آرٹس کونسل کے عہد یدار فنکاروں کی فلاح کی بجائے اپنا پیٹ بھر رہے ہیں : حمید بھٹو

آرٹس کونسل کے عہد یدار فنکاروں کی فلاح کی بجائے اپنا پیٹ بھر رہے ہیں : حمید ...

کراچی (اسٹاف رپورٹر)سندھ فنکار ویلفیئر ٹرسٹ کے مرکزی چیئرمین حمید بھٹو نے کہا ہے کہ آرٹس کونسل کراچی سندھ حکومت سے کروڑوں روپے کی بجٹ حاصل کرکے سندھ کے ادیبوں ، فنکاروں اور سندھ کی ثقافت سے تعلق رکھنے والے کسی بھی فنکار کی ویلفیئر کی بجائے اپنے پیٹ بھر رہے ہیں، اس سلسلے میں سندھ حکومت فوری طور پر آرٹس کونسل کراچی کو سالانہ فراہم کردہ کروڑوں روپے کی بجٹ اور فنڈز بند کرنا چاہئے اور چیف جسٹس آف پاکستان کو فن ، ادب اور کلچر کے نام پر قبضہ گیری کلچر ل انکروچمنٹ کا خاتمہ کرنا چاہئے، آرٹس کونسل میں برسوں سے زائد کلچرل انکروچمنٹ مافیا بنی ہوئی ہے۔ ان خیالات کا اظہارانہوں نے سندھ کے فنکاروں کے منعقدہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ آرٹس کونسل میں حکومت سندھ کی جانب سے دیئے جانے والے بجٹ اور فنڈز کے باوجود سندھ کے فنکاروں، ادیبوں، شاعروں اور صحافیوں کو ممبرشپ نہیں دی جارہی، آرٹس کونسل کے صدر کو متعدد بار یاد دہانی کرانے کے باوجود سندھ کے ادیبوں، شاعروں، فنکاروں کو ممبرشپ اور حق رائے دہی سے محروم رکھا گیا، مذکورہ عمل کے خلاف اب اعلی عدلیہ سمیت سندھ کے وزیر علی سید مراد علی شاہ، صوبائی وزیر ثقافت سید سردار شاہ اور سیکریٹری ثقافت اکبر لغاری سے عنقریب ملاقاتیں کرکے آرٹس کونسل کراچی کو فراہم کی جانے والی بجٹ/گرانٹس سے متعلق شفاف انکوائری کرانے اور فنڈز کی خورد برد کے حوالے سے میٹنگ کرکے آرٹس کونسل کراچی کی انکروچمنٹ مافیا کے خلاف آواز بلند کیا جائے گا جبکہ سندھ اسمبلی میں ممبران کی توسط سے آرٹس کونسل کراچی میں ہونے والی کرپشن اور سندھ کے فنکاروں، ادیبوں، شاعروں اور صحافیوں کی ممبرشپ نہ ہونے سے متعلق احتجاج کرتے ہوئے آواز بلند کی جائے گی جبکہ آرٹس کونسل کے ہونے والے انتخابات میں فن اور ادب سے وابستہ فنکار برادری سیاہ پٹیاں بازں پر باندھ کر شرکت کرکے ممبران کو ایک یاداشت نامہ پیش کیا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ سندھ حکومت کا کلچرڈیپارٹمنٹ فنکاروں اور ادیبوں کی مالی مدد اور علاج کروا رہا ہے، کلچرڈیپارٹمنٹ کی کمیٹی میں آرٹس کونسل کراچی کاصدر ممبر ہونے کی وجہ سے کلچر ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے فنکاروں کو ملنے والے فنڈز کا کریڈٹ بھی آرٹس کونسل کراچی کے کھاتے میں ڈالنے کی کوشش کرتا رہتا ہے جو کلچر ڈیپارٹمنٹ کے ساتھ ناانصافی کے مترادف ہے۔ انہوں نے کہا کہ آرٹس کونسل کا صدارتی امیدوار ہمیشہ خود کو سندھ کا فرزند کہنا اورفخر سے نیا سندھی ہونے سے متعلق بلند و بانگ دعوے کرتا رہا ہے ، لیکن سندھ کے ہزاروں حقیقی فنکاروں، شاعروں ، ادیبوں اورصحافیوں کیلئے آرٹس کونسل کراچی میں ممبر شپ کے دروازے بند کررکھے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آرٹس کونسل کی سات ہزار سے زائد ممبرشپ کی فہرست میں سندھ کے فنکار، شاعر،صحافی دو سو بھی نہیں ہیں، جو کلچر انکروچمنٹ مافیا کی ذہنی پسماندگی اور سندھ سے جھوٹی وفاداری کی دعویداری کے مترادف ہے، سندھ میں رہنے والے بالخصوص کراچی میں سکونت پذیر تمام زبانوں کے حامل فنکاروں کو آرٹس کونسل کراچی میں ممبر شپ ملنی چاہئے جبکہ گذشتہ دس برسوں سے ہونے والی سندھی کلچر کانفرنس اور پاکستان کی تمام علاقائی زبانوں کی کانفرنسز منعقد کرنے کے محض اعلانات کئے گئے اور ان اعلانات پر کوئی عمل نہیں کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ سندھ کی ثقافت کو پروموٹ کرنے والے چند پروگرامز محکمہ کلچر کی جانب سے منعقد کئے گئے ، ان پروگراموں کے انعقاد میں آرٹس کونسل کامحض جگہ دینے کے علاوہ کوئی بھی کردار نہیں ہے۔ اجلاس میں ابراہیم خشک، لطیف منو، شبیراں چنا، اعجاز برڑو، حیدر قادری، جاوید اختر ناز، واحد لاشاری، نور علی شاہ، نادیہ چنا، تانیہ حسین، امجد عیسانی، عبدالمنان عباسی، باری ابڑو، نادیہ حسین، صفدر عباسی، وسیم مشتاق، ذوالفقار راہی، سیدہ تبسم ، اکبر زنگیجو، اصغر جونیجو، وفا دلدار، میر محمد ملاح، اے آر جمالی، سدھیر میرالی، بشارت عباسی، عمیر بھٹو، عبدالسمیع، امر کیٹوی، صفدر عباسی، شازیہ علی، کرن اینجل، شبیر لاکھو، بابر علی، لطیف نامی، نیاز جانی، صابر علی قریشی، نعیم بلوچ، لطیف حیدر خاصخیلی، وفا دلدار، جگر جلال، حمید صابری، خالد شاہ، محمد صدیق، ناشاد عبدالرزاق، شہزاد قادری، ذوالفقار راہی، نظام کھیڑو، زارا علی، سلیم جان، علی شیر جتوئی، ڈاکٹر ندیم، فاروق کرن، منیر پٹیل، لیاقت وگھیو، منور چنا، ممتاز چانڈیو، علی رضا سہتو، باری ابڑو،گل حسن لاکھو، علی حسن ودیگر بھی موجود تھے۔ اجلاس میں متفقہ رائے سے فیصلہ کیا گیا کہ آرٹس کونسل میں سندھ کے فنکاروں، شاعروں، ادیبوں اور صحافیوں کو ممبرشپ دی جائے اور آرٹس کونسل انتظامیہ کی جانب سے کی گئے بے قائدگیوں سے متعلق پریس کانفرنس کے انعقاد کے ساتھ ساتھ مظاہرے بھی کئے جائیں گے۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر