ترکی میں قید جرمن صحافی کی رہائی کا عدالتی حکم

ترکی میں قید جرمن صحافی کی رہائی کا عدالتی حکم

انقرہ(این این آئی)ترکی کی ایک عدالت نے جیل میں قید جرمن خاتون صحافی میزالے تولو اور پانچ دیگر افراد کو رہا کرنے کا حکم دیا ہے۔ انہیں بائیں بازو کے ایک گروہ کا رکن ہونے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔میڈیارپورٹس کے مطابق تولو پر ’مارکسسٹ لیننسٹ کمیونسٹ پارٹی‘ کا رکن ہونے کا الزام ہے۔ اس گروہ پر ترکی میں پابندی عائد ہے اور ترک حکومت نے اسے دہشت گرد گروہ کا درجہ دیا ہوا ہے۔ ترکی میں جرمن صحافی کی حراست برلن اور انقرہ کے درمیان تناؤ کا باعث بنی رہی ہے۔جرمن صحافی تولو کی وکیل کیدر ٹونک نے بتایاکہ تولو کو جوڈیشل کنٹرول کے تحت رہائی کا حکم سنایا گیا ہے۔ تولو رہائی حاصل کرنے کے بعد بھی ہر ہفتے انتطامیہ کو رپورٹ کریں گی اور انہیں ترکی سے باہر سفر کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔

اس عدالتی حکم پر اپنا ردعمل دیتے ہوئے جرمن وزارت خارجہ کی ترجمان ماریا اڈیباہر کا کہنا تھا،’’ اس فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہیں، حتیٰ کہ تولو کے خلاف عدالتی کارروائی جاری رہے گی۔‘‘ تولو کا کیس ان مختلف متنازعہ معاملات میں سے ایک ہے جس کی وجہ سے گزشتہ چند ماہ میں نیٹو اتحادی ممالک ترکی اور جرمنی کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔

مزید : عالمی منظر