حبیب بینک کے ملازمین کو پنشن دلوائی جائے

حبیب بینک کے ملازمین کو پنشن دلوائی جائے

مکرمی!1997ء کے بعد کئی حکومتیں آئیں۔ ہر پارٹی کا نعرہ تھا کہ متاثرین کو عدل و انصاف دیا جائے گا۔ روٹی، کپڑا اور مکان دینے والے بھی آئے،اور انصاف دینے والے بھی۔۔۔اب تحریک انصاف اقتدار میں آ گئی،جس کا نعرہ ہی انصاف ہے۔اس دنیا میں کوئی کام بھی نا ممکن نہیں ہے۔ بس انسان کا عزم پختہ ہونا چاہئے۔ عمران خان صاحب آپ تو ایسے مکالمے بولتے ہیں، آپ کے بعض اقوال سن کر انسان کو یقین ہونے لگتا ہے کہ اس دنیا میں کوئی کام نا ممکن نہیں ہے۔ آپ کے خیال میں اگر انسان کے ارادے مضبوط ہوں تو غربت، بے روزگاری اور پسماندگی سے لے کر مسئلہ کشمیر جیسے پیچیدہ ترین مسائل تک کا حل بھی نکالا جا سکتا ہے، لیکن کیا وزیراعظم صاحب حبیب بینک کے ان مظلوم متاثرین کی داد رسی بھی کر سکیں گے جنہوں نے حبیب بینک میں جوانی کا اہم ترین حصہ لگا دیا اور 20/20 سال بینک کو مستحکم اور مضبوط کرنے میں لگا دیئے،بہت سے ملازمین کو بیک جنبش قلم تھوڑی سی رقم ہاتھوں میں دے کر گولڈن شیک ہینڈ کا بہانہ بنا کر ملازمت سے سبکدوش کر دیا گیا اور پنشن جو ہر ملازم کا بنیادی حق ہے، بے حسی کا مظاہرہ کرتے ہوئے چھین لیا گیا،حالانکہ سروس قوانین کے مطابق 15 سال کی سروس والے ملازم کو پنشن دی جاتی ہے، یہاں 20, 20 سال والے ملازمین کو ان کی جوانی چھین کر پنشن سے محروم کر دیا گیا۔ پیپلزپارٹی کی حکومت نے اپنے چہیتوں یو بی ایل والوں کا کچھ نہ کچھ ازالہ کیا پنشن بھی دی اور بقایا جات بھی دیئے، لیکن حبیب بینک 1997ء اور 20,20 سال ملازمت کرنے والوں کو آج تک پنشن نہیں دی جا رہی ہے۔جناب عمران خان صاحب انصاف کا نعرہ لگا کر کامیاب ہوئے ہیں۔ پوری قوم نے آپ پر اعتماد کیا ہے۔ اب ہم متاثرین حبیب بینک 1997ء والے وزیراعظم عمران خان، وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر، وفاقی وزیر انسانی حقوق محترمہ شیریں مزاری صاحبہ سے مطالبہ کرتے ہیں کہ ظالم بیورو کریسی کو نظر انداز کرتے ہوئے انسانی حقوق کی پاسداری کریں، رحم کریں اور متاثرین حبیب بینک 1997ء والوں کو فوری پنشن کا حق دلائیں اور بقایا جات دلائیں اور انصاف کا بولا بالا کریں۔( صاحبزادہ سلطان محمود نظامی،مکان نمبر108-9وی بلاک ریاض چوک، سٹیلائٹ ٹاؤن،جھنگ صدر)

مزید : رائے /اداریہ