جج سے وکلاء کی بدتمیزی کا ایک اور واقعہ

جج سے وکلاء کی بدتمیزی کا ایک اور واقعہ

یہ امر افسوسناک ہے کہ فاضل ججوں کے ساتھ وکلاء کی بدتمیزی کے واقعات میں اضافہ ہوگیا ہے اور آئے روز ججوں کے چیمبر اور کمرہء عدالت میں فریقین کے ایک دوسرے پر الزامات عائد کرنے سے لے کر بد زبانی ہونے لگی ہے، گزشتہ روز بھی اسلام آباد ہائی کورٹ کے مسٹر جسٹس شوکت عزیز صدیقی کے ساتھ چند وکلاء نے مکان پر قبضے کے ایک مقدمے کی سماعت کے دوران بد تہذیبی کی تو فاضل جج نے دو وکلاء سہیل احمد اور مشتاق گل باز کے لائسنس کی معطلی کرنے کے لئے شوکاز نوٹس جاری کرنے کا حکم دیا، جبکہ وکیل سہیل احمد کو عدالت میں گرفتار کرادیا، تاہم جب وکلاء نے ہنگامہ کیا اور چیمبر میں فاضل جج کے ساتھ بات چیت کے ذریعے معاملہ رفع دفع کرایا تو وکیل کو رہا کردیا گیا۔ ہائی کورٹ کے جج سے توہین آمیز رویہ اختیار کرنے کا یہ پہلا واقعہ نہیں ہوا، گزشتہ چند برسوں سے یہ ہورہا ہے کہ سول جج سے لے کر ہائی کورٹ کے چیف جسٹس تک وکلاء کے توہین آمیز رویے کی شکایت کررہے ہیں، اس معاملے میں تیسرا فریق سائلین کا ہے۔ عموماً جج اور وکلاء کے تنازعے میں وکلاء برادری مقامی سطح سے لے کر پورے صوبے میں ہڑتال کر دیتی ہے، جس کی وجہ سے سائلین کو سخت پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ججوں اور وکلاء کے مابین نا خوشگوار واقعات کی وجہ سے وکلاء برادری کا امیج بری طرح متاثر ہورہا ہے، اس حوالے سے اعلیٰ عدلیہ کے چیف جسٹس صاحبان کے ساتھ ساتھ سینئر وکلاء بھی سخت تشویش کا اظہار کرچکے ہیں لیکن ایسے نا خوشگوار واقعات میں کمی کی بجائے اضافہ ہوگیا ہے۔ بعض اوقات اعلیٰ عدلیہ کی طرف سے ماتحت ججوں کو تلقین کی جاتی ہے کہ وہ پوری جراء ت اور ایمان داری سے مقدمات کا فیصلہ کریں، المیہ یہ ہے کہ اب تک جتنے بھی نا خوشگوار واقعات ہوئے ہیں، ان میں توہین عدالت برداشت کرتے ہوئے عدالتی نظام کی فضا بہتر بنانے کے لئے سمجھوتے ہی کئے گئے ہیں، وکلاء نے خواتین ججوں کے ساتھ بھی بدتمیزی کی۔ گزشتہ روز ہی چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ سید منصور علی شاہ نے گجرات میں جوڈیشل کمپلیکس کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ججوں کو صورت حال کی پروا نہ کرتے ہوئے ایمانداری اور بلا خوف و خطر فیصلے کرنے کی تلقین کی ہے، سوال یہ ہے کہ جو ماحول پیدا ہوچکا ہے، اس میں جناب چیف جسٹس کی خواہش کس حد تک پوری کی جاسکتی ہے، فاضل چیف جسٹس نے وکلاء کو بھی یاد دلایا ہے کہ ان کی ہڑتالوں سے وکلاء برادری کا امیج تباہ ہوتا ہے اور اُن کے کلائنٹس بہت زیادہ متاثر ہوتے ہیں لیکن دانشمندی کی اس بات کو ماننے کے لئے وکلاء تیار نہیں ہوسکے۔ یہ بات کئی بار یاد دلائی جاچکی ہے کہ وکلاء پڑھے لکھے طبقے سے تعلق رکھتے ہیں۔ انصاف کے حصول میں وہ اہم کردار ادا کرتے ہیں لیکن جب قانون اور انصاف کی بات کرنے والے وکلاء خود قانون اور انصاف کی پرواہ نہ کرتے ہوئے ججوں (جن کے روبرو وکلاء انصاف حاصل کرنے کے لئے پیش ہوتے ہیں) سے بد سلوکی کرتے ہیں تو عام لوگوں کے ساتھ ساتھ اعلیٰ تعلیم یافتہ طبقہ بھی اظہار افسوس کرتا ہے، ضرورت اس بات کی ہے کہ اس افسوسناک صورت حال، جو تشویش ناک بنتی جارہی ہے، کا احساس کرتے ہوئے جج اور وکلاء باہمی افہام و تفہیم سے ماحول کو مزید پرا گندہ ہونے سے بچانے کے لئے ذمے دارانہ اور سنجیدہ رویہ اختیار کریں۔

مزید : رائے /اداریہ