توانائی کے نئے ذرائع کی تلاش

توانائی کے نئے ذرائع کی تلاش
توانائی کے نئے ذرائع کی تلاش

  

خوش قسمتی سے لاہور ایلاف کلب کے گذشتہ اجلاسوں میں متعدد اہم شخصیات نے مہمان مقرر کی حیثیت سے شرکت کی اور بہت سی چشم کشا باتیں کہیں۔ان میں پنجاب کے وزیر توانائی محمد اختر ملک ، نیپا کے سابق ڈائریکٹر اورممتاز مصنف افتخار احمد اور ہنسلو برطانیہ کے پہلے مسلمان مئیر نثار ملک شامل تھے۔ان سب حضرات کی باتیں ایلاف والوں کے لئے بہت اہم تھیں ۔

تاہم ملکی حالات اور ضرورتوں کے تناظر میں وزیر توانائی ڈاکٹر محمد اختر ملک کی باتیں سننے کے بعد اراکین کلب کوموجودہ حکومت کی طرف سے تمام قومی معاملات کو احسن طریقے سے نبھانے کے سلسلے میں سنجیدہ کام کرنے کا یقین ہوا۔سب نے وزیر صاحب کے بے لوث اور بے تکلف انداز کو سراہا ۔محمد اختر ملک نے بتایا کہ حکومت میں ہر وزیر اپنی وزارت کے معاملات کا خود ذمہ دار ہے،اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے اپنے اپنے شعبہ کے معاملات بہتر کرنے کی کوشش میں ہیں،لیکن اس کے ساتھ ہی ساتھ ہم قوم کے دانشوروں ، ماہرین اور اہل قلم سے بھی رہنمائی کی توقع کرتے ہیں۔

کوئی بھی عقل کل نہیں ہے ، عوام کی کھلی آنکھیں اور اہل نظر کی فکری رہنمائی ہی سے معاملات درست سمت اختیار کرتے ہیں۔ وزیر توانائی نے کہا کہ ان کے شعبہ میں بہت کام کیا جانا باقی ہے ۔بجلی کی پیداوار اس کی ضرورت سے بہت کم ہے، اس کمی کو دور کرنے اور مستقبل کی ضرورتیں موثر انداز میں پوری کرنے کے سلسلے میں ماضی میں بہت غفلت برتی گئی ہے اور کچھ لوگوں کی خود غرضی اور مفاد پرستی بھی آڑے آتی رہی ہے۔ملکی معیشت کے استحکام کے لئے برآمدات میں اضافہ بے حد ضروری ہے۔

اس کے لئے صنعت کا پہہیہ کسی بھی حالت میں نہیں رکنا چاہئے ، جس کے لئے سستی اور بلا تعطل بجلی کی ضرورت ہے۔پہلے ہر صوبہ صرف پچاس میگا واٹ تک خود بجلی پیدا کرسکتا تھا، اب اس سلسلے میں کوئی پابندی نہیں ہے کوئی بھی صوبہ اپنے وسائل سے کسی حد تک بھی بجلی پیدا کرسکتا ہے۔صنعت کسی ملک میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے، لیکن آج بہت ساری صنعتیں بند پڑی ہیں ان سب کو چلانے کے لئے پنتالیس ہزار میگاواٹ بجلی کی ضرورت ہے اگر یہ بجلی پیدا کرلی جائے تو پھر اس کی ٹرانس مشن لائنز کا انتظام نہیں ہے۔

ہماری درآمدات اگرساٹھ ارب کی ہیں تو برآمدات صرف اٹھارہ ارب کی ہیں۔ برآمدی تجارت انرجی پیدا کئے بغیر نہیں بڑھ سکتی۔ ماضی میں تھرمل پاور پر زور دیا گیا ہے، جس میں درآمدی تیل اور کوئلہ استعمال ہورہا ہے اور یہ مہنگا خام مال ہے۔

