مشترکہ معاشی منصوبوں سے پاک امریکہ تعلقات بہترہوسکتے ہیں:افتخار علی ملک

مشترکہ معاشی منصوبوں سے پاک امریکہ تعلقات بہترہوسکتے ہیں:افتخار علی ملک

لاہور(کامرس رپورٹر)پاک امریکا بزنس کونسل کے بانی چیئرمین اور نائب صدر سارک چیمبر افتخار علی ملک نے کہا ہے کہ پاکستان اور امریکہ کے درمیان مشترکہ معاشی منصوبے سے دونوں ملکوں کے مابین دیرپا اقتصادی تعلقات مزید مستحکم کئے جا سکتے ہیں اور ان سے پاکستان کو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بھی مدد ملے گی۔ منگل کو وفاقی ایوان ہائے صنعت و تجارت کے علاقائی دفتر میں امریکی سفیر ڈیوڈ ہیل کے ساتھ ملاقات کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے افتخار علی ملک نے کہا کہ امریکہ دو طرفہ سرمایہ کاری کے معاہدے میں مشکلات کو ختم اور ایک آزادانہ تجارتی معاہدہ (ایف ٹی اے) پر دستخط کرے اور پاکستان کو بھی بنگلہ دیش اور سری لنکا کی طرز پر ٹیکسٹائل کی برآمدات کیلئے ڈیوٹی میں رعایت دے۔

اور مارکیٹ تک رسائی کا پیکیج دیا جائے۔ امریکہ کے ساتھ دہشت گردی کے خلاف فرنٹ لائن ریاست کے طور پر بھی پاکستان کے لئے ایک حوصلہ افزا پیکج دیا جانا ضروری ہے۔ مزید یہ کہ امریکہ اقتصادی تعلقات کو مزید فروغ دینے کے لئے پاکستانی تاجروں اور برآمد کنندگان کے لئے ویزا پابندیوں کو نرم کرے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان امریکا کا دیرینہ دوست ملک ہے اور اسے دہشت گردی کے خلاف جنگ کے نتیجے میں اربوں ڈالر کے غیر معمولی اقتصادی نقصانات کا سامنا کرنا پڑا ہے جبکہ پاکستان اور امریکہ دہشت گردی کیخلاف جنگ میں اتحادی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سابق وزیر خارجہ ہیلیری کلنٹن نے اپنے آخری دورہ کے دوران ری کنسٹرکشن زونز کے قیام کا وعدہ کیا تھا جس پر ابھی تک عملدرآمد نہیں ہوا۔ افتخار علی ملک نے کہا کہ پاکستان جنوبی ایشیا میں تیز رفتار ترقی کرنے والے ملک کے طور پر ابھر رہا ہے اور امریکی کاروباری افراد کو اس سے فائدہ اٹھانا چاہیئے۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی دنیا کے تمام ممالک کے لئے ایک مشترکہ خطرہ ہے اور پاکستان کسی بھی ملک کے خلاف اپنی سرزمین کے استعمال کی اجازت نہیں دیتا، امریکہ کو محفوظ پناہ گزینوں کے غلط بیانیہ پر زور دینے کے بجائے دہشت گردی کے خطرے کے خاتمہ کیلئے پاکستان کے ساتھ مخلصانہ طور پر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان افغانستان میں امن اور استحکام چاہتا ہے کیونکہ کابل میں امن پورے خطے کے مفاد میں ہیاور 16 سال کے تجربات کے بعد یہ واضح ہے کہ افغانستان میں مستقل امن صرف پاکستان کی فعال شرکت کے ساتھ ایک جامع سیاسی عمل سے ممکن ہے اور اس مقصد کیلئے پاکستان افغانستان اور امریکہ کے ساتھ کام کرنے کے لئے تیار ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ پاکستان نے ہمیشہ پر امن طریقہ سے تمام مسائل کو حل کرنے کی ترجیح دی ہے جبکہ امریکہ کے پاس بھی افغانستان میں اپنے فوجیوں کیلئے سامان کی سپلائی کیلئے پاکستان کی سڑکیں استعمال کرنے کے سوا کوئی راستہ نہیں ہے۔ انہوں نے تجویز کیا کہ امریکہ اور پاکستان 2013 ء کے تجارت اور سرمایہ کاری پر مشترکہ ایکشن پلان پر تعاون کو بڑھائیں کیونکہ امریکہ پاکستان کی سب سے بڑی دو طرفہ برآمدی مارکیٹ اور غیر ملکی براہ راست سرمایہ کاری کا سب سے بڑا ذریعہ ہے انہوں نے کہا کہ تجارتی حجم کو بڑھانا دونوں ممالک کے مفاد میں ہو گا جوگزشتہ پانچ سالوں کے سے 5 ارب ڈالر کی سطح پر ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ ان طویل جنگوں کا کوئی فوجی حل نہیں ہے۔ افغانستان میں استحکام اور سلامتی کسی بھی ملک سے زیادہ پاکستان پاکستان کیلئے اہم ہے کیونکہ اس کے ساتھ ہماری طویل سرحد ہے اور ہم 27افغان پناہ گزینوں کی میزبانی کر رہے ہیں۔160اس موقع پر ایف پی سی سی آئی کے صدر زبیر طفیل، سینئر نائب صدر عامر عطا باجوہ ،فیڈریشن کے الیکشن میں یو بی جی کے صدارتی امیدوار غضنفر بلور، چیئرمین ڈپلومیٹک کمیٹی ملک سہیل حسین اور سابق صدر ایف پی سی سی آئی کے سربراہ زبیر احمد ملک بھی موجود تھے۔

مزید : کامرس