بھارت میں خواتین غیر محفوظ

بھارت میں خواتین غیر محفوظ
 بھارت میں خواتین غیر محفوظ

  


بھارت میں عورتوں کی آبروریزی کے واقعات میں تشویشناک حد تک اضافہ ہوگیا ہے۔ بھارت کے نیشنل کرائم بیورو (این سی آربی) کی طرف سے جاری کی گئی رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ بھارت میں ایک گھنٹے میں دو عورتوں کو آبرورزی کا نشانہ بنایا جاتا ہے اور گزشتہ سال ملک میں آبروریزی کے واقعات میں 7.2فیصد اضافہ ہوا۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ گزشتہ سال 133 معمر عورتوں کو بھی آبروریزی کا نشانہ بنایا گیا۔

بھارت میں خواتین کی عزت پہلے بھی انتہائی غیر محفوظ تھی ،لیکن ریاست ہریانہ کی جاٹ برادری کے احتجاج کے دوران تو وہ ظلم ہو گیا کہ جس کا احوال جان کر دنیا کانپ اٹھی ہے۔ ہریانہ کی نیشنل ہائی وے پر سفر کرنے والی خواتین کے ساتھ بربریت کی انتہا کردی گئی۔

اخبار ’’ٹریبیون انڈیا‘‘ کا کہنا ہے کہ نیشنل ہائی وے پر مرتھال گاؤں کے قریب رات تقریباً تین بجے درجنوں غنڈوں نے متعدد گاڑیوں پر پتھراؤ کیا اور پھر کئی گاڑیوں کو آگ لگادی۔ گاڑیوں میں سوار افراد نے جان بچا کر بھاگنے کی کوشش کی تو وحشی حملہ آور ان کی خواتین جھپٹ پڑے اور ان میں سے درجن بھر کو اٹھا کر قریبی کھیتوں میں لے گئے۔ درجنوں سفاک درندوں نے بے بس خواتین کے لباس تار تار کر ڈالے اور انہیں اجتماعی عصمت دری کا نشانہ بناتے رہے۔

حیوان صفت غنڈے جب خواتین کی عصمت دری کے بعد انہیں نیم مردہ حالت میں پھینک کر فرار ہو گئے تو قریبی گاؤں کے لوگ اپنے گھروں سے کپڑے لے کر آئے تا کہ بد قسمت خواتین کے برہنہ بدن ڈھانپے جا سکیں۔ گاؤں کے لوگوں کا کہنا تھا کہ واقعے کے بعد پولیس بھی پہنچ گئی، لیکن غنڈوں کا تعاقب کرنے یا متاثرین کی دادرسی کی بجائے وہ الٹا درندگی کا نشانہ بننے والی خواتین اور ان کے خاندان والوں کو مشورہ دیتے رہے کہ وہ خاموشی سے اپنے گھروں کو چلے جائیں کیونکہ اس واقعے کا تذکرہ پھیلے گا تو ان کی بدنامی ہوگی۔

بھارت کے نیشنل کرائم بیورو کا کہنا ہے کہ گذشتہ دہائی کے دوران بھارتی دارالحکومت دہلی سے متصل ریاست ہریانہ میں دلت نامی پسماندہ ذات سے تعلق رکھنے والی خواتین کے ساتھ ریپ کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔ 2002 سے 2012 کے درمیان یہ تعداد تقریباً تین گنا ہو گئی ۔عورتوں کے خلاف جنسی تشدد اور دباؤ کے خلاف عورتوں کی تنظیم ڈبلیو ایس ایس کی رپورٹ میں متاثرہ لڑکیوں کے والدین سے ملاقات کر کے ان معاملات کی معلومات یکجا کی گئی ہیں۔رپورٹ لکھنے والوں میں سے ایک رجنی تلک نے بتایاکہ دلت لڑکیوں اور خواتین کیخلاف تشدد طویل عرصے سے ہو رہا ہے، لیکن گذشتہ سالوں میں جیسے جیسے وہ سماج کے دائروں کو توڑ کر گھر سے باہر نکل رہی ہیں انھیں واپس پیچھے لیجانے کی کوششیں بھی تیز ہوئی ہیں۔

خواتین کو عصمت ریزی اور جنسی تشدد کا نشانہ بنانے کے حوالے سے ریاست مدھیہ پردیش سرفہرست ہے۔ پولیس اور سرکاری اعدادوشمار کے مطابق گزشتہ سال بھارت میں آبروریزی کے 20737 کیس درج کئے گئے۔ بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں 602 عورتوں کو آبروریزی کا نشانہ بنایا گیا، جبکہ ریاست اترپردیش ، مغربی بنگال اور راجستھان میں بھی اسی بارے میں صورتحال انتہائی خراب ہے۔ آزاد ذرائع کا کہنا ہے کہ بھارت میں ہرسال لاکھوں عورتوں کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا جاتا ہے تاہم بیشتر واقعات میں ملزمان کے خلاف مقدمہ درج نہیں ہوتا اور بیشتر لوگ معاشرتی مسائل کے باعث پولیس کے سامنے مقدمات درج کرانے سے گھبراتے ہیں۔ نیشنل کرائم بیورو نے کہا ہے کہ درج ہونے والے 20737 مقدمات میں سے 19188 کیسوں میں ملزمان کی شناحت کے باوجود زیادہ تر کے خلاف کارروائی کو آگے نہیں بڑھایا گیا۔ رپورٹ میں بتایا گیاہے کہ زیادتی کا نشانہ بننے والی 11984 عورتوں کی عمریں 18 سے 30 برس کے درمیان تھیں۔

سیکولرازم اور مساوی حقوق کے نام نہاد علمبردار بھارت میں گزشتہ چند برسوں میں پیش آنے والے والی جنسی زیادتی کے پے در پے واقعات نے بھارت کا اصل چہرہ دنیا کے سامنے رکھ دیا ہے۔بھارتی خواتین کو عوامی جگہوں، خاندانوں اور دفتروں میں ہراساں اور جنسی تشدد کا نشانہ بنانا ایک معمول ہے ہر جگہ عدم تحفظ کی فضاء ہے۔ عوامی مقامات ہوں یا پھر پبلک ٹرانسپورٹ، عورتوں کو کہیں بھی جنسی طور پر ہراساں کر لیا جاتا ہے یا پھر جنسی تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔

بھارتی فلم انڈسٹری کی اداکاروں کا کہنا ہے کہ ہمارے ملک بھارت میں خواتین کی عزت محفوظ نہیں ہے حکومت کو اس حوالے سے قوانین بدلنے چاہئیں۔ ممبئی میں خواتین بہت زیادہ غیر محفوظ ہیں حکمرانوں کو خواتین کو تحفظ دینے کے لئے نئے قوانین بنانا ہوں گے۔اب تو یہ حال ہے کہ بھارتی پولیس اور فوج کے عہدیدار و اہلکار ریپ کیسوں کی اعانت کرتے ہیں۔ زیادہ تر ریپ کیس پولیس اہلکاروں کے زیر سایہ ہو رہے ہیں۔

اگر حکومت واقعی عورتوں کو جنسی تشدد سے بچانا چاہتی ہے تو اسے تمام قوانین کو خلوص اور سختی سے نافذ کرنے ہوں گے۔ اس میں سماجی، اقتصادی اور قانونی اصلاحات کرنی ہوں گی اور مساوات اور جمہوری سماج کے قیام کی طرف قدم بڑھانے ہوں گے۔

مزید : رائے /کالم