شرمندگی کا عنوان؟

شرمندگی کا عنوان؟
شرمندگی کا عنوان؟

  



پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی پر الیکٹرانک میڈیا اور ڈاکٹروں کا موقف ہے: ”وکلاء نے جتھے کی صورت میں ہلہ بول دیا“……ان کے مطابق توڑپھوڑ اور ہلڑبازی کی نوعیت کچھ ایسی تھی کہ ہسپتال فی الواقع میدان جنگ بن گیا۔ جلاؤ، گھیراؤ اور قومی املاک کی مکمل تباہی و بربادی! مجھے اس خبر کی تائید یا تردید مقصود نہیں۔ بس صرف اتنا کہنا چاہتا ہوں کہ یہ بالکل بھی اچھا نہیں ہوا اور شاید زیبِ داستان کے لئے کچھ بڑھا بھی دیا گیا، جیسا کہ ایسے واقعات میں عموماً ہوتا ہے!……ایک طرف سفید کوٹ والے تھے۔ ان کی نسبت حلقہ ء عوام میں بوجوہ تاثر عام ہے کہ یہ خون بھی اپنا سفید رکھتے ہیں اور مسیحاؤں کے روپ میں قاتل ہیں؟نہیں یہ طرزِ فکر حد سے تجاوز،نامناسب اور کافی سے زیادہ اضافی ہے۔

سوال لیکن یہ ہے کہ کیا ڈاکٹروں کو فرشتے قرار دیا جانا روا اور بجا ہے؟ یہ خدا مست اور انسان دوست ہیں؟ کیا یہ دوسرے معاشرتی طبقات کی طرح جائز و ناجائز ذرائع سے خون کشید کرتے اور مال و دولت جمع نہیں کرتے؟ اگر کوئی بدنصیب فرد یا خاندان ان کا مناسب یا نا مناسب ”بل“ نہ دے پائے تو کیا متوفی کی لاش روک لینے کی اندوہناک خبر کبھی سامنے نہیں آئی؟ استثناء ہر جگہ موجود ہوا کرتا ہے، لیکن ان کی انسانیت کی خدمت اکثر و بیشتر ہوس زر کا شاخسانہ!، لہٰذا میرا خیال ہے کہ انہیں عملاً ناحق مسیحا قرار دیا جاتا ہے۔ خوفِ خدا اور رسولِؐ خدا سے شرم و حیا اور خوفِ آخرت محض رسمی ٹھہرا۔ وہ بھی ڈاکٹر ہی تو ہیں، جو صحت کا کھلواڑ کرتے اور غیر انسانی دھندوں کے کاروبار میں ملوث چلے آتے ہیں۔

دوسری طرف وکلاء یعنی قانون کے رکھوالے ہیں۔ مصورِ پاکستان بابائے قوم کے ”قابل فخر“ پیشے کے وارث! چودھری رحمت علی بھی اس شعبے سے ہی متعلق تھے۔آہ! ان کے بارے میں یہ کہا جانے لگا ہے کہ کالے کوٹ کی طرح ان کے دل بھی کالے ہیں، نہیں تو دل کے لئے مختص ہسپتال پر حملہ! چہ معنی دارد؟ کالی بھیڑیں کس ادارے میں موجود نہیں؟ اور بدقسمتی سے محفوظ بھی! انہوں نے بالواسطہ، بلا واسطہ پوری قوم اور معاشرے کو یرغمال بنا رکھا ہے۔ جو جتنا قانون شکن اور شرپسند ہے، وہ اتنا ہی ”معزز“ اور طاقتور! کل مجھ سے ایک بیدار مغز شخص نے پوچھا: من حیث القوم ڈاکٹروں اور وکیلوں کو پڑھا لکھا کہنا روا اور تعلیم یافتہ بولنا بجا ہے؟ ہاں انہیں!! اگر اسناد رکھنا ’علم‘ ہے تو یہ دونوں عالم! نہیں تو قوم کو اور قوم کا تماشا بنا دینے والے لکھے پڑھے جاہل! انہیں کیا کہیں،

جن کے سبب ہر باشعور اور مہذب شخص کا ہر شرم سے جھک گیا ہے! صد حیف کہ پاک وطن کے ڈاکٹروں اور وکیلوں پر غنڈہ گردی کی پھبتی کسی جانے لگی۔ چند”مچھلیوں“ نے پورا جال ہی گندہ کر دیا۔ کیا وکیل یا ڈاکٹر کَن ٹٹے اور دیہاڑی باز بھی ہو سکتے ہیں؟ سابق چیف جسٹس آف پاکستان افتخار محمد چودھری کی بحالی کا ”معرکہ“ سر ہونے کے بعد لوگوں نے سوچا کہ اب ہر گھر میں ”دفاع“ کی غرض سے ایک وکیل ناگزیر ہے۔ وہ دن اور آج کا دن،ایک دوڑ لگی ہے۔ ایک انسان کو وکیل بننے میں چند برس درکار ہیں۔ حقیقت کی حقیقت اور لطیفے کا ایک لطیفہ! پھر انسان بننے میں بقیہ ساری عمر ناکافی! ڈاکٹر بھی چنداں مختلف نہیں!

ڈاکٹربالطبع گونگے ستم گر ہیں اور ایڈووکیٹ……؟ غالباً 2007ء میں قانون دان، اپنے چیف کے جانثار اور بے شمار تھے۔ پھر یوں ہوا کہ عدلیہ کے فیصلے بھی سڑکوں پر ہونے لگے۔ اے کاش! ہم واپس چیمبر اور کچہری میں آ گئے ہوتے! اب کوئی بتائے کہ کیا کیا جائے؟پھر سے عمرانی امور اور دستور کو دیکھنا چاہیے! آہ! ایک پھبتی اور بھی ہے کہ جس ملک کے ڈاکٹر اور ایڈووکیٹ غنڈہ گردی کریں، وہاں کے غنڈے یہ پوچھتے ہیں کہ آخر ہم کیا کریں؟وکیل یہ کہتے ہیں کہ ہم عدالت میں ڈاکٹر کو کرسی پر نہیں بیٹھنے دیں گے اور ڈاکٹروں کا خیال ہے کہ وہ ایڈووکیٹ کا علاج نہیں کریں گے۔ خوب! یہ وہ کام کریں گے جو نہیں کرنا چاہیے اور وہ نہیں کریں گے جو کرنا لازم۔ وکیل اور ڈاکٹر ایک ہی قوم اور معاشرے کا حصہ ہیں۔ یہ ایک دوسرے کا گریبان پکڑنے پر بضد ہیں۔ آخر کیوں؟ ایک وکیل کا باپ، بھائی اور بیٹا یا ماں، بہن، بیوی اور بیٹی ڈاکٹر ہوں تو کیا؟ اور کسی ڈاکٹر کے انہی رشہ داروں میں سے وکیل ہوں تو پھر……؟ خدا کا خوف کرو اور انسان ہونے کا ثبوت دو! کیا ہمارے پاس انسانی شکل و صورت کے سوا بھی انسانیت کی کوئی سند موجود ہے؟ ہے تو کیا؟ نہیں تو کیوں؟ سفید اور کالے کوٹ کا آخر کوئی مقصد تو ہو گا؟ آخر یہ کس چیز یا فرض کی علامت ہے؟ یہ بات کس سے پوچھیں؟ کوئی تو بتائے کہ مَیں بتلاؤں کیا؟مَیں وکیل ہوں تو شرمندہ اور بالفرض ایک ڈاکٹر ہوں تو بھی شرمندہ! ویسے میں بہ اعتبار پیشہ وکیل ہوں۔

مزید : رائے /کالم