اللہ والوں کے قصّے... قسط نمبر 64

اللہ والوں کے قصّے... قسط نمبر 64
اللہ والوں کے قصّے... قسط نمبر 64

  

جب حضرت بایزید بسطامیؒ مکتب میں داخل ہوئے تو آپ نے جب سورہ لقمان کی یہ آیت پڑھی۔ترجمہ : ’’میرا شکر ادا کرو اور اپنے والدین کا‘‘مدرسہ سے واپس آکر اپنی والدہ سے فرمایا ’’میں اپنے حقوق سے دست بردار ہوکر تجھے خدا کے سپرد کرتی ہوں۔‘‘ اس کے بعد آپ شام کی جانب نکل گئے اور وہیں ذکر و شغل کو جزو حیات بنالیا۔

***

ایک شخص حضرت امام ابو حنیفہؒ کا مقروض تھا۔ اس شخص کے علاقہ میں کسی کی موت واقع ہوگئی اور جب حضرت ابو حنیفہؒ نماز جنازہ کے لیے وہاں پہنچے تو ہر طرف دھوپ پھیلی ہوئی تھی اور موسم بھی بہت گرم تھا لیکن آپ کے مقروض کی دیوار کے پاس کچھ سایہ تھا۔چنانچہ جب لوگوں نے کہا کہ آپ یہاں چھاؤں میں تشریف لے آئیں تو آپ نے فرمایا ’’صاحب خانہ میرا مقروض ہے اس لیے اس کے مکان کے سایہ سے استفادہ کرنا میرے لیے جائز نہیں کیونکہ حدیث میں ہے کہ قرض کی وجہ سے جو نفع بھی حاصل ہو وہ سود ہے۔‘‘

اللہ والوں کے قصّے... قسط نمبر 63 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

**

حضرت امام بن حنبلؒ کے صاحبزادے حضرت صالحؒ اصفہان کے قاضی تھے اور ایک مرتبہ حضرت حنبلؒ کے خادم نے حضرت صالحؒ کے باورچی خانہ سے خمیر لے کر روٹی تیار کی اور جب روٹی امام صاحبؒ کے سامنے پہنچی تو آپ نے پوچھا ’’یہ اس قدر گداز کیوں ہے؟‘‘ خادم نے پوری کیفیت بتادی تو آپ نے فرمایا کہ جو شخص اصفہان کا قاضی رہا ہو اس کے یہاں سے خمیر کیوں لیا۔ لہٰذا یہ روٹی میرے کھانے کے لائق نہیں رہی اور یہ کسی فقیر کے سامنے پیش کرکے بتادینا کہ اس روٹی میں خمیر تو صالحؒ کا ہے اور آٹا احمد بن حنبلؒ کا۔ اگر تمہاری طبیعت گوارا کرے تو لے لو۔‘‘لیکن چالیس یوم تک کوئی سائل ہی نہ آیا اور جب روٹیوں میں بو پیدا ہوگئی تو خادم نے دریائے دجلہ میں پھینک دیں لیکن امام صاحبؒ کے تقویٰ کا یہ عالم تھا کہ آپ نے اس دن سے دریائے دجلہ کی مچھلی نہیں کھائی۔

***

حضرت رابعہ بصریؒ نے ایک مرتبہ حضرت حسن بصریٰؒ کے لیے بطور ہدیہ موم، سوئی اور بال روانہ کئے اور ساتھ یہ پیغام بھی بھیجا کہ موم کی مانند خود کو پگھلا کر روشنی فراہم کرو اور سوئی کی مانند برہنہ رہ کر مخلوق کے کام آؤ اور جب تم ان دونوں چیزوں کی تکمیل کرلو گے تو بال کے مانند ہوجاؤ گے اور کبھی تمہارا کوئی کام خراب نہ ہوگا۔

***

حضرت حسن بصریؒ کہیں تشریف لے جارہے تھے تو دریائے دجلہ کے کنارے حضرت حبیب عجمیؒ سے ملاقات ہوگئی۔ انہوں نے پوچھا کہ کہاں کا قصد ہے۔‘‘

حضرت حسنؒ نے کہا کہ دریا کے پار جانا چاہتا ہوں اور کشتی کا منتظر ہوں۔‘‘

حبیب عجمیؒ نے فرمایا ’’بغض اور حب دنیا کو قلب سے نکال کر مصائب کو غنیمت تصور کرو اور اللہ پر اعتماد کرکے پانی کے اوپر روانہ ہوجاؤ۔‘‘

یہ کہہ کر خود پانی کے اوپر چلتے ہوئے دوسرے کنارے پر جاپہنچے۔یہ کیفیت دیکھ کر حضرت حسن بصریؒ پر غشی طاری ہوگئی اور ہوش آنے پر جب لوگوں نے غشی کا سبب دریافت کیا تو فرمایا۔’’حبیب عجمیؒ کو مَیں نے علم سکھایا لیکن اس وقت وہ مجھ کو نصیحت کرکے خود پانی کے اوپر روانہ ہوگئے اور اسی دہشت سے مجھ پر غشی طاری ہوگئی کہ جب روز محشر پل صراط پر چلنے کا حکم دیا جائے گا اور اگر مَیں اس وقت بھی محروم رہ گیا تو کیا کیفیت ہوگی۔‘‘(جاری ہے )

اللہ والوں کے قصّے... قسط نمبر 65 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید : کتابیں /اللہ والوں کے قصے