صدر ٹرمپ مواخذے اور الزامات کی زد میں

صدر ٹرمپ مواخذے اور الزامات کی زد میں
صدر ٹرمپ مواخذے اور الزامات کی زد میں

  

صدر ٹرمپ کے خلاف مواخذے کی کارروائی اس وقت تیز ہوتی جا رہی ہے،لیکن وہ بہت سے ایسے الزامات کا بھی مسلسل سامنا کر رہے ہیں، جو مواخذے کی چارج شیٹ میں شامل نہیں ہیں۔وہ منظر عام پر آتے ہیں اور پھر اُوجھل ہو جاتے ہیں۔ اس سارے معاملے کا جائزہ لینے سے پہلے مَیں یہ بتا دوں کہ رائٹر نہ تو صدر ٹرمپ کا حامی ہے نہ مخالف……اس لئے میری رائے کسی ذاتی پسند یا ناپسند پر مبنی نہیں ہے۔

جہاں تک صدر ٹرمپ کے مواخذے کا معاملہ ہے اس کا مَیں نے اپنی واشنگٹن سے ڈسپیچز میں اس وقت تذکرہ شروع کیا تھا، جب یقینا پڑھنے والوں نے اسے ”لانگ شاٹ“ سمجھ کر نظر انداز کر دیا ہو گا، لیکن مجھے پہلے دن ہی سے یقین تھا کہ صدر ٹرمپ وائٹ ہاؤس سے نکلیں یا نہ نکلیں،لیکن وہ امریکی تاریخ کے چوتھے صدر بننے جا رہے ہیں جن کے خلاف مواخذے کا مقدمہ چلا ہے……مواخذے کا مقدمہ شروع ہونے سے پہلے بہت سے اُتار چڑھاؤ آتے رہے۔ کبھی لگتا کہ یہ معاملہ آگے نہیں بڑھے گا۔کبھی جب ایسا لگا کہ معاملہ آگے بڑھے گا تو آخر میں وہ بنیاد ہی بدل گئی،جس پر مقدمہ چلنا تھا۔2016ء کے صدارتی انتخابات میں ٹرمپ کے حق میں روسی مداخلت پر ڈیڑھ سال کی تفتیشی ریاضت کے بعد جب خصوصی تفتیش کار رابرٹ میولر کی مفصل رپورٹ سامنے آئی تو صاف نظر آ رہا تھا کہ اس بنا پر صدر ٹرمپ کے گلے میں پھندا پڑ ہی کر رہے گا،

لیکن ایسا نہ ہو سکا۔ رپورٹ کے خلاصے میں رابرٹ میولر نے اعتراف کیا کہ ٹرمپ اور ان کی ٹیم کی روس کے ساتھ ملی بھگت کے کافی شواہد موجود ہیں۔غالباً ٹرمپ ٹیم کی آشیر باد سے ہی روس نے ڈیمو کریٹک پارٹی کا کمپیوٹر سسٹم اور ہیلری کلنٹن کی ای میلز کا ڈیٹا ہیک کر کے ہیلری کلنٹن کا ریکارڈ خراب کرنے کی کامیاب کوشش کی، لیکن رابرٹ میولر نے ایک ایسا کام کیا، جس سے ٹرمپ کو فائدہ پہنچ گیا۔کوئی مصلحت تھی یا انصاف کا تقاضہ تھا کہ انہوں نے صدر ٹرمپ پر فردِ جرم عائد نہیں کی،جس کا ڈیمو کریٹک پارٹی کی اکثریت والا ایوان نمائندگان اور اس کی کمیٹیاں انتظار کر رہی تھیں۔ انہوں نے یہ رائے دی کہ آئین اور قانون انہیں فردِ جرم عائد کرنے کا اختیار نہیں دیتا۔آئینی ماہرین کی یہ رائے نہیں تھی،لیکن وہ مصلحت کی پتلی گلی سے صاف باہر نکل گئے اور یہ کام صدر ٹرمپ کے قریبی ساتھی اور ان کی کابینہ کے رکن اٹارنی جنرل پر چھوڑ دیا۔نتیجہ صاف ظاہر تھا…… توقع کے مطابق کانگریس اور اس کی کمیٹیوں کے دباؤ کے باوجود انہوں نے صدر ٹرمپ کو کلین چٹ دے دی۔اس طرح یہ معاملہ صدر ٹرمپ کے مواخذے کے مقدمے کی بنیاد تو نہ بن سکا،لیکن ٹھپ بھی نہیں ہوا اور اس تحریر کے وقت تک کسی نہ کسی شکل میں موجود ہے۔