جو ماحول کی آلودگی کا باعث بھی ہے ۔اس سے بجلی پیدا کرنے والے اگر ہمیں اٹھارہ یا بیس سینٹ میں یونٹ دیں گے، جو کہ دوسرے ملکوں کو چار یا پانچ سینٹ میں یونٹ دستیاب ہے تو پھر اتنی مہنگی بجلی سے ہمارے برآمد کنندگان دوسرے ملکوں کے سستے مال کا مقابلہ کیسے کریں گے؟ملتان میں پیراں غائب کا تھرمل پاور سٹیشن بند پڑا ہے، لیکن اسے چالو کرنے کے بجائے ماضی کے حاکموں نے نئے پاور سٹیشن لگائے،ہم نے ملک کو ماحول دوست اور سستی بجلی فراہم کرنے کا پروگرام بنایا ہے۔سولر انرجی ، ہائیڈل پاور، اور ونڈ ملز کے ذریعے ہم کلین انرجی پیدا کرسکتے ہیں اور اس کے لئے ملک میں بہت پوٹینشل موجود ہے۔

ہمارے دفاتر اور دوسرے بہت سے ایسے ادارے ہیں، جہاں صرف دن کے وقت کام ہوتا ہے، ایسے تمام اداروں میں سولر انرجی سے کام چلایا جاسکتا ہے، اگر ہم باہر سے درآمد کرنے کے بجائے سولر پینلز ملک ہی میں تیار کریں تو اس سے بہت سرمایہ بچایا اور ملک میں ہزاروں کلوواٹ سولر انرجی پیدا کی جاسکتی ہے۔آئندہ ہم ملک میں انرجی ایفی شینٹ بلڈنگز تعمیر کررہے ہیں، جن میں بجلی سولر انرجی سے مہیا کی جائے گی۔انرجی سیور بلب اور اے سی استعمال کرکے دیواروں کی انسولیشن کرکے انرجی کی بچت ہو سکتی ہے ۔

اس سلسلے میں عوام میں آگہی مہم شروع کررہے ہیں۔اس طرح کی بچت سے ہم ڈیڑھ ہزار میگا واٹ تک بجلی بچاسکتے ہیں،لاہور شہر کی سالڈ ویسٹ سے بھی چالیس میگا واٹ بجلی پیدا ہوسکتی ہے جس سلسلے میں ہم کام کررہے ہیں۔2023ء تک پاکستان کو اسی ہزار میگا واٹ تک بجلی کی ضرورت ہوگی۔ایسی پارٹیاں بھی میدان میں ہیں جو کالجوں اور یونیورسٹیوں کو سولر سسٹم لگا کر دینے کو تیار ہیں ۔

اس وقت پبلک اداروں کا بجلی کا سالانہ بل پچیس ارب روپے سے بھی زائد ہے۔ان اداروں کی عمارتوں کو سولر سسٹم پر کرنے سے بہت بچت ہوسکتی ہے۔جو گھر سولر سسٹم پر کئے جاتے ہیں ان کی اس سسٹم پر خرچ کی گئی رقم دو سال میں پوری ہوجاتی ہے اس کے بعد بیس سال تک گویا بجلی مفت فراہم ہوتی ہے۔ حکومت عوام کے لئے جو گھر بنا رہی ہے ان کو بھی سولر پر شفٹ کرنے سے فی گھر صرف ڈیڑھ لاکھ روپے کا زائد خرچ ہے۔

وزیر صاحب یہ سب کہہ رہے تھے میرے ذہن میں کچھ اور فلم چل رہی تھی۔ میرا پرائمری اور مڈل سکول کا زمانہ پچھلی صدی کے پانچویں عشرے کے وسط اور اواخر کا زمانہ ہے۔ اپنے والد اور ان کی شام کی گپ شپ کی مجلس کے رفقاء کی باتیں سن سن کر مجھ پر یہ واضح ہوچکا تھا کہ ہمارے ملک میں زراعت اورمعدنی وسائل اور باصلاحیت عوام کی صورت میں بے پناہ وسائل موجود ہیں، پاکستان دنیا کی عظیم طاقت بننے کی پوری صلاحیت رکھتا ہے۔بھارت تو ہمار اآغاز ہی سے دشمن تھا، لیکن دنیا کی دوسری سامراجی طاقتوں نے بھی پاکستان کے متعلق یہ فیصلہ کر رکھا تھا کہ اس ملک کی ٹانگ کھینچ کر رکھنا ہے ورنہ یہ بہت آگے نکل سکتا ہے۔

اس کے بعد ساٹھ کا عشرہ آیا اور سمجھداری کی باتیں کرنے والے لوگوں کی باتین سن کریہ بات میرے ذہن میں پختہ ہوچکی تھی کہ پاکستان کی خوشحالی اور ترقی کے دشمن اپنا یہ کام پاکستان کو توانائی کے شعبے میں ناکام بنا کر کریں گے،پھر ہم نے ایوب خان کے زمانے ہی میں یہ سنا کہ بعض طاقتوں کو خوش کرنے کے لئے حکومت بلوچستان میں موجود تیل کے بھاری ذخائر دریافت کرنے کی طرف توجہ نہیں دے رہی۔میرا ایک شاگرد خالد محمود جو عرصہ تک پاکستان کی آئل اینڈ گیس ڈویلپمنٹ کارپوریشن کا افسر تعلقات عامہ رہا، وہ اپنی ملازمت کے دوران جب بھی مجھے ملنے آیا ، میر اس سے یہی سوال رہا کہ اس کی کارپوریشن ملک کو توانائی کے میدان میں کب تک خو دکفیل کررہی ہے؟ اس کے جواب میں اس نے ہمیشہ اس کارپوریشن کے کارپردازان کی طرف سے ملک فروشی کی رونگھٹے کھڑے کر دینے والی داستانیں سنائیں۔اس نے پوٹھوار کے متعدد علاقوں میں تیل نکلنے اور پھر اس دریافت پر دبیز پردے ڈال دئیے جانے کے متعلق بھی بتایا ۔

یہ بھی کہا کہ ایک بار OGDC کی اپنی رگ نے تیل کا بھاری ذخیرہ دریافت کر لیا۔ہم لوگوں نے خود تیل کو آگ لگا کر جلا کر دیکھا۔مٹھائیاں تقسیم کی گئیں ۔اس کامیابی پر بھنگڑے ڈالے گئے لیکن بعد میں اس معاملے پر مٹی ڈال دی گئی اور یہ کہہ کر ان سب لوگوں کو خاموش کرادیا گیا کہ یہاں سے کوئی تیل نہیں ملا۔یہ بھی میرے علم میں تھا کہ چین کی ایک کمپنی نے گلگت بلتستان کے علاقے میں ایک سو مقامات پر دس دس میگاواٹ کے ہائیڈل بجلی گھر لگانے اور لیزر کٹرز سے قمیتی پتھر نکال کر پاکستان کو بہت فائدہ پہنچانے کا جامع منصوبہ بنا کر گلگت بلتستان کی حکومت کے ذریعے سابقہ وفاقی حکومت کو پہنچایا تھا، جو شیلف میں بند پڑا رہا۔اس لئے کہ اس میں کسی کو کمیشن کی امید نہیں تھی۔

میرے علم میں یہ بھی تھا کہ جنرل ضیاء الحق کے دور میں پچیس میگاواٹ کا سولر انرجی پلانٹ سکردو میں اور اتنا ہی بڑا ایک پلانٹ کوئٹہ میں لگایا گیا تھا، یہ پلانٹ کامیابیء سے کام کرتے رہے۔

پاکستان انسٹی ٹیوٹ فار سلی کان ٹیکنالوجی ، اسلام آباد میں سولر انرجی کے بہت موثر کنڈکڑز تیار کرنے کے لئے بہت مفید تحقیق ہوئی۔اس سلسلے میں ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر عتیق مفتی کے زمانے میں بہت کام ہوا وہ اس زمانے میں صرف پچاس ہزار روپے کے اخراجات سے پورا گھر ائیر کنڈنشنڈ کردینے کی صلاحیت والا سسٹم تیار کرنے کا کام تقریبا مکمل کرنے کے قریب تھے کہ انہیں اس ادارے سے الگ کردیا گیا، انہوں نے ادھر ادھر یہ بتانے کی بہت کوشش کی کہ ان کے کام سے پورے ملک میں انقلاب آجائے گا ، لیکن انہیں بتایا گیا کہ اس کام کی ہمارے ملک کو ضرورت نہیں ہے۔

اب نئی حکومت اس میدان میں کچھ کرنے کا عزم کئے ہوئے ہے۔ڈاکٹر محمد اختر ملک بہت اخلاص اور مستعدی سے کام کررہے ہیں، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا وہ اپنے اس اقتصادی محاذ کی اسی طرح حفاظت کر سکیں گے، جس طرح کہ ملک کا بہت بڑا کام کرنے والی کہوٹہ لیبارٹریز کی حفاظت کی گئی تھی؟

مزید : رائے /کالم