ایم ڈی اے چوک تا ڈیرہ اڈا چوک 2رویہ سڑک کی تعمیر کا منصوبہ ناکام

ایم ڈی اے چوک تا ڈیرہ اڈا چوک 2رویہ سڑک کی تعمیر کا منصوبہ ناکام

ملتان( ملک اعظم سے)ملتان ڈویلپمنٹ اتھارٹی کا ایم ڈی اے چوک سے ڈیرہ اڈا چوک تک دورویہ سڑک کی تعمیر کا منصوبہ ناکام ہوگیا ہے شعبہ انجینئرنگ کی جانب سے میری کوالیفائی کی گئی کمپنیوں نے موجودہ ریٹس پر کام کرنے سے انکار کردیا۔جس کے بعد ایم ڈی اے نے ایک ارب روپے مالیت کا نیا پی سی ون تیار کرکے حکومت پنجاب کو منظوری کیلئے بھجوادیا۔نئے پی سی ون تیاری کیوجہ سے پروجیکٹ کاسٹ 30کروڑ سے بڑھ کر 1ارب کے نزدیک (بقیہ نمبر18صفحہ12پر )

پہنچ گئی ایم ڈی کے انتظامی افسران کی ناقص حکمت عملی ،عدم دلچسپی اور نااہلی کیوجہ سے ملتان ترقیاتی ادارے کو 30کروڑ کا نقصان پہنچ گیا۔معلوم ہوا ہے کہ ایم ڈی اے کی جانب سے ایم ڈی اے چوک سے ڈیرہ اڈا چوک تک سڑک کو دو رویہ کر نے کا پی سی ون بنایا گیا ‘ سڑک کی چوڑائی 100 فٹ سے 120 فٹ تک رکھی گئی ‘ صوبائی حکومت سے پی سی ون کی منظوری کے بعد ایم ڈی اے کے انتظامی آفسران نے اس پروجیکٹ میں عدم دلچسپی کا مظاہرہ کیا ۔ ان کی تمام تر توجہ کامرکز ملتان میٹرو بس پروجیکٹ رہا ‘ ایم ڈی اے کی جانب سے رواں سال فروری میں مذکورہ پروجیکٹ کیلئے کنٹریکٹرز کی پری کوالیفکیشن کا اتشہار دیا گیا‘ میٹرو بس پروجیکٹ کے بوجھ کیوجہ سے ایم ڈی اے پری کوالیفکیشن پر اس کو پورا کر نے میں ناکام ہوگیا ‘ جس کے بعد اس پروجٹکٹ کیلئے دوسری مرتیہ کنٹریکٹر کی پری کوالیفکیشن کا اشتہار دیا گیا ‘ اس مرتبہ ایم ڈی اے کے شعبہ انجینئرنگ نے 18 کنٹریکشن کمپنیوں میں سے 7 کو دو رویہ روڈ کی تعمیر کیلئے پری کوالیفائی کرلیا ‘ شعبہ انجینئرنگ کی جانب سے مبینہ طور پر جان بوجھ کر اس پروجیکٹ کے دفتری پراس کو طول دیا گیا ۔ معلوم ہوا ہے اس سب عمل کے پیچھے کنسٹریشن کمپنیاں اور شبہ انجینئرنگ کی ملی بھگت شامل ہے ۔ ایک جامع منصوبہہ بندی کے تحت ایم ڈی اے کا شعبہ انجینئرنگ دفتری پراس کو طول دیتا رہا ۔ اب سال کے اختتام پر جب ریٹس سسٹم کا ٹائم پیریڈ ختم ہو رہا ہے تو منصوبہ کے تحت شعبہ انجینئرنگ نے پری کوالیفائی ہونیوالی کمپنیوں کو ٹینڈر جاری کیے لیکن 7 کمپنیوں نے ٹینڈر وصول کر نے اور موجودہ ریٹس کے مطابق کام کر نے سے انکار کر دیا ۔ معلوم ہوا ہے کنسٹریکشن کمپنیوں کے انکار کے بعد اب ایم ڈی اے کیلئے لازمی ہوگیا کہ نیا پی سی ون تیار کے ‘ اب شعبہ انجینئرنگ نے 1 ارب روپے مالیت کا نیا پی سی ون تیار کرلیا ہے اور ہر پی سی ون منظوری کیلئے صوبائی حکومت کو بھجوا دیا ۔ بتایاگیا ہے کہ پہلا پی سی ون 57 کروڑ روپے مالیت کا بنایا گیا ‘ اس پی سی ون کی تیاری میں زمینی حقائق کو نظر انداز کیاگیا ‘ ۔۔۔۔۔۔۔ پر اراضی کی قیمت کا تعین کیا گیا ‘ اس پی سی ون میں لینڈ اکیوزیشن کی مد میں 40 کروڑ روپے رکھے گئے ‘ سول ورک کا تخمینہ لاگت 17 کروڑ رکھا گیا ‘ لیکن ڈپٹی کمشنر آفس نے اس پروجیکٹ کیلئے رکیوائر ہونیوالی اراضی کی قیمت 72 کروڑ مقرر کی جو پروجیکٹ کی ناکامی کا سبب بن گئی ۔ اب نئے پی سی ون میں سول ورک اور لینڈ اکیوزیشن کی کاسٹ میں اضافہ کیاگیا جو کہ 30 کروڑ روپے سے زائد ہے ‘ اب ایم ڈی اے کو اپنے نااہل ‘ سست اور عدم دلچسپی کا مظاہرہ کرنیوالے انتظامی آفسران کیوجہ سے 30 کروڑ روپے کانقصان برداشت کرنا پڑے گا۔

مزید : ملتان صفحہ آخر