عمران خان کو کیوں سنبھالا؟

عمران خان کو کیوں سنبھالا؟
 عمران خان کو کیوں سنبھالا؟

  


عمران خان نااہلی کیس کا فیصلہ آیا تو اس کا پہلا شکار پاکستان پیپلز پارٹی ہوئی کیونکہ اس مقدمے سے جہاں عمران خان کو اُس عدلیہ سے صادق اور امین کا سرٹیفکیٹ ملا جس کے کردار کو وہ 2013کے عام انتخابات کے تناظر میں شرمناک قرار دے چکے تھے تو وہیں نواز شریف کو بھی ملک میں عدل کی بحالی کی تحریک کے اعلان کا جواز مل گیا۔

اس میں شک نہیں کہ محترمہ بے نظیر بھٹو کی اچانک شہادت سے پاکستانی سیاست میں متبادل قیادت کا بحران پیدا ہوگیا تھا لیکن افسوس یہ کہ اس خلا کو پاکستان پیپلز پارٹی پُر کرنے میں ناکام رہی اور نادیدہ قوتوں نے قیادت کے اس بحران کو سابق وزیر اعظم نواز شریف کی بلاجواز نااہلی کا بحران پیدا کرکے ختم کیا ہے ۔ ان نادیدہ قوتوں کو معلوم تھا کہ جاتی عمرہ میں بیٹھا ہوا نواز شریف وزیر اعظم ہاؤس میں بیٹھے ہوئے نواز شریف سے زیادہ خطرناک ہوگا لیکن اس کے باوجود کلہاڑا چلا یا گیا اور کلہاڑا بھی ایسا کہ عمران خان کے اہل قرار پانے سے جنرل مشرف بھی پاکستانی سیاست سے فارغ ہوگئے ۔

سپریم کورٹ نے جب عمران خان کو اہل قرار دیا تو اس وقت عمران خان سندھ اور بلاول بھٹو جنوبی پنجاب کے محاذوں پر مورچہ بند تھے ، ایسا لگتا ہے کہ عمران خان مرکزی پنجاب میں ہار کر سندھ سمیت سارا پاکستان جیت لیں گے اور بلاول بھٹو مرکزی پنجاب میں ہار کر جنوبی پنجاب سمیت سارا پاکستان جیت لیں گے اور یوں نون لیگ محض سنٹرل پنجاب تک محدود ہو کر رہ جائے گی اور ایک ایسی معلق پارلیمنٹ وجود میں آئے گی جس میں نادیدہ قوتیں مرضی کا کھیل رچا سکیں گی۔

سپریم کورٹ کا فیصلہ جیسا بھی ہے ، سپریم کورٹ کا فیصلہ ہے ، عوام اسے درست سمجھیں یا غلط قانون اسے صحیح تسلیم کرتا ہے تا آنکہ کوئی اسے قانون ہی کا سہار لے کر غلط ثابت نہ کر دے وگرنہ جس فیصلے کو قانون مانتا ہے اسے کوئی لاکھ جھٹلائے ، بے معنی ہوتا ہے۔ اس فیصلے سے عمران خان سیاسی طور پر مضبوط ہوئے ہیں ، انہیں کرپشن فری لیڈر کی سند سپریم کورٹ سے مل گئی ہے ، وہ عدلیہ کے کردار کو شرمناک قرار دیتے نہ تھکتے تھے اور سپریم کورٹ انہیں کیریکٹر سرٹیفکیٹ دیتی نہیں تھک رہی ہے اور کرپشن منہ بسورے کھڑی ہے کہ سپریم کورٹ اسے نہ تو نواز شریف کے سر تھوپ سکی اور نہ عمران خان کے، تھوپا تو بیچارے جہانگیر ترین پر جو پاکستان کے بڑے ٹیکس پیئرز میں سے ایک ہیں !

عدالتی دھکم پیل کا ہر کوئی ایک ہی نتیجہ نکال رہا ہے کہ شہباز شریف بچ گئے ہیں اور عمران خان سرخرو ہو گئے ہیں ، شہباز شریف کا مقابلہ نواز شریف سے تھا ، اب بدل کر عمران خان سے کردیا گیا ہے ۔ چیف جسٹس کہتے ہیں کہ انہوں نے فیصلہ دباؤ میں نہیں کیا ہے جبکہ اخبارات چیخ چہاڑا مچا رہے ہیں کہ اگلا الیکشن شہباز شریف اور عمران خان کے مابین ہوگا، فیصلے سے قبل نواز شریف کو مائنس کرنے کی بات عام تھی ، فیصلے نے اس بات میں وزن ڈال دیا ہے اور چیف جسٹس پھر بھی کہتے ہیں کہ فیصلہ دباؤ میں نہیں کیا گیا۔ اس سے قبل وہ یہ بھی کہہ چکے ہیں کہ حکومت اپنا کام نہ کرے گی تو ہمیں آنا پڑے گا اور ایک دوسری جگہ انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ ہم بھی حکومت ہی ہیں۔

جس طرح الطاف حسین مہاجر عوام میں ہوئے ہوں یا نہ ہوئے ہوں ، میڈیا پر مائنس ضرور ہو گئے ہیں اسی طرح نواز شریف کو بھی میڈیا پر مائنس کردیا گیا ہے ، فرق صرف یہ ہے کہ الطاف حسین کے بیان اور تصویر پر پابندی ہے اور نواز شریف پر ابھی نہیں ہے ۔

دیکھا جائے تو سپریم کورٹ سے عمران خان کی اہلیت ثابت ہونے پر پیپلز پارٹی نون لیگ کے ساتھ جا کھڑی ہوئی ہے ، ان کا مشترکہ موقف عمران خان کے اکیلے موقف کے مقابلے میں وزن رکھتا ہے ، اگر وہ دونوں جماعتیں بحالئی عدل تحریک کے پلیٹ فارم پر اکٹھی ہوگئیں تو عمران خان سپریم کورٹ کی حمائت کے باجود تنہا ہو جائیں گے ۔ اس وقت نواز شریف اکیلے پوچھ رہے ہیں کہ ’کیوں نکالا؟ ‘....لیکن اگر پیپلز پارٹی بھی ہمنوا ہوگئی تو دونوں سپریم کورٹ سے پوچھتے نظر آئیں گے کہ عمران خان کو ’کیوں سنبھالا؟‘

مزید : رائے /کالم