سینیٹ کمیٹی کو آرمی چیف کی بریفنگ نے سیاسی یتیموں کی امید وں پر پانی پھیر دیا

سینیٹ کمیٹی کو آرمی چیف کی بریفنگ نے سیاسی یتیموں کی امید وں پر پانی پھیر دیا

تجزیہ : قدرت اللہ چودھری

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے جس انداز میں سینیٹ کی کمیٹی کو بریفنگ دی اور سوالات کا جس کشادہ دلی اور خندہ پیشانی سے جواب دیا، اس سے سیاسی فضا پر چھائے ہوئے گھنے بادل پوری طرح چھٹ گئے ہیں اور وہ شکوک و شبہات خس و خاشاک کی طرح بہہ گئے ہیں، جو ایک عرصے سے پوری منصوبہ بندی کے ساتھ مخصوص مقاصد کے تحت پھیلائے جا رہے تھے، اس بریفنگ نے سیاسی یتیموں کی امیدوں پر پانی پھیر دیا اور جو لوگ ہر چڑھتے دن کے ساتھ ایک نئی سازشی تھیوری لے کر بروئے کار آرہے تھے، وہ سوچ رہے ہیں اب ان کی خود ساختہ پیش گوئیوں کا کیا حشر ہوگا، ویسے تو ماضی میں بھی ہم ایسی در فنطنیوں کا حشر اپنی آنکھوں سے دیکھ چکے ہیں، لیکن نواز شریف کی نااہلی اور عمران خان کی تازہ ترین اہلیت کے تناظر میں ان تجزیہ کاروں کے نام نہاد تبصرے ایک نئی آب و تاب سے جلوہ گر ہو رہے تھے۔ بعض حضرات تو بزعم خویش اپنے آپ کو فوج کا ترجمان سمجھتے تھے اور اپنی کچی پکی دانش کے موتی رولنے سے پہلے اس قسم کا جملہ ضرور کہتے تھے، ’’فوج اس سے خوش نہیں ہے‘‘ یا ’’فوج اس بات کو پسند نہیں کرے گی‘‘ کسی معاملے کو رد کرنے کے لئے وہ عموماً یہ کہہ دیتے کہ فوج اسے اٹھا کر پھینک دے گی‘‘ اس طرح کے جملوں کا سہارا لینے والوں کو بھی اب سوچ لینا چاہئے کہ وہ ٹی وی چینلوں کے ذریعے جو سودا بیچ رہے تھے، کیا اب اس کا کوئی خریدار بھی ہوگا؟ حکومت سے سیاسی اختلاف رکھنا کوئی بری بات نہیں ہے اور اس کا اظہار بھی کرتے رہنا چاہئے، لیکن سیاسی اختلافات کے پردے میں خانہ ساز سازشی تھیوریوں کی تشکیل نے نہ ماضی میں کوئی اچھے نتائج پیدا کئے ہیں اور نہ ہی مستقبل میں ایسی کوئی امید رکھی جاسکتی ہے، ابھی زیادہ دن نہیں گزرے ایک سیاستدان یہ پیش گوئی کر رہے تھے کہ حکومت دسمبر میں چلی جائے گی، ایک دوسرے صاحب تو ہر مہینے حکومت جانے کی تاریخ دیتے ہیں اور جونہی کیلنڈر کا مہینہ بدلتا ہے وہ نئی تاریخ دے دیتے ہیں اور یہ پیش گوئیاں 2014ء سے تاحال جاری ہیں۔

آصف علی زرداری جیسے سیاستدان بھی یہ کہہ چکے ہیں کہ سینیٹ کے الیکشن سے پہلے (مارچ 2018ء) یہ حکومت چلی جائے گی۔ یہی بات ذرا سستے انداز میں یوں کہی جاتی ہے کہ مارچ میں کوئیک مارچ ہوگا۔ غالباً ایسی ہی پیش گوئیوں کا جواب دیتے ہوئے گزشتہ روز وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے قومی اخبارات کے ایڈیٹروں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ قومی اسمبلی نہیں توڑیں گے، اگر کسی کو میرا وزیراعظم رہنا پسند نہیں تو وہ میرے خلاف عدم اعتماد کی قرارداد لے آئے، یہ بھی ایک طرح سے ان پیش گوئیوں کا جواب تھا جو کسی طرح ختم ہونے میں نہیں آرہیں، لیکن اب آرمی چیف کی بریفنگ کے بعد ان ریٹائرڈ حضرات کا کیا بنے گا، جو ٹی وی چینلوں پر بیٹھ کر اپنی دانش لوگوں کے ذہنوں میں زبردستی ٹھونسنے کی کوشش کر رہے تھے۔ بعض سیاستدان بھی روزانہ قومی حکومت کا شوشہ چھوڑ دیتے ہیں، جن میں جنرل پرویز مشرف پیش پیش ہیں، جن کا خیال ہے کہ بھلے سے آئین میں کسی قومی حکومت کا کوئی تصور موجود نہیں، اس کے باوجود سپریم کورٹ ایسی حکومت کی اجازت دے دے گی۔ وہ صدارتی نظام کے بھی بڑے حامی ہیں۔ آرمی چیف نے اس سلسلے میں بھی ایسی صاف گوئی سے کام لیا ہے کہ آئندہ صدارتی نظام کی بحث کا سلسلہ بند ہوجانا چاہئے۔ آرمی چیف نے یہ بھی کہا کہ فوج کوئی ماورائے آئین کردار نہیں چاہتی اور وہی کردار ادا کرے گی جو آئین نے اس کے لئے متعین کر دیا ہے۔ پارلیمنٹ دفاع اور خارجہ پالیسی بنائے ہم اس پر عمل کریں گے۔

یہاں یہ بات اہم ہے کہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ چیئرمین سینیٹ رضا ربانی اور دوسرے سینیٹروں کی دعوت پر سینیٹ میں آئے تھے۔ سینیٹ کے وفد نے 18 نومبر کو جی ایچ کیو کا دورہ کیا تھا اور آرمی چیف سے دوران ملاقات استفسار کیا تھا کہ اگر انہیں سینیٹ میں آنے کی دعوت دی جائے تو کیا وہ آئیں گے جس کا انہوں نے مثبت جواب دیا تھا، جس کے بعد انہیں باقاعدہ دعوت دی گئی اور انہوں نے دوسرے آرمی حکام کے ساتھ ایک گھنٹے تک بریفنگ دی اور تین گھنٹے تک سوالوں کے جواب دئے، جس کا انتہائی خوشگوار اثر قومی زندگی اور قومی سیاست پر مرتب ہوگا۔ یہ پہلی مرتبہ ہے کہ کوئی آرمی چیف پارلیمنٹ ہاؤس میں بریفنگ کے لئے آئے ہیں۔ دوسری جانب سینیٹ نے وہ ترمیمی بل بھی منظور کرلیا ہے، جو قومی اسمبلی سے منظور ہوچکا تھا، لیکن سینیٹ کی منظوری باقی تھی اور بوجوہ اس میں تاخیر ہو رہی تھی، اب نئی حلقہ بندیوں کا کام جلد شروع ہوجائے گا۔ دیکھا جائے تو بروقت انتخابات میں اب کوئی بڑی رکاوٹ باقی نہیں رہ گئی اور جو لوگ کل تک یہ کہہ رہے تھے کہ انہیں انتخابات ہوتے نظر نہیں آرہے، اب انہیں یا تو اپنی رائے کو بدلنا ہوگا یا پھر کوئی نئی سازشی تھیوری سامنے لانا ہوگی۔

پانی پھیر دیا

مزید : تجزیہ