سی ڈی اے ریفرنڈم میں ایک سازش کے تحت مزدور یونین کو ہر یا گیا:چوہدری یٰسین

سی ڈی اے ریفرنڈم میں ایک سازش کے تحت مزدور یونین کو ہر یا گیا:چوہدری یٰسین

اسلام آباد ( سٹاف رپورٹر) سی ڈی اے مزدور یونین کے قائدین جنرل سیکرٹری چوہدری محمد یٰسین ،صدراورنگزیب خان ،چیئرمین راجہ شاکر زمان کیانی ،حاجی مشتاق احمد شاہد ،راجہ غلام مرتضیٰ،راجہ رئیس ،محمد ریاض ڈوگر و دیگر عہدیداران نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ 04دسمبر2017 ؁ء کو سی ڈی ا ے میں محنت کشوں کا ریفرنڈم منعقد ہوا جس میں اس شہر کی تمام سیاسی جماعتوں ،ایم سی آئی و سی ڈی اے انتظامیہ اور دیگر مافیا سمیت تمام قوتوں نے کسی نہ کسی شکل میں کھل کر مداخلت کرتے ہوئے دھونس دھاندلی اور دباؤ کے تحت محنت کشوں کے فیصلے کو بدل کر اپنی مرضی کی پیپلز پارٹی اور انتظامیہ کی پاکٹ یونین کو اقتدار میں لایا گیا اس کے باوجودہم مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں نوازشریف ،سینیٹر آصف سعید کرمانی ،وزیر مملکت برائے کیڈ ڈاکٹر طارق فضل چوہدری ،PTIکے چیئرمین عمران خان ،جماعت اسلامی ،پیپلز پارٹی ،تمام ڈپٹی میئرز اور بلدیاتی نمائندوں کو مبارکباد پیش کرتے ہیں کہ وہ اپنے مقاصد میں کامیاب ہوتے ہوئے اپنی مرضی کی پاکٹ یونین کو جتوانے میں کامیاب ہوئے اس کے باوجود جمہوریت کی پاسداری اور اپنے ادارے وملازمین کے مفادات کی خاطر ہم یقین دلاتے ہیں کہ ہمارے مخالفین محنت کشوں کے مسائل کو حل کرنے میں اگر سنجیدگی کا مظاہرہ کریں گے تو سی ڈی اے مزدور یونین انکی مکمل حمایت کرے گی اور اگر انتظامیہ سمیت کسی نے بھی ہمارے کسی ورکر یا سی ڈی اے محنت کش کو انتقامی کاروائی کا نشانہ بنانے کی کوشش کی تو ہم اینٹ کا جواب پتھرسے دینا جانتے ہیں ،انھوں نے کہا کہ سی ڈی اے میں 2006 ؁ء سے پہلے مزدور تنظیمیں مکمل طور پر سیاسی مداخلت کا شکار رہیں اور اس سیاسی مداخلت کی وجہ سے نہ صرف محنت کشوں کے مفادات کو نقصان پہنچابلکہ سی ڈی اے جیسا قومی ادارہ بھی معاشی بدحالی کا شکار ہوتارہا اور ادارے کی معاشی صورتحال اس حد تک بدحالی کا شکاررہی کہ ادارے کو چلانے کے لیے آنے والی ہر انتظامیہ نے دارلحکومت کے مہنگے ترین پلاٹوں کو بیچ کر ملازمین کی تنخواہوں اور ادارے کے اخراجات کو پوراکیا اور یہی صورتحال آج تک جاری ہے ،سی ڈی اے مزدور یونین نے 2006 ؁ء میں کامیابی کے بعد محنت کشوں کے مسائل کو حل کرنے کی غرض سے سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے رنگ ،نسل و مذہب سے بالاتر ہوکر خدمت کا آغاز کیا اور انتقامی سیاست اور نفرتوں کا خاتمہ کرتے ہوئے محبتوں کو فروغ دیتے ہوئے محنت کشوں کے لیے وہ تاریخی اور عملی اقدامات کیے جس کے نتیجے میں سی ڈی اے محنت کشوں کو وہ حقیقی مراعات ملیں جن کا وہ تصور بھی نہیں کر سکتے تھے ،سی ڈی اے مزدور یونین نے حاضر سروس ملازمین کے لیے 4000پلاٹوں کی الاٹمنٹ ،بیواؤں کے لیے علی پور فراش میں 500پلاٹوں کی الاٹمنٹ کروانے کے علاوہ مزید 4000پلاٹوں کی الاٹمنٹ جو کہ سی ڈی اے ڈویلپ سیکٹرز میں موجودتھے کی منظوری کروائی ،سی ڈی اے میں کام کرنے والے سینکڑوں مسٹررول ،ڈیلی ویجز ، کنٹریکٹ اور اوور ایج ملازمین کو ریگولر کروایا۔ دوران سروس وفات پانے والے ملازمین کے بچوں اور بیواؤں کو بھی وزیر اعظم پیکج کے تحت بھرتی کروایا ،بیوہ فنڈ کا قیام ،فوتگی کے لیے کفن دفن چارجز اور سویٹ ہومز کے بچوں کے لیے ماہوار امداد کا اجراء ہماراسنہری کارنامہ ہے ،مسیحی و مسلم ملازمین کے لیے دونوں عیدوں پر عید الاؤنس ،رینٹل سیلنگ،سینی ٹیشن ملازمین کے لیے اوجڑی الاؤنس ،فائر بریگیڈ ملازمین کی ڈبل تنخواہ اور سی ڈی اے میں کام کرنے والے مختلف ڈائریکٹوریٹ کے ملازمین کے لیے ہر سطح پر الاؤنسز کا اجراء اور تمام ملازمین کے لیے سکیلوں کی اپ گریڈیشن کروائی ۔ ایسے کارنامے ہیں جن کی مثال ماضی میں نہیں ملتی ، سی ڈی اے کا ادارہ 1960 ؁ء میں قائم ہوا اس ادارے کا ویلفیئر فنڈ جو ملازمین کی فلاح و بہبود پر استعمال ہوتا ہے اس کے کل اثاثے دو عدد پٹرول پمپ اور ایک عدد دوکان تھی،ایک پٹرول پمپ جو کہ ایمبیسی روڈ پر واقع ہے اور دوسرا F-6نیشنل پریس کلب کے ساتھ ہے اور دوکان G-7میں واقع ہے ،پٹرول پمپ جو کہ دوہزار روپے ماہانہ کرایہ پر تیس سال کی لیز پر دیے گئے تھے اور دوکان تین سوروپے ماہانہ کرایہ پر دی گئی تھی ،ہم نے 2006 ؁ء میں بطور مزدوروں کے نمائندہ ان اثاثوں کی لیز ختم ہونے پر ویلفیئر کمیٹی میں موقف اختیار کیا کہ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کے فیصلے کے مطابق ان اثاثوں کی اوپن آکشن کی جائے گی ،میں نے پٹرول پمپس کی لیز کو توسیع دینے سے انکار کیا تو میرے اوپر سی ڈی اے انتظامیہ اورلینڈ مافیا سے تعلق رکھنے والے اس شہر کے بڑے لوگوں نے نہ صرف دباؤ ڈالا بلکہ مجھے جان سے مارنے کی دھمکیاں دی گئیں لیکن میں نے اور میری ٹیم نے اپنی جدوجہد جاری رکھی ،مختلف مقدمات کا سامناکیا اور بالاآخر ایمبیسی روڈ والا پٹرول پمپ جو کہ ایک سابقہ ایڈیشنل سیکرٹری نے تیس سال کی لیز پر لے رکھا تھا اسکی اوپن آکشن کر کے اسے 21لاکھ 78 ہزار روپے ماہانہ کرایہ پر دے دیا اور ساتھ ہی ایک سال کا ایڈوانس کرایہ بھی وصول کروایا جبکہ F-6والا پٹرول پمپ جو کہ مرحوم ملک اللہ یار کے نام پر تھا سی ڈی اے انتظامیہ نے ملی بھگت کرکے 2,50,000روپے ماہانہ کرایہ پر دے دیا اور اس کی لیز مزید 30سال کے لیے بڑھا دی اور دوکان جو کہ 300روپے ماہانہ کرایہ پر تھی اسکا کرایہ 8000روپے ماہانہ کروادیا اور ادارے اور محنت کشوں کے لیے یہ بہتراقدامات کرنے کے نتیجے میں وہ قوتیں جو غریب مزدور اور ادارے کو آگے بڑھتا ہوانہیں دیکھنا چاہتی وہ میری دشمن ہو گئیں اور انھوں نے ایک منظم طریقے سے میری کردارکشی کے لیے باقاعدہ مہم شروع کر دی ، میں ایک مزدور ہوں ، مزدور کا بیٹاہوں اور سی ڈی اے مزدور یونین کا جنرل سیکرٹری ہوں ،الحمد للہ 2006 ؁ء سے مسلسل تین دفعہ لگاتار اللہ تعالیٰ کی مہربانی سے سی ڈی اے کے مزدوروں نے مجھے اپنانمائندہ منتخب کیا ،پورے شہر اور