صوبائی دارالحکومت : لاوارث لاشوں کی تعداد میں تشویشناک اضافہ ، 490کی شناخت نہ ہو سکی

صوبائی دارالحکومت : لاوارث لاشوں کی تعداد میں تشویشناک اضافہ ، 490کی شناخت نہ ...

لا ہو ر (رپورٹ۔یو نس با ٹھ)صوبا ئی دارالحکومت میں لا وار ث لا شو ں کی تعداد میں تشو یش نا ک حد تک اضافہ ہو گیا ہے ۔ایک رپورٹ کے مطابق روا ں سا ل کے دوران 722سے زائد افراد پر اسرار طور پر ہلا ک ہوئے جن میں سے 490کی شنا خت نہیں ہو سکی ۔اس طر ح او سطاً شہر سے روزانہ 2 لا شیں مل رہی ہیں ۔ ان لا شو ں کے نا معلو م ہو نے پر نا معلو م افراد کے خلا ف ہی مقد ما ت درج کیے جا تے ہیں ۔ذرائع نے یہ بھی دعوی کیا ہے کہ بعض لا شوں کو ان کے ورثاء نہ ملنے پر مبینہ طور پر معمو لی رقم کے عوض ہسپتال کی انتظامیہ انھیں فروخت کر دیتی ہے اورتجر با ت کے لیے پرائیویٹ میڈ یکل کالجز انھیں لے جا تے ہیں۔تاہم مردہ خانے کی انتظامیہ نے اس با ت کی تصدیق نہیں کی۔ یہ لا شیں پو لیس اور ہسپتا ل انتظا میہ کی غفلت اور لا پروا ہی کی وجہ سے خرا ب ہو نے کے با عث قبر میں جگہ نہیں لے پا تیں۔ گل سڑ جا نے کی وجہ سے ایسی لا شو ں کو دریا برد تجر بات کے لیے میڈ یکل کا لجوں یا پھر مٹی کھو د کرغسل دیے بغیر ہی دفن کر دیا جا تا ہے ۔حا لا نکہ میا نی صا حب قبر ستا ن میں ایسی لا شو ں کی تد فین کے لیے جگہ مخصو ص کی گئی ہے ۔اور انھیں غسل دیکر اما نتاً دفن کیا جا نا چا ہیے ۔ اکثرپو لیس کو سڑ ک پر پڑ ی لا ش کے قر یب کپڑا بچھا کر تد فین کے بہا نے پیسے اکھٹے کرتے بھی دیکھا جا تا ہے ۔ شہر کے دو نو ں مر دہ خا نو ں میں اس وقت بھی 2درجن سے زائد لا شیں پڑ ی ہیں ۔جو بد بو دار اور نا قا بل شنا خت ہو چکی ہیں اوران کے پا س سے گزر نا بھی بہت مشکل ہے۔ انسا نیت کی یہ تزلیل حکمرا نو ں اور قا نو ن نا فذ کر نے وا لے اداروں کی کا رکر دگی پر سوا لیہ نشا ن ہے ۔ معلو م ہوا ہے کہ قا نو ن میں میں لا وارث لا ش کی تد فین کا با قا عد ہ طر یقہ کا ر وضع کیا گیا ہے ۔اور اس کے لیے با قا عدہ فنڈ نگ بھی کی جا تی ہے ۔مگر افسو س نا ک امر یہ ہے کہ پو لیس کو جب علا قے میں نا معلو م لا ش کی اطلا ع مو صو ل؛ ہو تی ہے ۔پہلے تو وہ اس لا ش کو فوراً اٹھا کر مرد ہ خا نے بھجوا نے کی بجھائے اسے اٹھاکر دو سر ے تھا نے کی حدود میں پھینک آتی ہے ۔ اگر وہ اٹھا بھی لے تو قا نو نی تقا ضے پو رے نہیں کے جا تے ۔ اور لاش کو مردہ خا نے بھجوا نے کے بعد پو لیس اس کو بھو ل جا تی ہے ۔ مرد ہ خا نے کی انتظا میہ انھیں با ر با ر فو ن اور وا ئر لیس پیغا م کے زریعے بلوا نے کی کو شش کر تی ہے مگر وہ بہت کم ہی پہنچتے ہیں ۔میو اور جنا ح ہسپتا ل کی مر دہ خا نے کی انتظا میہ کے مطا بق لا وارث لا شیں زیا دہ دیر تک ہسپتا ل کے فر یزر میں نہیں رکھی جا سکتیں ۔ انھیں وہ جو پو لیس اہلکار لے کر آتے ہیں تد فین کے لیے ان ہی کے حوالے کر دیتی ہے ۔

مزید : علاقائی