”شادیوں پر خواتین اور مردوں کا اکٹھے کھانا بھی گناہ اور۔۔۔“ نئے فتوے نے سب کو ’ہلا‘ دیا

”شادیوں پر خواتین اور مردوں کا اکٹھے کھانا بھی گناہ اور۔۔۔“ نئے فتوے نے سب ...
”شادیوں پر خواتین اور مردوں کا اکٹھے کھانا بھی گناہ اور۔۔۔“ نئے فتوے نے سب کو ’ہلا‘ دیا

  


مظفر نگر (ڈیلی پاکستان آن لائن) دارالعلوم دیوبند نے فتویٰ جاری کیا ہے کہ شادیوں سمیت کسی بھی تقریب میں مردوں اور خواتین کے اکٹھے کھانا کھانے کو غیر اسلامی ہے جبکہ اسلام میں کھڑے ہو کر کھانے کی بھی اجازت نہیں ہے۔

بھارتی میڈیا کے مطابق دیوبند کے ایک رہائشی نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا اس نے پر دارالعلوم کا اس معاملے پر موقف جاننے کیلئے رابطہ کیا۔ اس نے بتایا کہ ”میں چاہتا تھا کہ اسلام شادی سمیت کسی بھی تقریب میں خواتین اور مردوں کے اکٹھے کھانا کھانے اور کھڑے ہو کر کھانے کے حوالے سے کیا کہتا ہے۔ “

علماءکرام نے مذکورہ شخص کے سوال پر جواب دیتے ہوئے کہا کہ شریعت کے مطابق دونوں کام ہی ممنوع ہیں اور شادی یا کسی اور تقریب میں خواتین اور مردوں کا اکٹھے کھانا ناجائز ہے جبکہ کھڑے ہو کر کھانا مسلم معاشرے کو تباہ کر دے گا اس لئے ایسے اقدامات سے گریز کرنا چاہئے۔

دیوبند کے مفتی اطہر قاسمی نے فتوے کے دفاع میں کہا کہ خواتین کا کسی تقریب میں شریک ہونا جہاں اجنبی مرد بھی ہوں اور ان کیساتھ کھانا نوش کرنا خواتین کیلئے اچھا نہیں ہے اور اس کی سختی سے ممانعت ہے جبکہ اسلامی قوانین کے مطابق یہ گناہ ہے۔ کھڑے ہو کر کھانا بھی ناجائز ہے، اس لئے ہم تمام مسلمانوں سے اس فتوے پر عمل کرنے کی اپیل کرتے ہیں۔

مزید : قومی /ڈیلی بائیٹس