آل پاکستان ویمن چیمبرز صدور سمٹ اختتام پذیر

آل پاکستان ویمن چیمبرز صدور سمٹ اختتام پذیر

راولپنڈی (کامرس ڈیسک) راولپنڈی چیمبر آف کامرس کے زیر اہتمام دو روزہ آل پاکستان ویمن چیمبرز صدور سمٹ آج اختتام پذیر ہو گیا سمٹ میں اٹک، بہاولپور، مردان، اسلام آباد، کراچی، کوئٹہ لاہور ملتان اور پشاور سمیت17چیمبرز کی صدور نے شرکت کی اجلاس کے آخری روز صدر راولپنڈی چیمبر کامرس زاہد لطیف خان نے میڈیا بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ اکیس نکات پر مشتمل مشترکہ اعلامیہ جاری کر دیا گیا ہے۔ حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ تمام اہم وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے محکموں کی قائمہ اور مشاورتی کمیٹیوں میں بزنس ویمن کو مناسب نمائندگی دی جائے۔TDAPاور دوسرے اداروں کے تحت جانے والے تجارتی وفود اور بین الاقوامی نمائشوں میں شرکت کے لیے ویمن چیمبرز کو آسانیاں فراہم کرے ۔ اگلے مالی سال میں بزنس ویمن کے لیے مختصر مدت اور طویل مدت کے آسان قرضوں کی اسکیم جاری کی جائے خواتین کے لیے چھوٹے اور درمیانے درجے کی صنعت اور کاروبار کے لیے تین سے پانچ سال کی ٹیکس چھوٹ دی جائے۔ ویمن انٹر پرنیورز کے لیے سی پیک جیسے بڑے منصوبے میں شامل کیا جائے اور سہولتیں دی جائیں اور تمام ویمن چیمبرز میں کانفرنس اور آگاہی سمینارز کے ذریعے اس منصوبے کے بارے میں معلومات دی جائیں صدر زاہد لطیف نے کہا کہ مطالبہ بھی کیا گیا ہے کہ سکیورٹی ایکسچینج کمیشن کے دفاتر میں کمپنی یا اسٹارٹ اپ رجسٹریشن کے لیے سبک اور تیز طریقہ کار لایا جائے۔ ایف بی آر اور صوبائی محکموں میں ٹیکس امور پر خواتین کو درپیش مسائل ترجیح بنیاد پر حل کیے جائیں۔

تمام محکموں میں جنسی طور پر ہراساں کرنے کے ایکٹ 2010کو اس کی اصل روح کے مطابق لاگو کیا جائے۔تمام حکومتی محکموں سوشل سکیورٹی، ای او بی آئی ، ٹیکس ڈیپارٹمنٹ کو ہدایت جاری کی جائے کہ وہ ویمن انٹر پرنیورز کو سہولتیں دیں تاکہ وہ اپنا کاروبار میں توسیع لا سکیں

دو روزہ سمٹ میں پاکستان بھر سے سترہ ویمن چیمبرز کی صدور اور نمائندہ شخصیات نے شرکت کی زاہد لطیف خان نے مزید بتایا کہ راولپنڈی چیمبر کے لیے یہ اعزاز کی بات ہے کہ اس نے پہلی بار تمام ویمن چیمبرز کو اکھٹا کیا اور ان کو ایک پلیٹ فارم دیا انہوں نے کہا کہ ااس اجلاس

کا مقصد ویمن انٹر پرینیورز کو درپیش مسائل سے آگاہی اور ان کے حل کے لیے کوششیں تیز کرنا ہے تاکہ وہ آگے آئیں اور قومی دھارے میں شامل ہو کر ملکی معشیت میں اپنا کردار ادا کر سکیں، باہمی رابطوں کو بہتر بنا سکیں اور خواتین کو انٹر پرنیورشپ اور کاروبار کی طرف راغب کر سکیں نیز ملکی معاشی پالیسی میں اپنا نقطہ نظربھی پیش کر سکیں انہوں نے کہا کہ خواتین ہماری ملکی آبادی کا 51فی صد ہیں ضرورت اس امر کی ہے کہ ان کو قومی دھارے میں لایا جائے پڑوسی ممالک کے مقابلے میں پاکستان کی خواتین کا جی ڈی پی میں حصہ بہت ہی کم ہے ہماری خواتین تجارت کو بطور پیشہ اختیار کرکے معاشرے اور ملکی ترقی میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں صدر چیمبر نے کہا کہ راولپنڈی چیمبر خواتین کو با اختیار بنانے کے لیے کوشاں ہے اور سمجھتا ہے کہ کسی بھی معاشرے کی ترقی کا دارمدار خواتین کی ترقی اور فلاح بہبود کے بغیر ممکن نہیں اور خواتین کی ترقی کے بغیر معاشرہ اور ملک دونوں ترقی نہیں کر سکتے انہوں نے کہا کہ خواتین کو معاشرے میں بے پناہ مسائل کا سامنا ہے انہوں نے خواتین کو بااختیار بنانے کے حوالے سے راولپنڈی چیمبر کی ان کوششوں کا ذکر بھی کیا جس کے تحت گھریلو ہنر مند خواتین، اور ویمن انٹرپرینورز کو آگے لانا ہے جن میں بزنس ویمن انکیوبیشن سنٹر کا قیام اور دستکاریوں کی نمائش کے لیے مفت اسٹالز کی فراہمی شامل ہے

اس موقع پر گروپ لیڈر سہیل الطاف، سینئر نائب صدر ناصر مرزا، نائب صدر خالد فاروق قاضی، مجلس عاملہ کے اراکین، اور خواتین ممبران کی ایک کثیر تعداد بھی موجود تھی

تصویر کیپشن

راولپنڈی چیمبر آف کامرس کے صدر زاہد لطیف خان کا ویمن چیمبرز صدور کے اجلاس کے شرکا ء کے ساتھ گروپ فوٹو

مزید : کامرس