کیا قانون دیکھنا صرف سپریم کورٹ کی ہی ذمہ داری ہے

کیا قانون دیکھنا صرف سپریم کورٹ کی ہی ذمہ داری ہے

لاہور(نامہ نگارخصوصی)قائم مقام چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے قراردیاہے کہ سمجھ میں نہیں آتاپولیس درست سمت میں کیوں تفتیش نہیں کرتی ؟کیا قانون دیکھنا صرف سپریم کورٹ کی ہی ذمہ داری ہے ۔فاضل جج نے یہ ریمارکس خاتون سے بداخلاقی کی کوشش میں گرفتار جعلی پیر اعجاز بٹ کی درخواست ضمانت منظور کرتے ہوے دیئے ۔مسٹر جسٹس منظور احمد ملک کے ہمراہ سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں اس کیس کی سماعت کے دوران قائم مقام چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ حقائق سامنے لانے کے لئے ہی تفتیش کرائی جاتی ہے ،پولیس درست سمت میں کیوں تفتیش نہیں کرتی ؟ایڈیشنل پراسیکیوٹر جنرل نے عدالت کو بتایا کہ پیر نے دم کرانے کے لئے آنے والی مریدنی سے بد اخلاقی کی کوشش کی ،ملزم پیر کے خلاف تھانہ غازی آباد لاہور میں مقدمہ درج ہوا،خاتون کے شوہر نے موقف اختیار کیا کہ پیشہ ور پیرنے کمر پر تعویز لکھنے کا کہہ کربے حرمتی کی کوشش کی، عدالت نے قرار دیا کہ جب پتہ تھا کہ پیشہ ور پیرہے تو کیوں گئے؟ شوہر نے بتایا کہ اس کی بیوی بتائے بغیر جعلی پیر کے پاس چلی گئی ، عدالت نے قرار دیا کہ آئندہ پیشہ ور پیروں کے پاس جانے کی بجائے احتیاط کریں، عدالت نے مزید قرار دیا کہ تفتیش میں بھی اصل حقائق سامنے نہیں آئے اورنہ ہی جرم کے اطلاق کا تعین کیا گیا،عدالت نے مزید ریمارکس دئیے کہ مدعی جتنا مرضی بڑا الزام لگائے، حقائق سامنے لانا تفتیشی کا کام ہے، عدالت نے ملزم پیر اعجاز بٹ کی درخواست ضمانت منظور کرتے ہوئے اسے ایک لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکے کے عوض رہا کرنے کا حکم دے دیا۔

قائم مقام چیف جسٹس

مزید : علاقائی