سابق وزیر قانون بشارت راجہ اور ان کے بھائی کو نوٹس

سابق وزیر قانون بشارت راجہ اور ان کے بھائی کو نوٹس

لاہور(نامہ نگار)فیملی عدالت نے سابق وزیر قانون محمد بشارت راجہ اور ان کے بھائی حامد نواز راجہ کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 13جنوری کو طلب کر لیاہے۔فیملی عدالت کی جج وجیہ خواجہ نے سابق رکن پنجاب اسمبلی سیمل راجہ کی جانب سے دائر استغاثہ کیس کی سماعت کرتے ہوئے بشارت راجہ کو مسلم فیملی لاز آرڈیننس 2016 ء کی دفعہ 5 کی خلاف ورزی کرتے ہوئے نکاح نامہ رجسٹر نہ کروانے پر طلب کیا،درخواست گزار نے موقف اختیار کیا کہ قیمتی طلائی زیورات مالیت اڑھائی کروڑ شوہر بشارت راجہ اور دیور حامد راجہ کے پاس ہیں واپس دلوائے جائیں،بشارت راجہ نے اپنی مطلقہ بیوی پری گل آغا اور بیٹے بہروز کمال کے ایماء پر گزشتہ 19 ماہ سے نکاح نامہ میں تحریر شدہ ماہانہ جیب خرچ مبلغ 3 لاکھ روپے ادا نہ کیا دلوایا جائے،شادی سے قبل شوہر بشارت راجہ اور انکی فیملی کی طرف سے یقین دہانی کروائی گئی کہ وہ اپنی مطلقہ زوجہ پری گل آغا کو 2012 ء میں زبانی طلاق ثلاثہ دے چکے ہیں، مگر انہوں نے جھوٹ بولا تھا ،مطلقہ پری گل آغا اور اس کے بیٹے بہروز کمال نے گزشتہ برس بشارت راجہ کے گھر میں ارادہ قتل سے بیہمانہ تشدد کا نشانہ بھی بنایا تھا جس کے علاج پر بھی خرچہ آیا تھا،درخواست گزار نے عدالت سے استدعا کی کہ بشارت راجہ کے خلاف مسلم فیملی لاز آرڈیننس 2016 ء کی دفعہ 5 کی خلاف ورزی کرتے ہوئے نکاح نامہ رجسٹر نہ کروانے پر بشارت راجہ کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔

مزید : علاقائی