چین اور پاکستان کا چینی کرنسی میں تجارت کرنے کا فیصلہ

چین اور پاکستان کا چینی کرنسی میں تجارت کرنے کا فیصلہ

پاکستان اور چین کے مابین لازوال دوستی کا سلسلہ گزشتہ 68 برسوں سے جاری ہے اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ دوستی مضبوط تر ہوتی جا رہی ہے۔1951ء میں پاکستان اور چین کے مابین سفارتی تعلقات کا قیام عمل میں آیا۔ پاکستان کا شمار اُن ممالک میں ہوتا ہے، جنہوں نے سب سے پہلے چین کو تسلیم کیا، اِس سے پاکستان اور چین کے مابین نئے باہمی تعلقات کا آغاز ہوا، جو دونوں ملکوں کے رہنماؤں اور عوام کی سطح پر مضبوط ہوتے چلے گئے، دُنیا اور خطے میں سیاسی تغیرو تبدل سے بالا تر دونوں ملکوں کی دوستی پروان چڑھتی رہی، جو دیگر ممالک کے لئے ایک مثال ہے پاکستان نے تائیوان، تبت ودیگر مسائل پر ہمیشہ چین کے اصولی موقف کی تائید کی۔ چین نے بھی پاکستان کی علاقائی سلامتی، آزادی اور حفاظت کے لئے کھلے دل کے ساتھ پاکستان کی حمایت کی اور مخلصانہ خود غرضی سے پاک مالی معاونت کے ذریعے پاکستان کی معاشی اور معاشرتی ترقی کے حصول اور استحکام کے لئے پاکستان کی مدد کی۔ پاکستان اور چین کی یہ دوستی نہ ختم ہونے والی دوستی ہے، جیسا کہ وزیر اعظم عمران خان نے چین کے ایک بہت تاریخ ساز معاہدیہ کرکے دنیا کو حیران کر دیا ہے، جس کے تحت پاکستان اور چین دونوں ممالک کے درمیان ہونے والی تجارت کو ڈالر کی اجارہ داری سے نکالنے کااصولی فیصلہ کیا گیا ہے۔ دونوں ممالک میں یہ معاملات طے پاگئے ہیں کہ آئندہ لین دین چینی کرنسی (یوآن) میں ہوگا۔ اس سے پہلے دونوں ممالک باہمی تجارت کے لئے ڈالر پر انحصار کرتے تھے، چین معاشی بحران سے نکلنے کے لئے پاکستان کی مدد کرے گا، دونوں ممالک کے درمیان 15 معاہدوں پر دستخط ہوئے۔ مشترکہ اعلامیہ میں کہا گیا کہ ایف اے ٹی ایف سیاسی مقاصد کے لئے استعمال نہیں ہونا چاہیے۔ پاکستان اور چین نے اتفاق کیا کہ اقوام متحدہ اور ایف اے ٹی ایف کو سیاسی مقاصد کے لئے استعمال نہیں ہونا چاہیے، چینی قیادت نے دہشت گردی کے خاتمے اور ہمسایہ ممالک کے ساتھ مسائل پُرامن طور پر حل کرنے کی پاکستانی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ دونوں ملک چھے ہمسائے، قریبی دوست، آہنی بھائی اور قابل اعتماد شراکت دار ہیں۔ پاکستان اور چین کے درمیان ڈالر کے بجائے یوآن میں تجارت کرنے کا تاریخی معاہدہ ہوا ہے، اب چین سے پاکستان کی تجارت چینی کرنسی یو آن میں ہوگی، ڈالر میں ادائیگیاں کرنے سے معیشت پر دباؤ پڑتا تھا، اقدام روپے کی قدر بہتر کرنے کا حصہ ہے، چین سے ہمارے تعلقات اہمیت کے حامل رہے ہیں اور رہیں گے، اس معاہدے کے بعد امریکہ اور دیگر پاکستان دشمن قوتوں کی پوری کوشش ہوگی کہ اس معاہدہ پر عملدرآمد نہ کیا جاسکے، کیونکہ ایسا کرنے سے پاکستان کو بے بس اورلاچار بنائے رکھنے کا ان کا گھناؤنا ایجنڈ دم توڑ جائے گا، کیونکہ اس تاریخی معاہدے کے باعث پاکستان کو چین سے تجارت اولین دین کے لئے ڈالر کی محتاجی کی ضرورت نہیں رہے گی، اس لئے وزیر اعظم اور ملک کی متقدرقوتوں کو پاکستان دشمن قوتوں کے جوابی حملہ اور اقدام پر گہری نظر رکھنا ہوگی، کیونکہ اگر اسوقت کسی بھی قسم کی غفلت اور لاپرواہی کا مظاہرہ کیا گیا تو یہ پاکستان کے مفاد کے خلاف ہوگا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ تجارتی خسارہ کم کرنے کے لئے ہم اپنی بر آمدات کو بڑھائیں اور درآمدات کو بتدریج کم کریں۔ ایسا کرنے سے ہم تیزی کے ساتھ ڈالر کی اجارہ داری ختم کرسکتے ہیں، چین کی معاشی ترقی پاکستان کے لئے رول ماڈل کی حیثیت رکھتی ہے، جس کا سب سے بڑا ثبوت یہ ہے کہ اس وقت ایک چینی یو آن کی ویلیو 20.17 پاکستانی روپوں کے برابر ہے۔ چینی کرنسی کا پاکستان میں متعارف ہونا فائنانشل لائن پر ایک بہت بڑی شفٹ ہوگا۔ یعنی پاکستان امریکی ڈالر سے چینی کرنسی کی طرف جائے گا، یہاں ایک بات قابل غور ہے کہ امریکہ اپنی کرنسی کے لئے اس حد تک حساس ہے کہ اس نے پوری عرب دنیا سے یہ معاہدہ کر رکھا ہے کہ تیل کی تمام خریدوفروخت امریکی ڈالر میں ہی ہوگی۔ سابق عراقی صدر صدام حسین پر امریکی مفادات سے غداری کے جو الزامات تھے، ان میں ایک یہ بھی تھا کہ صدام حسین نے امریکی ڈالر کی جگہ اپنی کرنسی میں ٹریڈنگ کرنے کا اعلان کیا تھا۔ ہمیں امریکی پنجوں سے نجات حاصل کرنی چاہیے، لیکن آزادی کی اس کوشش میں کسی دوسرے کی گرفت میں جانا کیا دانشمندی ہوگی؟ پاکستان کا خطہ چین کے لئے ایک گیٹ وے ہے، جس کے ذریعے وہ پوری دنیا پر معاشی حکمرانی کرے گا۔ کیا پاکستان اِس گیٹ وے کی اہمیت کو جتلاتے ہوئے چین سے ایسے معاہدے نہیں کرسکتا، جو مکمل طور پر پاکستان کے لئے ہوں؟ جن میں سے ایک چین سے پاکستان کی تمام ٹریڈنگ چینی کرنسی کی بجائے پاکستانی کرنسی میں ہو۔ اس طرح پاکستانی روپے کی قدر میں بے پناہ مضبوطی ہوسکتی ہے۔ چین اپنی کرنسی کی ٹریڈنگ کی شرط پاکستانی حدود سے باہر دوسرے ممالک کے ساتھ رکھ کر بھی اپنی کرنسی کو ڈالر کے مقابلے میں لاسکتا ہے۔

مزید : ایڈیشن 1