ملکی عوام نے دیکھا کہ وہ تمام قوتیں جو غریب محنت کشوں کو خوشحال ہونے اور آگے کی طرف بڑھتا ہوا نہیں دیکھ سکتیں اور حق گوئی کی آواز بلند کرنے والے کا راستہ ہر حال میں روکنا چاہتی ہیں وہ میرے خلاف تینوں ریفرنڈم میں اس وقت کے حکمران 2006میں ق لیگ ،2009اور 2012میں پیپلز پارٹی اور 2017میں حکمران جماعت مسلم لیگ (ن) اور دیگر سیاسی جماعتیں ،سی ڈی اے و میٹروپولیٹن انتظامیہ اور لینڈ مافیا نے نہ صرف ذرائع دولت ،دھونس ، اقتدارکی طاقت اور اپنے اختیارات کوغریب محنت کشوں کے خلاف استعمال کر کے نہ صرف اسلام آباد جیسے شہر میں ووٹ کے تقدس کو پامال کیا بلکہ بیلٹ بکس تک اٹھائے گئے اورمیرے ساتھیوں اور غریب محنت کشوں کو کلاشنکوفوں سے فائرنگ کر کے زخمی کیا گیامجھے اورمیرے ساتھیوں کو جان سے ماردینے کی دھمکیاں تک دی گئیں لیکن ہماراایمان ہے کہ اللہ تعالیٰ عزت ذلت زندگی موت اور رزق کا مالک ہے ،ان تین ریفرنڈم میں اللہ رب العزت نے مجھے اور میرے ساتھیوں کو کامیابی سے ہمکنار کیا اور مجھ جیسے گناہ گار شخص کو اللہ تعالیٰ نے مزدوروں کی خوشحالی اور بہتری کے لیے کام کرنے کی توفیق اور ہمت عطا فرمائی،میں اس کام کو اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے عبادت اور ایک مشن سمجھ کر کرتا ہوں کیونکہ میراایمان ہے کہ مخلوق خداکی خدمت سب سے بڑی عبادت ہے اور جن درجہ بالا واقعات کا میں نے ذکر کیا وہ تمام واقعات نہ صرف اسلام آباد کے تمام اخبارات اور پرنٹ میڈیا میں چھپے بلکہ انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن (ILO) جیسے بین الاقوامی اداروں نے بھی اس کا سخت نوٹس لیا اور حکومت پاکستان کوریفرنڈم میں مداخلت کے حوالے سے خطوط لکھے یہی طاقتیں مسلسل میرے خلاف سرگرم عمل رہیں اور میری کردار کشی کے لیے میرے مثبت کردار کو منفی طریقے سے پیش کرتی رہیں اور میرے ساتھیوں کے خلاف جھوٹے اور بے بنیاد الزامات لگا کر کردارکشی کی جاتی رہی اور اسکے ساتھ ساتھ ہمیشہ میری تصویر کو غلط انداز میں پیش کیاگیا لیکن میں نے کبھی انکے ان اوچھے ہتھکنڈوں کو خاطر میں نہ لایا اور محنت کشوں کی خدمت اور فلاح کو ذمہ داری سمجھ کر اپنے مشن کو جاری رکھتے ہوئے مزدور کے حقوق کی جدوجہد کو اور انکے حقوق کی آواز کو بلند کرنے کے لیے اپنا کردارادا کرتارہا لیکن یہ قوتیں ہر حال میں مجھے اور میرے ساتھیوں کو منظر سے ہٹانا چاہتی تھیں اور ابھی NIRCکی طرف سے حالیہ ریفرنڈم 04دسمبر2017 ؁ء جو میری کاوشوں سے ہوا جس میں ایک طرف سی ڈی اے مزدور یونین اور دوسری طرف وہ گروپ جو پیپلز پارٹی اور سی ڈ ی اے انتظامیہ کا تھا اس کو ان تمام مزدور دشمن قوتوں کی حمایت حاصل تھی ،مکمل طور پر سی ڈی اے و ایم سی آئی انتظامیہ ،اس ملک کا سب سے بڑادولت مند ملک ریاض حسین (بحریہ ٹاؤن)،پی ٹی آئی ،پیپلز پارٹی ،حکمران جماعت (ن) لیگ ،پراپرٹی ڈیلرز ،میئرز ،ڈپٹی میئرزاور دیگر وہ تمام قوتیں جوحق و سچ کی آواز کو ختم کرنے کے لیے ایک پلیٹ فارم پر اکٹھی ہوئیں اور انھوں نے دولت ،اقتدار ،طاقت ،دھونس ،دھاندلی سمیت ہر حربہ سی ڈی اے کے غریب مزدوروں ،میرے اور میرے ساتھیوں کے خلاف استعمال کیا گیا ،ہمیں راستے سے ہٹانے کے لیے جان سے مارنے کی دھمکیاں تک دی گئیں ،میں نے تحریری طور پر ذمہ دار اداروں کو ان واقعات سے آگاہ کرتے ہوئے اپنے تحفظ کے لیے خطوط لکھے لیکن دولت اور اقتدار کے بل بوتے پر مافیا نے سی ڈی اے مزدور یونین کو 500ووٹوں سے شکست دے کر اپنے من پسند لوگوں کواقتدار میں لا کر دارلحکومت کے اندر فتح کا جشن مناتے رہے اسی روز شام کو سرے عام کلاشنکوفوں سے اس قدر شدید فائرنگ کر کے خوف و ہرا س کی فضا پیدا کی گئی لیکن حکمران ،انتظامیہ یہ سب خاموش تماشائی بن کر دیکھتے رہے کیونکہ وہ تمام قوتیں یہ جشن اپنی مرضی کے نتائج حاصل ہونے اور اپنے من پسند افراد کو اقتدار میں لانے کی خوشی میں منارہے تھے ، اسلام آباد کے شہری ان تمام حقائق سے با خبر ہیں اور آج تک سی ڈی اے میں 04دسمبر کو ہونے والا ریفرنڈم اسلام آباد کی عوام کے لیے سوالیہ نشان ہے کیونکہ وہ سوچتے ہیں کہ جس شخص نے سی ڈی اے محنت کشوں کو درجہ ذیل مراعات سے نوازا جس کی پہلے تاریخ میں مثال نہیں ملتی اسکو سی ڈی اے کا محنت کش کس طرح مستردکر سکتا ہے کیونکہ سی ڈی اے مزدور یونین محنت کشوں کی وہ تنظیم ہے جسے سی ڈی اے ملازمین نے تمام تر سیاسی مداخلت اور دباؤ کے باجود مسلسل تین دفعہ بھاری اکثریت سے کامیاب کیا اور جب اس شہر میں پہلی دفعہ بلدیاتی نظام آیا تو ہم نے جمہوریت کی روح کے مطابق نہ صر ف اس فیصلے کو قبول کیا بلکہ منتخب بلدیاتی نمائندوں کو خوش آمدید کہا لیکن جب بلدیاتی نظام کی آڑ میں سی ڈی اے جیسے قومی ادارے اسکے ملازمین اور اثاثوں کو تقسیم کرنے کی بات آئی تو ہم نے حکمران جماعت سمیت تمام سیاسی جماعتوں کے قائدین ،چیئرمین سینیٹ ،صحافی برادری ،تاجر برادری ،چیمبر آف کامرس کے نمائندوں ،علمائے کرام اور معززین علاقہ تک اپنے محنت کشوں کے خدشات و تحفظات کو پہنچایا اور جب کسی طرف سے ہماری شنوائی نہ ہوئی تو ہم نے اپنے مزدوروں کے حقوق کے تحفظ کی خاطر اعلیٰ عدالتوں میں ان کے حقوق کی جنگ لڑی جو اب تک جاری ہے اور شاید یہی ہماراجرم ٹھہراکہ ہم نے محنت کش کے حقوق کی بات کیوں کی ادارے کی تقسیم کا مسئلہ ہو یا شعبہ صفائی کی نجکاری ہم نے ہمیشہ افہام و تفہیم اور مذاکرات کے ذریعے مسائل کو حل کرنے کی کوشش کی اور آبپارہ چوک سمیت جب کبھی بھی ہم سڑکوں پر آئے تو ہم نے پر امن احتجاج کیا جس کے گواہ نہ صرف اسلام آباد انتظامیہ کے لوگ ہیں بلکہ اس شہر کے معزز شہری بھی ہمارے پر امن احتجاج کے گواہ ہیں ،حالیہ ریفرنڈم میں وہ تمام سیاسی جماعتیں جو ایک دوسرے کے خلاف بڑی بڑی بیان بازی اور ایک دوسرے کو عوام دشمن ثابت کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتیں اور تمام جماعتوں سے منسلک بلدیاتی نمائندے ،ایم سی آئی و سی ڈی اے انتظامیہ اور ملک ریاض حسین جیسی دولت مند شخصیت بھی سی ڈی اے مزدور یونین جیسی محنت کشوں کی نمائندہ تنظیم کے خلاف صرف اس لیے مخالف پلیٹ فارم