اپنی حاملہ بیوی کو قتل کرنے والے قیدی کو خواتین نے جیل میں اپنی غیر اخلاقی تصاویر کیوں بھیجنا شروع کردیں؟

اپنی حاملہ بیوی کو قتل کرنے والے قیدی کو خواتین نے جیل میں اپنی غیر اخلاقی ...
اپنی حاملہ بیوی کو قتل کرنے والے قیدی کو خواتین نے جیل میں اپنی غیر اخلاقی تصاویر کیوں بھیجنا شروع کردیں؟

  

نیویارک(مانیٹرنگ ڈیسک)کوئی شخص چوہرے قتل کے جرم میں قید کی سزا کاٹ رہا ہو تو شہری یقینا اس سے نفرت کریں گے لیکن آپ یہ سن کر دنگ رہ جائیں گے کہ امریکہ میں اپنی حاملہ بیوی اور دو بیٹیوں کو کرنے والے ایک سفاک قاتل کو درجنوں خواتین محبت بھرے خط لکھ رہی ہیں اور خطوط میں اپنی فحش تصاویر بھی بھیج رہی ہیں۔ میل آن لائن کے مطابق امریکی ریاست کولوریڈو کے 33سالہ کرس واٹس نامی اس قاتل نے اپنی بیوی شینن واٹس اور بیٹیوں4سالہ بیلا اور 3سالہ سیلیسٹی کو 13اگست کو ان کے گلے دبا کر قتل کیا۔ اس کی حاملہ بیوی کے پیٹ میں بیٹا پرورش پا رہا تھا جو دنیا میں آنے سے پہلے ہی دنیا سے رخصت ہو گیا۔ قاتل کو 19نومبر کو عمر قید کی سزا سنا کر جیل بھجوایا گیا تھا اور تب سے حیران کن طور پر اسے امریکہ بھر سے خواتین محبت بھرے خطوط بھیج رہی ہیں۔

رپورٹ کے مطابق کرس واٹس کو اب تک مختلف خواتین کی طرف سے 60سے زائد خط موصول ہوئے ہیں۔ ایک خاتون نے کرس کو خط میں اپنی بکنی میں بنائی گئی تصویر بھیجی اور لکھا کہ ”مجھے نہیں معلوم آپ کو میرا یہ خط پسند آئے گا یا نہیں تاہم میں تم سے رابطہ رکھنا چاہتی ہوں۔ میری عمر 29سال ہے اور میں نیویارک میں رہتی ہوں۔ کیا تم کبھی نیویارک آئے ہو؟ تم جب کبھی جیل سے باہر آﺅ گے تو میری خواہش ہو گی کہ ہم اکٹھے رہ سکیں۔“امریکی ریاست اوہائیو سے ٹمی نامی خاتون نے اپنی تصویر کے ساتھ کرس کو لکھا کہ ”میں اوہائیو سے ہوں اور میری عمر 36سال ہے۔ میں نے اب تک شادی نہیں کی اور نہ ہی میرے بچے ہیں۔مجھے نہیں معلوم کہ میرا یہ خط تم تک پہنچے گا یا نہیں لیکن اگر تمہیں یہ خط ملے اور تم مجھے اپنی دوست بنانا چاہو تو جوابی خط ضرور لکھنا۔“دیگر تمام خواتین نے بھی کرس کے لیے نیک تمناﺅں کا اظہار کیا ہے اور اسے دوستی کی پیشکش کی ہے تاہم چند خطوط ایسے تھے جن میں خواتین نے اس سے نفرت کا اظہار کیا۔ ان میں سے ایک خاتون نے اسے بددعا دیتے ہوئے لکھا کہ ”کاش جیل میں کوئی تم پر جنسی و جسمانی تشدد کرے تاکہ تمہیں سمجھ آئے کہ تم نے اپنی بیوی اورمعصوم بچیوں پر کیسا ظلم کیا ہے۔“

مزید : ڈیلی بائیٹس