مزاحمت کا استعارہ ، جامعہ ملیہ کی عائشہ رینا

مزاحمت کا استعارہ ، جامعہ ملیہ کی عائشہ رینا
مزاحمت کا استعارہ ، جامعہ ملیہ کی عائشہ رینا

  



بھارت کی جانب سےمتنازعہ شہریت کا قانون پاس کیاگیا،آسام سے پرتشدد مظاہروں کا آغاز ہوا،مظاہرین کی آواز محمد علی جوہر کی قائم کردہ یونیورسٹی جامعہ ملیہ اسلامیہ دہلی تک پہنچی،جامعہ کےطلبہ اورطالبات سڑکوں پرنکل آئے۔اپنےحقوق کیلئےآوازبلندکی اورجدوجہدکی ایک بہترین مثال قائم کردی،اِس مظاہرے میں شریک  طلباء وطالبات پردہلی پولیس کی جانب سےبدترین تشددکیاگیا۔تشددکی ویڈیوزوائرل ہوئیں،سب سےزیادہ ویڈیوزچار طالبات کی دیکھی گئیں جواپنےمردکلاس فیلوز  کی ڈھال بنی ہوئی ہیں اور پولیس کے سامنے سیسہ پلائی ہوئی دیوارثابت ہورہی تھیں۔

ان میں سے ایک ویڈیو میں موجودطالبہ بے باک اور نڈر انداز میں پولیس سے مخاطب ہے اور اُنھیں واپس جانے کو بول رہی ہے۔اس طالبہ کی تصویر بھارت اور پاکستان میں لاکھوں بار شیئر کی گئی اور اسے جدوجہد اور مزاحمت کا استعارہ کہا گیا۔یہ طالبہ جامعہ ملیہ کی 22 سالہ عائشہ رینا ہیں،عائشہ جماعت اسلامی کی خواتین ونگ گرلز اسلامک آرگنائزیشن کی سرگرم کارکن ہیں جبکہ گذشتہ سال وہ شادی کے بندھن میں بندھ گئی تھیں،ایک شادی شدہ اور اپنی تعلیم جاری رکھنے والی لڑکی کے مسائل دیگر طالبات سےزیادہ ہوتے ہیں،اِن سے جب اِس حوالے سے پوچھا گیا تو اُنہوں نے بتایاکہ مظاہرے کے دوران وہ بہت پیچھےتھیں،جب پولیس نے لاٹھی چارج کیا،آنسو گیس کے گولےداغے تو اُن کیساتھ موجودہ طالبات اور ایک طالب علم وہاں موجودایک گھرکےگیراج میں گھس گئے،پولیس نے اِن کا پیچھا کیا اور اُن کے کلاس فیلو پر بدترین تشدد کیا ، جسکے بعد اُن کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوگیا اور اُنہیں طالب علم کی جان بچانے سے زیادہ کوئی چیز عزیز نہیں تھی،اِس لئے وہ پولیس کے ساتھ ٹکرا گئیں۔ ویڈیو وائرل ہونے کے بعد بھارتی صحافی برکھا دت نے جب اُن سے پوچھا کہ اُنہیں اِس وقت کوئی خوف محسوس نہیں ہوا؟جس کے جواب میں عائشہ نے بتایا کہ شہریت کے متنازعہ قانون کے سوا اُن کیلئے کوئی بھی خوف میں مبتلا کرنے والی نہیں تھی،ہم کشمیر کےمتنازعہ قانون پر خاموش رہے، ہم بابری مسجد کے متنازعہ فیصلے پر بھی چپ رہے لیکن آج مودی سرکار کے متنازعہ فیصلے کے بعد پانی سر سے گزر چکا ہے،مودی کی انتہاپسندانہ سوچ نےآج سارے ہندوستان کو نشانہ بنایا ہے،اِس فیصلے نےسیکولر انڈیا کے بت کو پارا پارا کردیا ہے،اِس لئے اب خاموشی کا سوال پیدا نہیں ہوتا ہے،اب سارے ملک میں مزاحمت کی تحریک چلے گی۔

اُنہوں نے کہا کہ شہریت کا متنازعہ قانون بھارت کے سیکولر چہرے پر ایک بدنما دھبہ ہے،جو صدیوں تک نہیں دھل سکے گا، بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے سیکولر ہندوستانیوں اور مذہبی اقلیتوں کو جنونی ہندووں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا ہے، جو بھی مودی نظریات کیخلاف بات کرتا ہے ، اسے شدت پسند گروہوں کی جانب سے تشدد کا نشانہ بنایا جا تا ہے ۔ جامعہ ملیہ اسلامیہ کے طلبہ سے اظہار یکجہتی کیلئے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی، جواہر لال نہرو یونیورسٹی ، دہلی یونیورسٹی سمیت انڈیابھر کے تعلیمی اداروں میں احتجاجی مظاہرے کئےجارہےہیں،یہاں تک کہ ہندوستان کےمسلمان بھی تمام ترمسلکی اختلافات کے باوجود ایک نظرئیے کیلئے جڑ رہے  ہیں ،اِس میں پٹھان کوٹ کےمودودی،بریلی کےبریلوی،لکھنو اورممبئی کے شیعہ سب متحدہیں،دائیں بازو کےہندو،سکھ اورعیسائی بھی مودی حکومت کے اِقدامات کیخلاف متحد ہیں اور یہ تمام اتفاق طلبہ وطالبات کے اختلافات سے بالا جدوجہد کا نتیجہ ہیں۔

طالبعلم رہنما کنہیا کمار نے بھی ایک بڑی احتجاجی ریلی سے خطاب میں مودی حکومت کواِقدامات سے باز رہنے کا مشورہ دیا ہے جبکہ سنجیدہ بھارتی طبقات بھی دہلی سرکار کو خوب تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔جامعہ ملیہ اسلامیہ کی عائشہ رینا کی جدوجہد اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ بڑے مقاصد کی خاطر ذاتی فوائد کی قربانی ہمیشہ قوموں کی تقدیر بدلتی ہے۔عائشہ رینا استعارہ ہیں ہندواتا نظریات کی موت کا،وہ نشانی ہیں ہندوستان کی نوجوان نسل میں شعور کی بیداری کی، وہ علامات ہے سیکولر بھارت کے نوجوان کی امیدوں کا،جو شدت پسندانہ نظریات کیخلاف سیسہ پلائی دیوار بن سکتی ہیں۔عائشہ کی تصاویر شاید چند دنوں تک کہیں دکھائی نہ دیں لیکن ان کی جانب سے رکھا گیا مزاحمت کاسنگ بنیاد یقینا مقاصد کی کامیابی کی وجہ ثابت ہوگا۔

اس وقت بھارت کے نوجوان طالب علم میدان عمل میں ہیں ، بین الاقوامی اداروں اور انسانی حقوق کی تنظیموں کی ذمہ داری ہے کہ وہ دہلی سے مدراس اور حیدر آباد سے ممبئی تک اٹھنے والے اس سونامی کے ممکنہ نتائج سے باخبر ہوں اور مودی سرکار پر دباو بڑھا کر ہندوستان کو شدت پسندانہ نظریات سے نجات دلائیں۔

نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔

 

اگرآپ بھی ڈیلی پاکستان کیساتھ بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو اپنی تحاریر ای میل ایڈریس ’dailypak1k@gmail.com‘ یا واٹس ایپ "03009194327" پر بھیج دیں۔

مزید : بلاگ