پر اکٹھے ہو گئے کہ میں اور میری ٹیم اپنے محنت کش کو طاقتور بنا کر ان کے حقوق کی جنگ کیوں لڑ رہا ہوں ،میں حکمران جماعت ،وزیر مملکت برائے کیڈ ڈاکٹر طارق فضل چوہدری ،دیگر تمام جماعتوں کے قائدین ،میئرایم سی آئی وچیئرمین سی ڈ ی اے کو مبارکباد پیش کرتا ہوں کہ ان سب نے مل کر پیپلز پارٹی کی پہچان رکھنے والی اپنی پاکٹ یونین کو اس مزدور یونین کے مقابلے میں کامیاب کیا جس نے ہمیشہ اس ملک سے محبت کرتے ہوئے کبھی دہشت گردی کے خلاف اسلام آباد کی سڑکوں پر افواج پاکستان اور حکمرانوں کے حق میں ریلی نکالی جس کے نتیجے میں گرفتاریاں ہمارا مقدر بنیں اور کبھی سلالہ چیک پوسٹ اور پشاور آرمی پبلک سکول کے سانحہ کے خلاف ہم نے اپنے محنت کشوں کے ساتھ مل کر اظہار یکجہتی اور مکمل دکھ کا اظہار کیا لیکن افسوس ان تمام باتوں کے باوجود میری اور میری ٹیم کے لوگوں کی منظم طریقے سے کردارکشی کرتے ہوئے نہ صرف میری تصویر کو غلط طریقے سے پیش کیا گیا بلکہ اس شہر کی ہر سیاسی طاقت اور پیسے رکھنے والی قوت نے سی ڈی اے مزدور یونین کے حق میں ہونے والے فیصلے کو شکست میں بدلنے کے لیے اپنا بھرپور کردارادا کیا لہذا یہ تمام لوگ مبارکباد کے مستحق ہیں کہ ان کی تمام تر کوششیں کامیاب ہوئیں اور پاکٹ یونین کے مقابلے میں محنت کشوں کی نمائندہ اور محب وطن تنظیم جس کا نام سی ڈی اے مزدور یونین ہے وہ ہار گئی لیکن میں انکو یہ بھی بتادینا چاہتا ہوں کہ ہمارے حوصلے اسی طرح بلند ہیں اور یہ میری اور میری ٹیم کی اخلاقی فتح ہے کہ حکمران و اپوزیشن جماعتوں کی مکمل حمایت ،دولت کی ریل پیل سی ڈی اے انتظامیہ کی ملی بھگت اور تمام تر کردار کشی کے باوجود5400سے زائد خاندان آج بھی مزدور یونین کے ساتھ سیسہ پلائی دیوار بن کر کھڑا ہے اور آنے والا وقت یہ ثابت کرے گا کہ یہ جیت کس کی ہے اور ہار کس کی ؟میں موجودہ سی ڈی اے انتظامیہ کو بتا دینا چاہتا ہوں کہ میرا کارکن پر امن ہے میرے کارکن کو آج بھی دھمکانے کی ناکام کوششیں کررہے ہیں۔اور انتقامی کاروائیوں کی نام پر ڈرایا جا رہا ہے۔اگر میرے ایک بھی سپاہی کو تنگ کرنے کی کوشش کی گئی تو اینٹ کا جواب پتھر سے دوں گا۔ہم پر امن لوگ ہیں ہمارے امن کو کمزوری نہ سمجھا جائے کارکن کا دفاع کرنا جانتاہوں پوری عمر ادارے اور ملازمین کیلئے وقف کر رکھی ہے اور آخری سانس تک یہ جنگ جاری رکھوں گا۔ سی ڈی اے مزدور یونین کے قائدین ،عہدیداران اور کارکن یہ عہد کرتے ہیں کہ وہ آئندہ بھی اس ادارے کی بقاء ،ملازمین کی تقسیم کے خلاف اور اپنے حقوق کی خاطر اپنی اخلاقی ،قانونی اور سیاسی جدوجہد جاری رکھیں گے ،میں اورمیری تنظیم معزز صحافی برادری سے یہ امید رکھتے ہیں کہ جیسے ماضی میں آ پ لوگوں نے سی ڈی اے محنت کشوں کے مسائل کو اجاگر کرنے میں اپنا بھرپور کردار ادا کیا جس کے لیے ہم آپ کے شکرگزار بھی ہیں اور آپ آئندہ بھی حقائق سے پردہ اٹھانے کی خاطر محنت کشوں کے مسائل کو اپنے اخبارات کے صفحوں پر اجاگر کرتے رہیں گے۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر