قلعہ کنہ ملتان میں پیپلز پارٹی کا پاور شو، جنوبی پنجاب، صوبہ بنانے کا اعلان!

قلعہ کنہ ملتان میں پیپلز پارٹی کا پاور شو، جنوبی پنجاب، صوبہ بنانے کا اعلان!

پیپلز پارٹی نے بالآخر جنوبی پنجاب کو الگ صوبہ کے سیاسی مطالبے کو فیصلہ کن جنگ میں بدلنے کا اعلان کر دیا ہے ملتان کے تاریخی قلعہ کہنہ ابن قاسم باغ سٹیڈیم میں ایک جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے نہ صرف یہ اعلان کیا بلکہ ایک مرتبہ پھر لاہور اور اپر پنجاب کے حصوں پر ترقیاتی بجٹ صرف کرنے کے حوالے سے صوبائی حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بھی بنایا اور رائیونڈ کو حکمرانوں کا تخت قرار دیتے ہوئے جنوبی پنجاب کی محرومیوں کا حساب لینے کا عندیہ بھی دیا۔ عمران خان کو مولانا سمیع الحق کا سیاسی وارث قرار دیتے ہوئے سخت لہجے میں انہیں سنایا کہ آنے والا میرا پہلا اور آپ کاآخری الیکشن ہو گا۔ بلاول بھٹو زرداری نے میاں شہباز شریف پر بھی بھر پور تنقید کی اور کہا کہ انہیں بھی اپنے گناہوں، ظلم، کرپشن اور ماڈل ٹاؤن کے 14 شہداء کے خون اور جنوبی پنجاب کی محرومیوں کا حساب دینا ہو گا انہوں نے کہا کہ ذوالفقار علی بھٹو بھی 1970 میں اس شہر میں آئے تھے اور گلی گلی محلہ محلہ پھر کر پارٹی کا پرچم بلند کیا تھا 50 سال پہلے ان کی قیادت میں پاکستانی سماج جاگا اور آج میں ان جیالوں کی تیسری نسل کی قیادت کے لئے آیا ہوں ان کا نمائندہ بن کر عوام کے حقوق کی حفاظت کروں گا انہوں نے اس موقعہ پر میاں نواز شریف پر بھی بھر پور تنقید کی کہ نظریاتی بننے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن ان کا نظریہ جنرل ضیاء الحق کی قبر پر کیا جانے والا عہد ہے جو پارلیمنٹ کو اتفاق فونڈری سمجھتے ہیں، ریموٹ کنٹرول سیاست کی اور ملک میں کسانوں کا قتل عام کیا، اب وقت آگیا ہے کہ جنوبی پنجاب کے کسانوں اور عوام کی محرومیوں کے لئے ایک صوبے کی جنگ لڑی جائے اور یہ عوام کی طاقت سے لڑی جائے گی سابق صدر مملکت اور پارٹی کے شریک چیئر مین آصف علی زرداری نے خاص طور پر سرائیگی میں خطاب کیا اور بتایا کہ میاں نواز شریف کو غلط پالیسیوں اور کرپشن کی بناء پر نکالا گیا اور اب وہ پوچھتے پھرتے ہیں کہ مجھے کیوں نکالا، آصف علی زرداری نے کہا کہ ان کی حکومت نے بی بی شہید کے بعد ملک کو بحرانوں سے نکالا بین الاقوامی قوتوں کے ساتھ بات چیت کی لیکن آج مسلم لیگ (ن) اور میاں نواز شریف کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے ہم 10 سال پیچھے چلے گئے ہیں انہوں نے سابق وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی کو ملتان کا بہادر لیڈر قرار دیا اور کہا انہوں نے جوانمردی سے عدالت کا حکم تسلیم کیا سابق وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی نے بھی اپنے خطاب میں حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ جو حکومت اپنا کورم پورا نہیں کر سکتی وہ مدت کیسے پوری کرے گی موجودہ حکمران خود اپنے آپ کو گرانے کے چکر میں ہیں عمران خان نیا پاکستان بنائیں اور نئی شادی کریں ہم پرانے پاکستان پر گزارہ کر لیں گے انہوں نے ملتان کے جلسہ کو ذوالفقار علی بھٹو اور محترمہ بے نظیر بھٹو کے جلسوں کے برابر قرار دیا۔ انہوں نے بھی سرائیکی صوبے کے قیام کے لئے مسائل بیان کیے اور کہا کہ یہ خطہ سخت پس ماندہ ہے اس لئے اسے فوراً علیحدہ صوبے کا درجہ دیا جائے تاکہ یہ اپنے وسائل سے ترقی کی طرف گامزن ہو سکے قبل ازیں سابق وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف نے بھی خطاب کیا اور کہا کہ پیپلز پارٹی کو کوئی ختم نہیں کر سکتا اور اگر کوئی اسے ختم کرنے کی باتیں کر رہا ہے تو وہ ملک و قوم کا دشمن ہے اپوزیشن لیڈر سید خورشید علی شاہ نے آصف علی زرداری اور سید یوسف رضا گیلانی کو سرائیکی صوبے کی قرار داد لانے پر مبارکباد دی اور اس تحریک کو اب صوبے بننے سے کوئی نہیں روک سکتا، پیپلز پارٹی جنوبی پنجاب کے صدر مخدوم احمد محمود نے عوام کو تخت لاہور سے جان چھوٹنے کی خوشخبری سنائی اور پیپلز پارٹی کو وفاق کی نمائندہ جماعت قرار دیا جلسے سے ملک بھر سے آئے ہوئے پارٹی رہنماؤں سمیت ملتان سے ڈاکٹر جاوید صدیقی، شوکت بسرا، عبدالقادر شاہین، خواجہ رضوان عالم سمیت دوسرے رہنماؤں نے بھی خطاب کیا قبل ازیں جلسہ گاہ میں پارٹی اور قیادت کے حق میں نعرے بازی ہوتی رہی اس جلسہ میں شہر سے زیادہ باہر سے لوگ لائے گئے تھے اس کو کامیاب بنانے میں مخدوم احمد محمود نے بنیادی کردار ادا کیا جنہوں نے خود بس چلا کر ایک بڑے قافلے کی قیادت کی تاہم پیپلز پارٹی اس جلسہ پر بھی بڑی خوش ہے، دیکھنا ہو گا کہ آئندہ انتخابات میں پیپلز پارٹی نے الگ صوبے کا جونعرہ اپنایاہے وہ انہیں کتنی سیاسی حمایت دے سکتا ہے۔

