بسنت سے پابندی ہٹانے کے اعلانات افسوسناک ہیں،عبدالوہاب روپڑی

بسنت سے پابندی ہٹانے کے اعلانات افسوسناک ہیں،عبدالوہاب روپڑی

لاہور(نمائندہ خصوصی ) بسنت ہندوانہ اور خونی تہوار ، پابندی ہٹانے کے اعلانات افسوسناک اور قابل مذمت ہیں۔ غیر اسلامی و غیر شرعی تہوار کو منانے کا فیصلہ قبول نہیں کریں گے۔ حکومت قیمتی انسانی جانوں کے ساتھ خون کی ہولی کھیلنے سے باز رہے۔ ان خیالات کا اظہار جماعت اہل حدیث پاکستان کے مرکزی رہنما حافظ عبدالوہاب روپڑی، مولانا شکیل الرحمن ناصر و دیگر نے گذشتہ روز پنجاب حکومت کی جانب سے بسنت منانے کے اعلان کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کیا۔

رہنماؤں نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بسنت غیر شرعی تہوار ہے۔ انسانی جانوں کے ضیاع کے ساتھ ساتھ ملکی املاک کو پہنچنے والے نقصان کی تلافی کسی صورت ممکن نہیں۔

گذشتہ ادوار میں بسنت کے پروگراموں میں تمام تر احتیاطی تدابیر کے باوجود جانی و مالی نقصان کو نہیں روکا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ بسنت منانے کا فیصلہ کسی بھی صورت عوامی نہیں بلکہ چند مخصوص افراد کی مالی خواہشات کی تکمیل اور نام نہاد تفریح کے نام پر عریانی و فحاشی کا سامان ہے جو پاکستان جیسے اسلامی ملک میں قابل شرم ہے۔ خونی اور غیر شرعی تہوار کو منانے کی بجائے حکومت نوجوان نسل کی صحت و افزائش کیلئے پارکوں اور میدانوں کی بہتری کیلئے اقدامات کرے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی طرف سے بسنت منانے کے اعلان کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔ بسنت منانے کا فیصلہ کسی صورت قبول نہیں کرینگے اور نہ ہی اسلام کے نام پر حاصل کئے گئے ملک میں غیر شرعی تہوار کو منانے کی اجازت دینگے۔ انہوں نے کہا کہ بسنت منانے کا فیصلہ قاتل ڈور کے باعث لقمہ اجل بننے والوں کے لواحقین کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہے۔ شراب نوشی اور پتنگ بازی جیسے گھناؤنے کاموں کی اجازت دینے والے کس منہ سے پاکستان کو مدینہ کی ریاست بنانے کے دعوے کر رہے ہیں۔ مولانا شکیل الرحمن ناصر نے کہا کہ پتنگ بازی میں کئی قیمتی جانیں ضائع ہوتی ہیں ، فضول خرچی کی انتہا ہوتی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ ملکی املاک کا ناقابل تلافی نقصان ہوتا ہے۔ ہندووانہ تہوار کی اسلام کوئی گنجائش نہیں۔ جماعت اہل حدیث پاکستان نے مطالبہ کیا کہ پنجاب حکومت فی الفور اپنا فیصلہ واپس لے اور صلاحیات اور ملکی سرمایہ فضول خرچیوں میں اڑانے کی بجائے ملکی فلاح و بہبود کو ترجیح دی جائے۔

مزید : میٹروپولیٹن 4