مواخذے کے معاملے سے قبل صدر ٹرمپ کے مالیاتی ریکارڈ چھپانے اور جنسی مس کنڈکٹ کے الزامات کا جائزہ، جن سے پتہ نہیں وہ کیسے بچے، چلے آ رہے ہیں۔ ان پر کم از کم23 خواتین نے اپنے بیانات میں کھل کر جنسی حملوں اور جنسی طور پر ہراساں کرنے کے الزامات لگائے، تاہم ان کا جنسی فلموں کی اداکارہ سٹارم ڈینٹلز سے تعلق کا سکینڈل سب سے زیادہ مشہور ہوا یہ۔سکینڈل جنوری 2018ء میں اس وقت منظر عام پر آیا جب وال سٹریٹ جرنل نے انکشاف کیا کہ2016ء کے صدارتی انتخابات سے تھوڑا عرصہ قبل صدر ٹرمپ نے اپنے ذاتی وکیل مائیکل کوہن کے ذریعے اس اداکارہ کا منہ بند کرنے کے لئے مبینہ طور پر ایک لاکھ30ہزار ڈالر خفیہ طور پر ادا کئے تھے،لیکن اس اداکارہ نے بتا دیا تھا کہ ٹرمپ نے اس کے ساتھ تعلقات قائم کئے تھے اور اسے خاموش رہنے کی ادائیگی کی تھی،لیکن اب وہ مزید خاموش نہیں رہ سکتی۔اس سکینڈل کی بنا پر مائیکل کوہن جیل چلے گئے،لیکن ٹرمپ ابھی تک اس سے بچے ہوئے ہیں ……نیو یارک سٹیٹ نے انکوائری شروع کی تو پتہ چلا کہ اس رقم کی ادائیگی کا کوئی ریکارڈ نہیں تھا، جس پر اس کے پراسیکیوٹرز نے ٹرمپ اور ان کے کاروبار کے حوالے سے ٹیکس گوشواروں سمیت ان کے مالیاتی ریکارڈ حاصل کرنے کی کوشش شروع کر دی۔وفاقی عدالتوں نے حکم دیا کہ یہ ریکارڈ فراہم کیا جائے،جس کے خلاف صدر ٹرمپ کو سپریم کورٹ سے عبوری ریلیف ملا، لیکن اب صدر ٹرمپ نے مستقل ریلیف لینے کے لئے دوبارہ سپریم کورٹ سے رجوع کیا ہے،جو ان کی اپیلوں کی سماعت کے لئے تیار ہو گئی ہے۔

اب کانگرس میں مواخذے کے مقدمے کا حال سن لیجئے۔ تازہ ترین صورتِ حال کے مطابق ایوان نمائندگان کی جوڈیشری کمیٹی دو الزامات پر مبنی مواخذے کا مقدمہ دائر کرنے کی منظوری دے چکی ہے اور اس تحریر کے چھپنے تک توقع ہے کہ ایوانِ نمائندگان کا مکمل ہاؤس بھی مقدمے کے حق میں فیصلہ دے چکا ہو گا،کیونکہ وہاں ڈیمو کریٹک پارٹی کی اکثریت ہے،جس نے مقدمے کا آغاز کیا ہے۔ان پر پہلا الزام یہ ہے کہ انہوں نے اپنے اختیارات کو ذاتی سیاسی مقاصد کے حصول کے لئے استعمال کیا،جبکہ دوسرا الزام یہ ہے کہ صدر ٹرمپ نے کانگریس کے کام میں رکاوٹ ڈالی……اس مواخذے کی بنیاد اس وقت پڑی جب 25جولائی کو وائٹ ہاؤس کے تہہ خانے میں موجود ایک انٹیلی جنس افسر نے صدر ٹرمپ کی یوکرین میں اپنے ہم منصب زیلنسکی سے ٹیلی فون کال سنی اور اپنے انسپکٹر جنرل کو ہنگامی شکایت کر دی کہ یہ گفتگو قومی اور رہائشی مفاد کے خلاف تھی۔ صدر ٹرمپ ان سے مبینہ طور پر وعدہ کر رہے تھے کہ اگر وہ ان کے مخالف ڈیمو کریٹک صدارتی امیدوار اور سابق نائب صدر جوبائیڈن کے خلاف وہاں جاری انکوائری کا زور دار پیچھا کر کے انہیں پھنسانے کی کوشش کریں گے

