اندرون لوہاری گیٹ میں 9سالہ بچی کا تشدد کے بعد گلا دبا کر قتل ، ماموں سمیت 2زیر حراست

اندرون لوہاری گیٹ میں 9سالہ بچی کا تشدد کے بعد گلا دبا کر قتل ، ماموں سمیت 2زیر ...

لاہور(کرائم رپورٹر) اندرون لوہاری گیٹ میں 9 سالہ بچی کو مبینہ طور پر بداخلاقی کے بعد گلا دبا کرقتل کر دیا گیا ،جس کا پولیس نے باپ کی درخواست پر قتل کا مقد مہ درج کر کے مقتولہ کے ماموں سمیت دو افراد کو حراست میں لیکر تفتیش شروع کر دی جبکہ وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدارنے اس واقعہ کا نوٹس لیتے ہوئے انسپکٹر جنرل پولیس سے رپورٹ طلب کر تے ہو ئے واقعہ کی تحقیقات اورملزمان کو جلد گر فتا ر کر کے قا نو نی کارروائی، مقتولہ کے لواحقین کو ہر قیمت پر انصاف فراہم کرنے کی ہدایت کر دی ۔مقدمے کے مدعی محمد طارق جمیل نے موقف اختیار کیا ہے کہ 18سال قبل اس کی شادی فاطمہ فردوس کیساتھ ہوئی جس سے اس کے دو بچے پیداہوئے کو ئی ڈیڑھ سال قبل میری بیوی سے ناچاقی ہو گئی جس پر اس نے بچوں سمیت اپنی والدہ کے گھر واقع پیر پیر بھولا میں رہائش اختیار کرلی ۔میر ی بیوی عمرہ کی ادائیگی کیلئے سعودی عرب گئی ہو ئی ہے حسب معمول میں کام پر گیا ہوا تھا مجھے اطلاع دی گئی کہ آپ کی بیٹی عائشہ گلے میں پھندا آنے سے جاں بحق ہو گئی ہے ۔پوسٹمارٹم کروا نے پر معلوم ہوا اسے تشدد کے بعد قتل کیا گیا ۔ایس پی سٹی معاز ظفر کا کہنا ہے انہوں نے جائے وقوعہ کا دورہ بھی کیا ہے ایک روز قبل بچی کی مو ت کے بعد اس کے ماموں اسے لیکر ہسپتال پہنچے تو ڈاکٹروں نے پولیس کو اطلاع کر دی ۔مقتولہ کے ماموں تمجید جسے حراست میں لے لیا گیا ہے نے بتایا بچی گھر میں اکیلی تھی اس کی موت کی اطلاع ملنے پر وہ گھر آیا اور اسے بے ہوشی کی حالت میں پا کر اسے فوری ہسپتال لے آیا جہاں ڈاکٹروں نے موت کی تصدیق کر دی، اس نے بھانجی پر تشدد نہیں کیا،پو لیس کے مطابق یہ بھی معلوم ہوا ہے جب بچی کی موت وا قع ہو ئی تو اس وقت گھر میں ماموں کے علاوہ دوسرا کو ئی شخص موجود نہیں تھا ۔بچی کیساتھ بداخلاقی کے حقائق جا ننے کیلئے فرانزک رپورٹ آ نے کے بعد اصل حقائق معلوم ہو نگے۔

مزید : صفحہ اول