حکومت اور اپوزیشن میں قائمہ کمیٹیوں کی تشکیل کے معاملے پر ڈیڈ لاک

حکومت اور اپوزیشن میں قائمہ کمیٹیوں کی تشکیل کے معاملے پر ڈیڈ لاک

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)حکومت اور اپوزیشن کے درمیان قائمہ کمیٹیوں کی تشکیل کے معاملے پر ڈیڈ لاک ختم ہوگیا اور دونوں ایک فارمولے پر رضا مند ہوگئے۔سپیکر اسد قیصر کے زیر صدارت پارلیمانی رہنماؤں کا اجلاس ہوا جس میں شاہ محمود قریشی، پرویز خٹک، فروغ نسیم اور علی محمد خان نے حکومتی جبکہ رانا تنویر، نوید قمر، شزا فاطمہ اور مولانا عبد الواسع سمیت دیگر نے اپوزیشن کی جانب سے نمائندگی کی۔اجلاس میں قائمہ کمیٹیوں کی تشکیل اور چیئرمینوں کے ناموں پر مشاورت پر غور کیا گیا اور حکومت و اپوزیشن اراکین نے قائمہ کمیٹیوں کیلئے ایک فارمولے پر اتفاق کیا۔حکومتی رکن رانا تنویر کے مطابق اپوزیشن اور حکومتی اراکین کو کمیٹیاں ان کی پارٹی ارکان کے تناسب سے ملیں گی، پہلے مرحلے میں 2 کمیٹیاں تشکیل دی جائیں گی جن میں پبلک اکاؤنٹس اور قانون و انصاف کی کمیٹیاں شامل ہیں۔رانا تنویر نے کہا کہ جمعہ کے روز 2 قائمہ کمیٹیاں تشکیل پا جائیں گی، ہمیں یقین دلایا گیا ہے کہ اپوزیشن کو اس کا پورا حصہ ملے گا تاہم حکومت نے اپنے اراکین کی لسٹ ابھی تک فائنل نہیں کی۔پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے رکن قومی اسمبلی نوید قمر نے میڈیا نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ 19 کمیٹیوں کی سربراہی اپوزیشن کا حق ہے، حکومت کہہ رہی ہے کہ اس فارمولے پر نظر ثانی ہوگی، اب دیکھتے ہیں کہ حکومت کیا فارمولا سامنے لے کر آتی ہے۔پیپلز پارٹی کی رکن شازیہ مری نے کہا کہ جب پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی چیئرمین شپ پر اتفاق ہوگیا تو دیگر قائمہ کمیٹیاں بھی بہت ضروری تھیں، حکومت سے استدعا کی کہ اپوزیشن کو 19 قائمہ کمیٹیوں کی سربراہی دی جائے لیکن حکومت 17 قائمہ کمیٹیاں دینا چاہتی ہے، امید ہے معاملے کا کوئی حل نکل آئے گا۔

ڈیڈ لاک ختم

مزید : صفحہ اول