وزارتوں میں مالی بے ضابطگیوں کا انکشاف باعث تشویش ہیں ، خرم نواز گنڈا پور

وزارتوں میں مالی بے ضابطگیوں کا انکشاف باعث تشویش ہیں ، خرم نواز گنڈا پور

لاہور( نمائندہ خصوصی )پاکستان عوامی تحریک کے سیکرٹری جنرل خرم نواز گنڈاپور نے کہا ہے کہ44وفاقی وزارتوں میں5.8ٹریلین کی مالی بے ضابطگیوں کا انکشاف ہوشرباء ہے۔بے ضابطگیوں کے اعداد و شمار بتا رہے ہیں ماضی میں جمہوریت نہیں ظل سبحانی کی حکومت تھی اور کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں تھا،اگر ان بے ضابطگیوں کی چھان بین اور انکوائریاں چیئرمین پبلک اکاؤنٹس کمیٹی میاں شہباز شریف کریں گے تو اس سے بڑا ملک و قوم سے اور کوئی مذاق نہیں ہو سکتا۔وہ گزشتہ روز عوامی تحریک کے مرکزی سیکرٹریٹ میں پارٹی عہدیداروں سے گفتگو کر رہے تھے۔خرم نواز گنڈا پور نے کہاکہ بے ضابطگیوں کے یہ اعداد و شمار کسی مخالف کی طرف سے نہیں آڈیٹرجنرل پاکستان کی طرف سے دئیے گئے ہیں جو 2017-18 کے آڈٹ پیروں کے نتیجے میں سامنے آئے۔ ماضی میں قوم کا پیسہ پانی کی طرح بہایا گیا، انہوں نے کہاکہ حکمرانوں اور بیوروکریسی نے مل کر لوٹ مار کی اور ملک کو 90ارب ڈالر سے زائد کا مقروض کیا گیا،انہوں نے کہا کہ جو مالی بے ضابطگیاں سامنے آئی ہیں اسکی خصوصی کمیٹی کے ذریعے چھان بین کی جائے،

یہ قوم کا پیسہ ہے کہاں خرچ ہوا اسکا حساب لیا جانا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ بڑے پیمانے پر بے ضابطگیوں کی آڈٹ رپورٹ صدر مملکت اور پارلیمنٹ میں بھی پیش ہو چکی،یہ لیگل ڈاکومنٹ ہے اسی کی بنیاد پر فنانشل مس مینجمنٹ کی چھان بین کی جائے اور ذمہ داروں کی گرفت کی جائے اور اس رپورٹ کوآئندہ کیلئے وزارتوں کا معاشی قبلہ درست کرنے کیلئے بطور سنگ میل استعمال کیا جائے۔دریں اثناء پاکستان عوامی تحریک کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات نور اللہ صدیقی نے کہا ہے کہ آئی ایم ایف کی طرف سے کہا گیا ہے کہ پاکستان کو ماضی میں جو قرضے دئیے گئے انکے استعمال کی چھان بین کرینگے،انہوں نے کہاکہ ہم سمجھتے ہیں کہ اس بیان کا حکومتی سطح پر خیر مقدم ہونا چاہیے اور قوم کو پتہ ہونا چاہیے کہ ہر سال سود پر جو ایک ہزار ارب روپے سے زا ئد ادا ہوتا ہے قرض کی وہ رقم کن مقاصد کیلئے لی گئی تھی اور کہاں اور کیسے خرچ ہوئی؟انہوں نے کہاکہ جنہوں نے قومی دولت لوٹی اور پاکستان کے بچے بچے کا بال قرضوں کے جال میں جکڑا انکا کڑا احتساب اور محاسبہ ہونا چاہیے اور آڈیٹر جنرل پاکستان کی 2017-18کی رپورٹ پر چھان بین کیلئے خصوصی کمیٹی قائم کی جائے۔

مزید : میٹروپولیٹن 1