اہم شخصیت کا دورہ تل ابیب اور اسرائیل  کےحوالے سے میڈیا میں پھیلی افواہیں ، علامہ طاہر اشرفی نے اسرائیلی ٹی وی چینل پر پاکستان کا دبنگ اور دوٹوک موقف پیش کرکے ناقدین کے منہ بند کردیئے

 اہم شخصیت کا دورہ تل ابیب اور اسرائیل  کےحوالے سے میڈیا میں پھیلی افواہیں ، ...
 اہم شخصیت کا دورہ تل ابیب اور اسرائیل  کےحوالے سے میڈیا میں پھیلی افواہیں ، علامہ طاہر اشرفی نے اسرائیلی ٹی وی چینل پر پاکستان کا دبنگ اور دوٹوک موقف پیش کرکے ناقدین کے منہ بند کردیئے

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)وزیراعظم کے معاونِ خصوصی برائے مذہبی ہم آہنگی و مشرق وسطی علامہ حافظ طاہر محمود اشرفی نے دو ٹوک انداز میں کہا ہے کہ حکومت کی جانب سے کوئی بھی شخص اسرائیل نہیں گیا ، یہ ممکن ہی نہیں ہےکہ  مسئلہ فلسطین کے حل تک پاکستان کبھی بھی اسرائیل کے ناجائز وجود کو تسلیم کرے،فلسطین کے حوالے سے پاکستانی حکومت، پاک فوج ،حزبِ اختلاف کی جماعتیں اور عوام ایک ہیں ،سعودی عرب اور پاکستان کے حوالے سے اسرائیل کو تسلیم کرنے کی تمام  خبریں یہودیوں ،اسرائیل اور اسلام دشمنوں کی سازش کا نتیجہ اور امت مسلمہ کو کمزور کرنے کی سازش ہے، پاکستان اسلامی ممالک میں ایک طاقتور ملک ہے اورہمیں قطعا اسرائیل کا کوئی خوف نہیں ہے۔

تفصیلات کے مطابق اسرائیلی ٹی وی چینل"آئی 24 نیوز"کے ساتھ خصوصی گفتگو کرتے ہوئے علامہ طاہر محمود اشرفی نے کہا کہ حکومت پاکستان کی جانب سے، نہ سیاستدانوں کی جانب سے ،نہ مذہبی جماعتوں میں سے اور نہ ہی تجارتی حوالے سے پاکستان میں کوئی ایک  شخص بھی ایسا نہیں ہے جس نے ان دنوں میں اسرائیل کا کوئی دورہ کیا ہو ،یہ تمام باتیں جھوٹ پر مبنی ہیں ،اس حوالے سے پاکستان کا موقف واضح ہے ،چاہے وہ حکومت پاکستان ہو ،چاہے وہ اپوزیشن ہو اور چاہے وہ افواج پاکستان ہو ،ہم اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کریں گے اور نہ ہی اس کے ساتھ تعلقات استوار کریں گے جب تک ہمارے فلسطینی بھائی آزادی حاصل نہیں کر لیتے اور ایک آزاد فلسطینی ریاست بنانے میں کامیاب نہیں ہو جاتے،جب ہماری فلسطینی ریاست کو آزادی حاصل ہو گی اور قبلہ اول مسجد اقصیٰ آزاد ہو جائے گی تو پھر ہم انشاءاللہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات کے بارے میں سوچیں گے۔

انہوں نے کہا کہ جو کچھ اس حوالے سے اسرائیلی اخبارات میں شائع ہوا ہے ،وہ سراسر جھوٹ پر مبنی اور یہ سب اُمتِ مسلمہ میں دراڑ ڈالنے کی کوشش ہے ،اس سے پہلے یہ کہا گیا کہ نیتن یاہو نے سعودی عرب کا خفیہ دورہ کیا اور اب یہ کہا جا رہا ہے کہ زلفی بخاری نے لندن اور وہاں سے اسرائیلی شہر تل ابیب کا دورہ کیا ،یہ سب جھوٹ ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ فلسطین کے مسئلے پر پاکستان اور سعودی عرب کا موقف ایک ہے کہ ہم ہرگز ہرگز اسرائیل کو تسلیم نہیں کریں گےاور نہ اس کے ساتھ تعلقات استوار کریں گے جب تک ہمارے فلسطینی بھائی آزادی حاصل نہیں کر لیتے اور ایک آزاد فلسطینی ریاست بنانے میں کامیاب نہیں ہو جاتے ،جب ہماری فلسطینی ریاست کو آزادی حاصل ہو گی ، قبلہ اول مسجد اقصیٰ آزاد ہو جائے گی تو پھر ہم انشاءاللہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات کے بارے میں سوچیں گے۔

