ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کا شجاع آباد جوڈیشل کمپلیکس کا دورہ،ترقیاتی کام کا جائزہ

ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کا شجاع آباد جوڈیشل کمپلیکس کا دورہ،ترقیاتی کام کا جائزہ

شجاع آباد،سکندر آباد(نمائندہ خصوصی+نمائندہ پاکستان)ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج امیر محمد خاں نے نئے جوڈیشل کمپلیکس کے معائنے پر ایکسین بلڈنگز کی سخت سرزنش کرتے ہوئے ٹھیکیدار اور ایکسین کو آج ملتان طلب کر لیا صدر بار رانا طفیل احمد نون بھی پہنچیں گے انہوں نے تعمیراتی کام میں انتہائی سست روی پر برہمی کا اظہار کیا اس موقعہ پر ایڈیشنل سیشن جج طارق محمود باجود، سول جج درجہ اول جمشید انور ، (بقیہ نمبر13صفحہ12پر )

سول جج مدثر نواز بھی ان کے ہمراہ تھے ، سیشن جج امیر محمد خاں نے کہا کہ جوڈیشل کمپلیکس 31دسمبر تک مکمل ہو جانا تھا میں 31 دسمبر سے آگے اجازت نہیں دے سکوں گا اگر 31 دسمبر تک تکمیل نہ ہوئی تو ٹھیکیدار اور ایکسین جواب دہ ہوں گے انہوں نے زیرتعمیر جوڈیشل کمپلیکس کا مکمل معائنہ کیا ان کے ہمراہ صدر بار رانا طفیل احمد نون ، جنرل سیکرٹری راؤ عامر لقمان، سابق صدر بار امام بخش خاں لنگاہ ، سردار عطا محمد خان ، ملک عابد کھاکھی ایڈوکیٹس بھی موجود تھے جنہوں نے ٹھیکیدار ، ایکسین کی سست روی بارے آگا ہ کرتے ہوئے کہا کہ جس طرح سست روی سے کام ہو رہا ہے یہ عمارت کئی ماہ تک مکمل ہوتی نظر نہیں آتی، سیشن جج امیر محمد خاں نے لائبریری، بار روم میں شیڈ لگانے اور 31 دسمبر تک دن رات شفٹ لگا کر کام مکمل کرنے کی ہدایت کی سابق صدر بار امام بخش خاں لنگاہ نے بتایا کہ میعاد کے مطابق جوڈیشل کمپلیکس 17۔ اگست 2016 ء تک مکمل کرنے کا معاہدہ تھا، ناقص میٹریل کی بھی شکایت کی گئی۔

مزید : ملتان صفحہ آخر