بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں صدارتی راج نافذ کر دیا ، نئی دہلی کا اقدام ظلم کے تسلسل کی کڑی ، اقوام متحدہ الفور خصوصی نمائندہ مقرر کرے

بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں صدارتی راج نافذ کر دیا ، نئی دہلی کا اقدام ظلم کے ...

سرینگر، اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک ، نیوز ایجنسیاں ، سٹاف رپورٹر) مقبوضہ کشمیر میں بھارت نے گورنر راج کی مدت پوری ہونے کے بعد گزشتہ روز صدراتی راج نافذ کر دیا ۔1996کے بعد یہ پہلی مرتبہ ہے کہ مقبوضہ علاقے میں صدراتی راج عمل میں آیا ہے۔ کشمیر میڈیاسروس کے مطابق بھارت کی مودی سرکار نے یہ اقدام مقبوضہ وادی کے کٹھ پتلی گورنر ستیہ پال ملک کی طرف سے بھیجی گئی سفارشات کو منظور کرتے ہوئے صدارتی راج نافذ کرنیکی منظوری دیدی، اگر حکومت کی جانب سے انتخابات کا اعلان نہ کیا گیا تو صدارتی راج 6 ماہ تک برقرار رہے گا ۔یاد رہے رواں سال جون میں مقبوضہ کشمیر اسمبلی میں کٹھ پتلی حکومت کی اتحادی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی نے حکمراں اتحاد سے علیحدگی اختیا ر کی جس کے بعد وزیراعلیٰ محمودہ مفتی کی حکومت اسمبلی میں اکثریت کھو بیٹھی۔اسمبلی میں مقررہ نشستیں نہ ہونے پر وادی میں گورنر راج کا نفاذ کیا گیا جس کی مدت گزشتہ روزمکمل ہوگئی ۔گورنر راج کے دوران مقبوضہ کشمیر میں ڈھونگ بلدیاتی انتخابات کا بھی انعقاد کیا گیا جس میں 95.73 فیصد کشمیریوں نے بائیکاٹ کر کے بھارت اور دنیا بھر کو واشگاف انداز میں اپنا فیصلہ سنایا کہ وہ ڈھونگ انتخابات نہیں بلکہ صرف اور صرف اپنا پیدائشی حق، حق خود رادیت چاہتے ہیں،میونسپل انتخابات کا ٹرن آؤٹ 4.27 فیصد رہا، اتنا کم ٹرن آؤٹ وادی میں 1951 سے اب تک کم ترین ریکارڈ ہے جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ صرف ضلع بارہ مولا میں ایک امیدوار صرف ایک ووٹ لے کر کامیاب ہوا۔دریں اثناء وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہاہے بھارتی حکومت کی طرف سے مقبوضہ جموں و کشمیر میں گورنر راج کے بعد صد ارتی راج کا نفاذ بھارتی ظلم اور بربریت کے تسلسل کی ایک اور کڑی ہے۔اپنے جاری کردہ بیان میں انکا مزید کہنا تھا ہماری انسانی حقو ق کی عالمی تنظیموں اور انسانی حقوق کے علمبرداروں سے گزارش ہے کہ بھارت کی طرف سے نہتے کشمیریوں پر ظلم و ستم فوری بند کروانے کیلئے اپنا کردار ادا کریں جبکہ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل سے پر زور مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ فی الفور خصوصی نمائندہ برائے مسئلہ کشمیر کا تقرر کریں ۔

صدارتی راج

مزید : صفحہ اول