ہائی کورٹ نے 22دسمبر تک شوگر ملیں چالو نہ کرنے والے مالکان کے خلاف مقدمات درج کرنے کا حکم دے دیا

ہائی کورٹ نے 22دسمبر تک شوگر ملیں چالو نہ کرنے والے مالکان کے خلاف مقدمات درج ...
ہائی کورٹ نے 22دسمبر تک شوگر ملیں چالو نہ کرنے والے مالکان کے خلاف مقدمات درج کرنے کا حکم دے دیا

  


لاہور(نامہ نگارخصوصی ) لاہور ہائیکورٹ نے 22دسمبر تک شوگر ملیں نہ چلانے والے مل مالکان کے خلاف مقدمات درج کر کے رپورٹ پیش کرنے کا حکم دے دیاہے۔

جسٹس ساجد محمود سیٹھی نے یہ حکم امیر جماعت اسلامی پنجاب میاں مقصود احمدکی درخواست پر جاری کیا۔درخواست گزارکے وکیل سیف الرحمن نے عدالت میں موقف اختیار کیا کہ قانون کے تحت مالکان شوگر ملیں اکتوبر سے چلانے کے پابند ہیں، اکتوبر اور نومبر ختم ہونے کے باوجودشوگر ملیں نہیں چلائی جا رہیں،شوگر ملز نہ چلنے سے گنے کے کاشتکاروں اور غریب کسانوں کا شدید نقصان ہو رہا ہے،رواں سیزن کا کرشنگ شروع نہ ہونے سے صرف جنوبی پنجاب میں 40 ارب سے زائدرقم ڈوبنے کا خدشہ ہے،انہوں نے کہا کہ گنے کی فصل بروقت نہ کاٹنے سے گندم کی کاشت بھی متاثر ہوگی جس سے ملک کو خواراک کی قلت کاسامنا ہوسکتا ہے اورغریب کسانوں کی مالی مشکلات میں اضافے کا اندیشہ ہے، عدالتی حکم پر کین کمشنر پنجاب عدلت میں پیش ہوئے، انہوں نے عدالت کو بتایاکہ پنجاب حکومت کی جانب سے بھجوائے گئے شوکاز نوٹسزکے باوجود ملز نہیں چلائی جا رہیں جس پر عدالت نے 22دسمبر تک شوگر ملیں نہ چلانے والے مل مالکان کے خلاف مقدمات درج کر کے رپورٹ عدالت میں پیش کرنے کا حکم دے دیا، عدالت نے ملز مالکان کو 180 روپے فی من قیمت کسانوں کو ادا کرنے سے متعلق بھی رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیاہے۔

مزید : علاقائی /پنجاب /لاہور