تو وہ ان کی 400 ملین ڈالر کی فوجی امداد بحال کر دیں گے۔ضابطے کے مطابق انسپکٹر جنرل نے یہ شکایت ایوان نمائندگان کی انٹیلی جنس کمیٹی کے حوالے کر دی۔ صدر ٹرمپ کی شدید مخالف اور ڈیمو کریٹک سپیکر نینسی پلوسی نے کافی سوچ بچار کے بعد اپنی کمیٹیوں کو مواخذے کی باقاعدہ انکوائری کا حکم دے دیا۔ انٹیلی جنس کمیٹی میں شہادتوں کا سلسلہ شروع ہوا تو عام پبلک کو اندازہ ہوا کہ یہ تو بہت سنگین جرم ہے۔ شہادتیں سامنے آئیں کہ صدر نے اپنے ذاتی سیاسی مفاد کے لئے اپنی طاقت اور اختیارات کا ناجائز استعمال کیا۔اس دوران صدر نے کانگریس کی انکوائری میں نہ صرف عدم تعاون کیا، بلکہ اس کی راہ میں اتنی رکاوٹیں ڈالیں کہ یہ دوسرا جرم بن گیا۔ صدر ٹرمپ مسلسل تردید کرتے رہے کہ ان کی ٹیلی فون کال بالکل درست تھی،لیکن تمام شہادتیں ان کے خلاف آئیں۔

مواخذے کی انکوائری میں جب ضروری شہادتیں مل جائیں تو کانگریس کے پاس مقدمہ چلانے کا اختیار ہے،جو اگر کامیاب ہو جائے تو صدر کو وائٹ ہاؤس سے فارغ بھی کیا جا سکتا ہے، لیکن خیال رہے کہ کانگریس میں مواخذہ کریمینل کی بجائے ایک سیاسی عمل ہے۔ مواخذے کا آغاز آئینی اعتبار سے صرف ایوان نمائندگان میں ہو سکتا ہے۔ایوان میں چونکہ ڈیمو کریٹک پارٹی کی اکثریت ہے،جو اس کے بل بوتے پر جوڈیشری کمیٹی میں مواخذے کی دو دفعات پر مشتمل بل کا مسودہ منظور کر چکی ہے۔یہ قرارداد مکمل ایوان میں پیش ہو گی۔ایوان کو منظوری کے لئے سادہ اکثریت چاہئے جو ڈیمو کریٹک پارٹی کو حاصل ہے،اِس لئے وہ بڑی آسانی سے اس بل کو منظور کر سکتی ہے۔ ایوان نمائندگان سے منظوری کا مطلب سینیٹ کو باقاعدہ مقدمہ چلانے کی سفارش ہے،جو اس کے بعد مقدمہ چلانے کی پابند ہے،تاہم مقدمے کی کامیابی کے لئے سینیٹ میں دوتہائی اکثریت درکار ہے،جبکہ ڈیمو کریٹک پارٹی کو وہاں سادہ اکثریت بھی حاصل نہیں ہے۔

سینیٹ کے کل سو ارکان میں سے53 ری پبلکن اور45 ڈیمو کریٹ اور دو آزاد ارکان ہیں۔ایوان نمائندگان میں منظوری کے بعد کانگریس کرسمس کی چھٹیوں پر چلی جائے گی اور جنوری کے آغاز میں سینیٹ میں صدر ٹرمپ کے مواخذے کا مقدمہ چلے گا، جہاں ڈیمو کریٹس کو کامیابی حاصل نہیں ہو سکتی۔ مواخذے کی کامیابی کی صورت میں ایک صدر وائٹ ہاؤس سے نکل سکتا ہے،لیکن مواخذے کا محض مقدمہ بھی کسی صدر کی بدنامی کے لئے کافی ہے،جو کافی حد تک پہلے ہی صدر ٹرمپ کے حصے میں آ چکی ہے۔اب صدر ٹرمپ کا یہ کہنا کہ مواخذہ ان کی آئندہ صدارتی انتخابات میں کامیابی کا باعث بنے گا۔یہ کیسے ہو گا؟ صرف ٹرمپ ہی ایسا کہہ سکتے ہیں۔

مزید :

رائے -کالم -