علامہ طاہر اشرفی نے کہا کہ پاکستانی حکومت ،پاکستانی انٹیلی جنس اداروں اور پاکستانی عوام میں سے کوئی بھی اسرائیل کو تسلیم نہیں کرنا چاہتا ،اس حوالے سے جو بھی میڈیا میں آتا ہے ،اس کا مقصد صرف اور صرف اسلامی ممالک کے درمیان غلط فہمی پیدا کرنا ہے،جیسا کہ اس سے قبل بھی کہا گیا کہ اسرائیلی وزیراعظم کا طیارہ سعودی عرب میں اترا ہےجبکہ یہ ممکن ہی نہیں کہ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو سعودی سرزمین پر قدم بھی رکھ سکے۔انہوں نے کہا کہ خادم الحرمین الشریفین  شاہ سلیمان بن عبد العزیز اُمتِ مسلمہ کے قائد ہیں ،اُن کی زبان سے میں نے جو سب سے پہلی بات سنی وہ مسئلہ فلسطین ہے،جہاں تک پاکستان کی بات ہے تو عوام سے لیکر حکومت تک کوئی بھی فلسطینی مسئلہ حل ہوئے بغیر اسرائیل کو تسلیم کرنے پر تیار نہیں ،وزیراعظم عمران خان نے متعدد بار جہاں میرے سمیت کئی وزراء بھی شریک تھے کہہ چکے ہیں کہ ہم کیسے اتنے بڑے مجرم کو تسلیم کر سکتے ہیں جو ہمارے مظلوم فلسطینیوں کا قاتل ہے؟۔

علامہ طاہر اشرفی نے کہا کہ اللہ کا شکر ہے کہ ہماری فوج طاقتور ہےاور پاکستان اسلامی ممالک میں ایک طاقتور ملک ہے ،ہمیں قطعا اسرائیل کا کوئی خوف نہیں اورہمیں قطعی طورپراسرائیل کی کوئی حاجت اورضرورت بھی نہیں ہے،ہمارا مال ،ہمارا خون اور ہماری جانیں سب فلسطینیوں کے ساتھ ہیں ،اسرائیل کے ساتھ تعلقات قائم کرنے یا بات چیت کے حوالے سے جتنی بھی باتیں ہو رہی ہیں ،چاہے وہ ہمارے متعلق ہوں یا سعودی عرب اور ولی عہد محمد بن سلیمان کے حوالے سے ہوں ،سب غلط ،بے بنیاد اور جھوٹ پر مبنی ہیں ،ایسی تمام باتیں یہودیوں ، اسرائیلیوں اور اسلام دشمنوں کی سازش کا حصہ ہیں ،یہ موقف کسی ایک سیاسی جماعت یا کسی ایک فرد کا نہیں بلکہ یہ اجتماعی موقف ہے جس میں حکومت،حزبِ اختلاف اور عوام سب شامل ہیں ،ہم سب مسئلہ کشمیر اور فلسطین کے حوالے سے ایک ہیں ،فلسطین اور کشمیر اُمتِ مسلمہ کا مسئلہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ میں سوال کرتا ہوں کہ بتائیں زلفی بخاری کس تاریخ کو اسرائیل گیا ؟یہ تو ایسا ہی ہے کہ آپ کسی کو بھی کہہ دیں کہ وہ اسرائیل گیا ہے،کل کو یہ کہہ دیں کہ طاہر اشرفی تل ابیب گیا ہے ،جھوٹوں پر اللہ کی لعنت ہے،ہمارا موقف واضح ہے کہ یہ ممکن ہی نہیں ہے کہ ہم اتنے بڑے مجرم کو تسلیم کریں یا پھر اس کے ساتھ تعلقات استوار کریں ،ماضی میں اسرائیل نے بھارت کے ساتھ مل کر پاکستان پر حملہ کرنے کی کوشش کی اور پاکستانی طیاروں نے انہیں شکست فاش دی ،یہ تمام باتیں بالکل واضح ہیں اور قیام پاکستان سے لیکر آج تک یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ مسئلہ فلسطین کے حل تک پاکستان کبھی بھی اسرائیل کے ناجائز وجود کو تسلیم نہیں کرے گا ۔

مزید :

قومی -