وکلاءکے ذہن میں قانون کی بابت ابہام نہیں ہونا چاہیے:چیف جسٹس پاکستان

وکلاءکے ذہن میں قانون کی بابت ابہام نہیں ہونا چاہیے:چیف جسٹس پاکستان
وکلاءکے ذہن میں قانون کی بابت ابہام نہیں ہونا چاہیے:چیف جسٹس پاکستان

  


لاہور(نامہ نگارخصوصی )سپریم کورٹ نے پنجاب پراونشل کوآپریٹو بینک کی بینکنگ عدالت کے دائرہ اختیار کے خلاف دائر درخواست خارج کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ سول نوعیت کے مقدمات کی پیروی کرنے والے وکیل کے ذہن میں قانون سے متعلق کوئی ابہام نہیں ہونا چاہئے۔

لائیو ٹی وی دیکھنے کے لئے اس لنک پر کلک کریں

سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں چیف جسٹس پاکستان مسٹر جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں3 رکنی بنچ نے پنجاب پراونشل کوآپریٹو بینک کی درخواست پر سماعت شروع کی تو عدالت نے درخواست گزار کے وکیل جاوید اقبال سے استفسار کیا کہ مسٹر جسٹس عظمت سعید کی سربراہی میں قائم 2 رکنی بنچ کے روبرو آپ نے کیس کے متعلق دلائل دینے سے انکار کیا تھا اور اسی وجہ سے بینک کے چیف ایگزیکٹو آفیسر کو طلب کیا گیا ہے، جس پر وکیل نے کہا کہ انہوں نے پچھلے فاضل بنچ کے روبرو ایسا کچھ نہیں کہا تھا جس پر چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ مسٹر جسٹس عظمت سعید کے گزشتہ آرڈر میں آپ کے دلائل نہ دینے سے متعلق تحریر کیا ہے جس پر وکیل نے غیر مشروط معافی طلب کی ، عدالت نے ایڈووکیٹ جاوید اقبال کی معافی منظور کرتے ہوئے کیس کی سماعت شروع کی، درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ مظہر اقبال سمیت دیگر شہریوں نے پنجاب پرونشنل کوآپریٹو بینک سے زرعی قرض حاصل کیا تھااور کوآپریٹو عدالت نے ڈیفالٹر شہریوں کے خلاف ڈگری بھی جاری کر رکھی ہے مگر بنکنگ عدالت نے شہریوں کی درخواست پر ڈگری معطل کر دی ہے جبکہ بنکنگ عدالت کو کوآپریٹو پراونشل بینک کے خلاف درخواست پر سماعت کا اختیار نہیں لہٰذا بینکنگ عدالت کا حکم کالعدم کیا جائے، تین رکنی بنچ نے دلائل سننے کے بعد پنجاب پراونشل کوآپریٹو بینک کی بینکنگ عدالت کے دائرہ اختیار کے خلاف دائر درخواست خارج کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ سول نوعیت کے مقدمات کی پیروی کرنے والے وکیل کے ذہن میں قانون سے متعلق کوئی ابہام نہیں ہونا چاہیے۔

مزید : علاقائی /پنجاب /لاہور