدل سفر کی مشقت برداشت کیا کرتے تھے۔ اس زمانے میں دور حاضر کا میڈیا، اخبارات، مطبوعات کے لئے پریس حتیٰ کہ کاغذ تک دستیاب نہیں تھا۔ ان بزرگوں کی تصانیف کئی کئی جلدوں پر محیط ہوتی تھیں جو اپنے ہاتھ سے لکھی ہوتیں، ان کے مخطوطے دیکھ کر حیرت ہوتی ہے کہ انہوں نے کس قدر محنت شاقہ کے بعد احادیث مبارکہ کا علمی ذخیرہ ہمارے سپرد کیا ہے۔

مولانا مجاہد الحسینی نے دینی مدارس کے موجودہ نصاب کے حوالے سے کہا کہ یہ نصاب عصری تقاضے کے مطابق نہیں ہے، ہمارے دینی مدارس کے نصاب کو حکومتی سکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں کے نصاب سے ہم آہنگ کرنے کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ اس نصاب میں قرآن کریم کی ایسی مفصل تفسیر جس میں قدیم اقوام کا تعارف اور محل وقوع شامل ہو، سیرت النبیؐ کامل، تاریخ اسلام، جغرافیہ عالم اور اسلامی تحریکوں پر مشتمل کتب شامل کرنے کا ہے، باطل فتنوں اور اسلام دشمن طاقتوں کی سازشوں کی بابت ہمارے اسلاف کی تصانیف میں جو معلومات فراہم کی گئی ہیں، ان سے مکمل آگاہی کی ضرورت ہے، نیز دیتی مدارس سے فراغت پانے والوں کی تربیت کا بھی اہتمام ہونا چاہئے تاکہ اچھے مدرس، خطیب، ماہر مصنفین اور اہل قلم کی ایک جماعت تیار ہو سکے۔ علماء کرام کو میڈیا، اخبارات، ٹیلی ویژن، ریڈیو اور اشاعتی اداروں کا مشاہدہ کرانا چاہئے تاکہ انہیں معلوم ہو سکے کہ اخبارات و رسائل اور کتب کیسے طبع ہوتی ہیں، اس سے تصنیف و تالیف کا ذوق و شوق رکھنے والے علماء و طلباء صحیح طور پر استفادہ کر سکیں گے۔ مولانا مجاہد الحسینی نے اپنے تعلیمی سفر اور اپنے اساتذہ کرام کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ ابتدائی تعلیم اپنے شہر سلطانپور لودھی ریاست کپورتھلہ میں حاصل کرنے کے بعد خیر المدارس جالندھر میں داخل ہوا، وہاں استاد العلماء مولانا خیر محمدؒ مہتمم خیر المدارس، مولانا محمد عبداللہ رائے پوریؒ مولانا مشتاق احمد شہید ہوشیارپوریؒ مولانا عبدالشکوری بہبودیؒ مولانا محمد شریف جالندھریؒ سے اکتساب فیض کے بعد 1943ء کو دارالعلوم دیوبند میں حاضر ہوا۔

ان دنوں شیخ الاسلام مولانا سید حسین احمد مدنی مراد آباد جیل میں قید تھے تو مولانا مفتی محمد شفیع کے حسب ارشاد دارالعلوم ڈابھیل ضلع سورت چلا گیا، وہاں شیخ الاسلام علامہ شبیر احمد عثمانی، مولانا شمس الحق افغانی، مولانا ظفر احمد عثمانی، مولانا مفتی محمد شفیع، مولانا محمد مسلم دیوبندیؒ ، مولانا عبدالجبار اعظمیؒ اور مولانا احمد نورؒ جیسی عظیم المرتبہ دینی شخصیات سے اکتساب فیض کی سعادت نصیب ہوئی چنانچہ 1944ء کو دارالعلوم ڈابھیل سے مستند ہو کر اپنے گھر آ گیا اور استاد مکرم و محترم مولانا خیر محمد جالندھری کے حسبِ ارشاد خیر المدارس جالندھر میں 1945ء کو ابتدای تعلیم اور طلباء کو تصنیف و تالیف اور خطاطی کی تعلیم و تربیت کا استاد مقرر ہو گیا، جب تحریک آزادئ ہند خوب ہمہ گیر ہو گئی تو ہندو مسلم فسادات برپا ہونے لگے۔ حالات کی نزاکت کے پیش نظر سلطانپور میں واپس آکر اپنی تعلیمی درسگاہ میں صدر مدرس مقرر ہو گیا تھا، بعد ازیں تقسیم ہند کے اعلان کے ساتھ مسلم مملکت پاکستان معرض وجود میں آ گئی تو خونریز فسادات نے مشرقی پنجاب کو اپنی لپیٹ میں لے لیا اور مسلمانوں کو اپنا وطن چھوڑ کر پاکستان چلے جانے پر مجبور کر دیا گیا تھا، چنانچہ ہم لرزہ خیز حالات میں اپنے عزیز و اقارب کی لاشیں چھوڑ کر پاکستان میں آ گئے۔ یہاں آ کر مَیں نے شعبۂ صحافت میں قدم رکھا اور 1951ء کو روزنامہ آزاد کا ایڈیٹر مقرر ہوا، 1953ء کی تحریک ختم نبوت میں روزنامہ آزاد جبراً بند کر دیا گیا اور مجھے ایک سال کے لئے جیل میں قید کر دیا گیا۔

امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ ، مولانا ابوالحسنات محمد احمد قادریؒ ، مولانا عبدالحامد بدایونی، ماسٹر تاج الدین انصاریؒ ، شیخ حسام الدینؒ ، مولانا محمد علی جالندھریؒ شیخ النفسیر مولانا احمد علی لاہوریؒ اور دیگر بزرگوں کے ساتھ ایک سال کی قید سے رہائی کے بعد نوائے پاکستان اور خدام الدین لاہور کی ادارت میرے سپرد ہو گئی، بعد ازیں اللہ نے کئی کتب کی تصنیف و اشاعت کی توفیق دی۔ سیرت النبیؐ کے موضوع پر تین کتابیں چھپ چکی ہیں، چوتھی زیر تصنیف ہے، ان میں سے ایک کتاب پر اول صدارتی ایوارڈ بھی ملا ہے، تحدیثِ نعمت کے طور پر یہ تذکرہ آ گیا ہے، اللہ تعالیٰ قرآن کریم کی تفسیر اور سیرت النبیؐ کے مقدس عنوان سے مزید کتب شائع کرنے کی توفیق سے نوازے۔ آمین۔ مولانا مجاہد الحسینی کے بعد جامعہ امدادیہ کے نائب مہتمم مولنا زاہد نے جامعتہ الرشید کراچی کی طرف سے دورۂ حدیث کی تکمیل پر جامعہ امدادیہ کے معائنے اور اسلاف سے اکتساب فیض کرنے والی بزرگ شخصیت مولانا مجاہد الحسینی اور دیگر اساتذہ سے سند حدیث شریف کی اجازت کے سلسلے میں اہتمام کا شکریہ ادا کرتے ہوئے خیر مقدم کیا۔ پھر مولانا مجاہد الحسینی اور مولنا محمد زاہد نے اسلاف کے طریق کار کے مطابق طلباء سے حدیث شریف سن کر جامعتہ الرشید اور جامعہ امدادیہ کے طلباء کو سند حدیث شریف عطا کرنے کا اعزاز حاصل کیا، آخر میں دعا کے بعد جامعہ مسجد ٹیکنیکل ہائی سکول متصل ڈی گراؤنڈ میں کراچی کے علمائے کرام کے اعزاز میں گائے سوپ انڈسٹریز کے حاجی اظہر اقبال نے پر تکلف عشایئے کا اہتمام کیا تھا، یہ بابرکت تقریب فیصل آباد کی تاریخ میں منفرد خصوصیات کی حامل تھی۔

مزید : کالم