ادھر تحریک انصاف کے مرکزی رہنما مخدوم شاہ محمود قریشی نے 15 دسمبر کا دن اپنی جماعت کے لئے ایک یاد گار دن اور بہت بڑا امتحان قرار دیا ہے جس امتحان میں اللہ تعالیٰ نے ہمیں سرخرو کیا، عدالتی فیصلے کی روشنی میں پارٹی کے چیئر مین عمران خان کے صادق و امین ہونے پر عدالت عظمی نے مہر ثبت کر دی ہے اس فیصلہ سے ثابت ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ عمران خان سے ایک بہت بڑا کام لینا چاہتا ہے انہوں نے کہا کہ ہمیں کوشش کرنی چاہیے کہ ان کے شانہ بشانہ ملکی ترقی اور کرپشن کے خاتمہ کے لئے کام کریں تاکہ ایک بہتر اور صحت مند معاشرہ نئی نسل کو دے سکیں۔ انہوں نے کہا کہ عدالتی فیصلے سے قبل عمران خان کا موقف پوری قوم کے سامنے ہے انہوں نے کہا تھا کہ وہ عدالتی فیصلے کو تسلیم کریں گے اگر ان کے خلاف فیصلہ آیا تو وہ سیاست چھوڑ دیں گے۔ جہانگیر ترین کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں شاہ محمود قریشی نے کہا کہ وہ تحریک انصاف کا اثاثہ ہیں پارٹی کے لئے ان کی گراں قدر خدمات ہیں۔

دوسری طرف سینئر سیاستدان مخدوم جاوید ہاشمی نے کہا کہ عدلیہ کے فیصلے قوم کو کنفیوژ کر رہے ہیں سپریم کورٹ کا تقدس و احترام رہنا چاہیے لیکن اگر سپریم کورٹ کے کہنے پر اسمبلی توڑی گئی تو یہ جوڈیشل مارشل لاء تصور ہو گا ملک کے اندر بے چینی کی فضاء ہے، وزیر اعظم کو آرمی چیف اور چیف جسٹس سے مشورہ کر کے ملک کی موجودہ صورتحال پر بند کمرے میں آل پارٹیز کانفرنس بلانی چاہیے پاکستان کی بد قسمتی ہے کہ یہاں آئین کے آگے سر جھکانے والے پھر اس کو اپنے پاؤں تلے روند دیتے ہیں وارنٹ نکالنے والے آئین شکن بھگوڑے آمر پرویز مشرف کے وارنٹ بھی جاری کرنے کی ہمت کریں۔ ملتان پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے مخدوم جاوید ہاشمی نے کہا کہ چیف جسٹس نے راولپنڈی ائیر پورٹ پر میرے ہاتھ چومے تھے لیکن ان کی ہر بات کو مانا نہیں جا سکتا عدلیہ کے فیصلوں پر تنقید کا ہمیں حق ہے پیپلز پارٹی نے ملتان میں ایک اچھا جلسہ کیا ملک میں اس طرح کی سیاسی سرگرمیاں جاری رہنا چاہئیں انہوں نے کہا کہ میاں صاحب سے ملاقات میں میں نے حلقہ این اے 149 کی بات کی تھی جس پر انہوں نے کہا کہ وہ خود حلقے میں آکر ان کی انتخابی مہم چلائیں گے جاوید ہاشمی نے مزید کہا کہ 16 دسمبر پاکستان کی تاریخ کا سیاہ ترین دن ہے ہماری غلطیوں کی وجہ سے مشرقی پاکستان دو لخت ہوا۔

ملتان کے وکلاء نے اپنے مطالبات کے حق میں جلوس نکالا، جوڈیشل کمپلیکس پہنچنے پر مشتعل ہوگئے۔ توڑ پھوڑ کی، مقدمہ درج ہوا، وکلاء نے گرفتاریاں دیں، اب رہائی اور مطالبات پورے کرانے کے لئے دھرنا جاری ہے۔

مزید : ایڈیشن 1