منگنی ٹوٹنے پر خاتون منگیتر ڈائن بن گئی ، 2 بچوں کا گلا دبا دیا

منگنی ٹوٹنے پر خاتون منگیتر ڈائن بن گئی ، 2 بچوں کا گلا دبا دیا
منگنی ٹوٹنے پر خاتون منگیتر ڈائن بن گئی ، 2 بچوں کا گلا دبا دیا

  

شیخوپورہ (ویب ڈیسک)تھانہ بھکھی کے علاقہ فیروزوٹواں میں سفاک سابق خاتون منگیتر نے منگنی توڑنے کی رنجش پر اپنے تین ساتھیوں کی مدد سے دو کمسن بہن بھائیوں تین سالہ خدیجہ اور دو سالہ توحید کو اغواءکرکے ان کے گلے دبا کر قتل کردیا اور بعدازاں نعشیں نہر میں بہادیں اور پھر خود ہی بچوں کی گمشدگی کے اعلانات مساجد میں کرواتے رہے شک پڑنے پرپولیس نے خاتون اور اس کے دو ساتھیوں کو حراست میں لیا تو ملزمان نے بچوں کو قتل کرنے کا انکشاف کرکے نہر سے نعشیں برآمد کروادیں، ملزمان میں مقتول بچوں کا سگا ماموں بھی شامل ہے ، بچوں کے قتل کی اطلاع ملتے ہی ان کے والدین پر غشی کے دورے پڑنا شروع ہوگئے اور پورے علاقہ کی فضا سوگوار ہوگئی ،دیہاتیوں نے مطالبہ کیا ہے کہ قاتلوں کو سرعام پھانسی دی جائے ۔

روزنامہ خبریں کے مطابق جڑانوالہ کے چک نمبر 378گ ب کے رہائشی شکیل احمد کی ملزمہ نبیلہ بی بی سے منگنی ہوئی تھی جو بعدازاں کسی وجہ سے ٹوٹ گئی اور شکیل احمد کی شادی ملزمہ کے ہمسایہ خاتون عذرا بی بی سے ہوگئی جس کا ملزمہ کو شدید رنج ہوا تاہم شکیل احمد اپنی بیوی کے ساتھ جڑانوالہ میں خوشگوار ازدواجی زندگی بسر کررہا تھا اور ان کے ہاں دو بچوں کی پیدائش ہوئی جن میں تین سالہ بیٹی خدیجہ اور دو سالہ بیٹا توحید شامل ہے تین روز قبل شکیل احمد اپنی بیوی اور بچوں کے ہمراہ فیروزوٹواں کے علاقہ رانا ٹاﺅن میں اپنے سسرالیوں سے ملنے آیا ہوا تھا کہ اس دوران اسکے دونوں بچے گھر میں کھیل رہے تھے کہ ملزمہ نبیلہ بی بی نے اپنے ساتھیوں علی اور شاہد کی مدد سے دونوں کا اغواءکرلیا اور پھر سفاک ملزمہ نبیلہ نے اپنی منگنی ٹوٹنے کا بدلہ معصوم بچوں کا گلا دبا کر قتل کرکے لیا اور ایک ماں کی کوکھ سونجی کردی ملزمان نے دو روز تک بچوں کی نعشوں کو اپنے گھر میں چھپائے رکھا اور اس دوران مساجد میں ان کی گمشدگی کے اعلانات کروانے کےساتھ ساتھ خود بھی انہیں ڈھونڈنے میں لگے رہے اور بعدازاں نعشیں شاپر میں ڈال کر بھکھی کے قریب نہر میں پھینک دیں اس دوران ملزمان کی حرکات و سکنات کو مشکوک سمجھ کر پولیس نے علی اور شاہد کو گرفتار کیا اور دوران تفتیش دونوں نے انکشاف کیا کہ ملزمہ نبیلہ بی بی کی ایماءپر تینوں نے ملکر بچوں کو اغواءکیا اور قتل کرنے کے بعد نعشیں نہر میں پھینک دیں جس پر پولیس نے انکی نشاندہی پرنہر سے دونوں مقتول بچوں کی نعشیں برآمد کرلیں بچوں کے قتل کی سفاکانہ واردات نے متاثرہ خاندان کے ہاں قیامت صغریٰ ڈھا دی جبکہ اہل دیہہ بھی اشکبار اور رنجیدہ ہو کر رہ گئے ، اخباری ذرائع کے مطابق ملزمہ نبیلہ بی بی کے ایک ملزم علی سے مراسم تھے اور وہ یہ پلاننگ کچھ عرصہ سے کررہے تھے۔

مزید : علاقائی /پنجاب /شیخوپورہ