راوی:گندے نالے سے شفاف جھیل کا سفر کیسے؟

راوی:گندے نالے سے شفاف جھیل کا سفر کیسے؟
راوی:گندے نالے سے شفاف جھیل کا سفر کیسے؟

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


ملکی ترقی کسی کو بھی بری نہیں لگتی اور پھر ہمارے اپنے شہر کا مسئلہ ہو تو اور بھی خوشی ہوتی ہے،اس لئے اگر راوی کنارے شہر بسانے اور ایک بڑی جھیل بنانے کے منصوبے کی منظوری دے دی گئی ہے تو خوشی کی بات ہے اور پھر وزیراعظم عمران خان نے یہ بھی بتایا ہے کہ اس نئے شہر کے لئے بیرونی سرمایہ کاری آئے گی اور روزگار کے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔ یہ منصوبہ نئے شہر کا ہے، جس کے بارے میں یہ بتایا گیا کہ ایک نیا دبئی ہی نہیں ہو گا، بلکہ لوگ دبئی کو بھی بھول جائیں گے۔ یہ بہت بڑا منصوبہ ہے اور اس کے اخراجات بھی سینکڑوں ارب روپے ہوں گے۔

اس خوش کُن خبر کے حوالے سے اگر ہم ماہرین سمیت اپنے تحفظات سے آگاہ کر دیں تو  برا نہیں مانا جائے گا، ویسے آج کل سیاست کا میدان جتنا پُرجوش اور گرم ہے، لکھا تو اسی حوالے سے جاناچاہئے،لیکن سیاسی سرگرمیاں چل رہی ہیں،ان پر بعد میں لکھا بھی جاتا رہے گا، بہتر ہے کہ اس منصوبے کے بارے میں ہی اپنے تحفظات کا اظہار کر دیا جائے۔


یہ درست ہے کہ اگر کسی شہر کی آبادی بڑھ جائے تو اس کی حدود متعین کر کے مزید پھیلاؤ کو روک دینا چاہئے اور اس سے آگے کہیں دوسرا شہر بسا لینا چاہئے۔اس لحاظ سے نیا شہر بسانے کی تجویز تو درست ہے، لیکن یہ جو ”نیا دبئی“ بنے گا یہ تو لاہور شہر ہی کی حدود کے حصے میں بنے گا اور اس کے لئے نہ معلوم کتنے لوگ اپنے اپنے آبائی گھروں سے محروم ہو جائیں گے، ہمیں اس شہری منصوبے کے بارے میں لکھنے کی ترغیب پنجاب کابینہ کے ایک فیصلہ سے ہوئی جو دو روز قبل کیا گیا۔ اس فیصلے کے تحت حکومت پنجاب راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی کو پانچ ارب روپے قرض دے گی۔ اس قرض سے یہ اتھارٹی شہر کے لئے زمین ایکوائر کرے گی۔ یہ تو پہلے بھی کہا جا چکا ہے کہ کسی بھی شہری کو اس کی جائیداد سے معاوضہ دیئے بغیر بے دخل نہیں کیا جائے گا، چنانچہ پانچ ارب روپے کے قرض سے ارادے واضح ہوتے ہیں،اچھا اقدام ہے اگر لوگوں کو مارکیٹ ریٹ کے مطابق ہی معاوضہ دیا جائے اور اس کا تعین خود حکومت یا کلکٹر ریونیو نہ کرے، پنجاب حکومت کی اس عنایت نے ہم کو چونکا دیا اور ہم بجا طور پر یہ پوچھنا چاہتے ہیں کہ یہ جو راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی بنی ہے یہ کتنے سرمایہ سے قائم کی گئی اور یہ سرمایہ کاری کس نے کی۔  شفاف عمل کا تقاضہ ہے کہ ہر بات کا عوام کو علم ہو، یوں بھی کپتان کمپنیوں اور اتھارٹیوں کے خلاف تھے، اور انہی کے اس فیصلے کی رو سے صفائی کے متعلق ترکی کمپنی سے کئے گئے معاہدے میں توسیع نہیں کی گئی،لیکن خود اتھارٹی بنا کر سرمایہ کاری کی نوید دی جا رہی ہے اور سرمایہ کاری کا پہلا عمل یہ سامنے آیا کہ پنجاب حکومت پانچ ارب روپے  قرض دے۔

بہتر ہو گا کہ اس منصوبے پر ذرا ایک نظر ہی ڈال لی جائے۔ یہ تحریک کاروباری حضرات نے دی اور سابق وزیراعلیٰ محمد شہباز شریف کو اچھی لگی اور انہوں نے اعلان بھی کر دیا، لیکن بعدازاں جب فزیبلٹی تیار ہونے لگی تو معلوم ہوا کہ یہ قابل ِ عمل نہیں، چنانچہ انہوں نے اسے چھوڑ دیا، اب اسی منصوبے کو وزیراعظم نے نئے انداز سے شروع کیا ہے، اب تک جو خدوخال بتائے گئے ہیں یہ شہر اور جھیل راوی سائیفن سے ٹھوکر نیاز بیگ تک ہو گی اور شہر شمالی جانب بسایا جائے گا، جدھر شاہدرہ اور مقبرہ جہانگیر اور نورجہاں ہے۔جھیل میں  جدید طرز کی کشتیاں یا سٹیمر بھی چل سکیں گے، ہمیں تو اس منصوبے کی تحریک دبئی کی بجائے انگلینڈ کی لگتی ہے کہ وہاں کئی شہر ایسے ہیں جن کے کنارے بڑی جھیلیں ہیں اور ان میں سٹیمر بھی چلتے ہیں یہ بڑا ہی سحر انگیز نظارہ ہوتا ہے، ہم نے اس سٹیمر میں سیر کی تھی۔شاعر شیلے کا گھر بھی جوں کا توں محفوظ ہے۔ لیک سٹی میں ورڈز ورتھ اور کولرج کی کاٹیج بھی اسی حال میں ہے۔


اس وقت راوی دریا نہیں گندا نالہ ہے، اس میں شہر کے سیوریج کا پانی ڈالا جاتا ہے، تمام تر دعوؤں اور وعدوں کے باوجود یہ پانی فلٹر کر کے  نہیں ڈالا جاتا، چنانچہ دریا ایک گندے نالے کی شکل میں بہتا ہے، جہاں تک ”دریا راوی“ کا تعلق ہے تو اس کا منبع بھارت کے پاس ہے اور سندھ طاس معاہدے کے تحت پانی پر بھارت کا حق ہے، اِسی لئے دریائے چناب سے نہر نکال کر لاہور کے زراعتی علاقے کو سیراب کیا جاتا ہے۔ یہ نہر بی آر بی (بمبانوالہ، راوی، بیدیاں لنک کینال) ہے، جلو کے شمال میں ایک سائیفن بنا کر  نہر کے لئے پانی اس کے نیچے سے گذارا گیا اور دریا اوپر بہتا ہے، لیکن یہ سارا سال خشک رہتا، کیونکہ پانی کے اخراج کا منبع بھارت کے پاس ہے۔ ادھر سے برسات کے موسم میں جب سیلابی خدشہ ہو تو اچانک پانی چھوڑا جاتا اور یہ گندہ نالہ پھر سے دریا بن جاتا ہے۔


اس دریا کے پیٹ میں بستیاں بس چکیں، کچی آبادیاں اور جھگیاں ہیں جبکہ فیکٹریاں اور کارخانے بھی چل رہے ہیں،اگر بند کے اندرونی حصے کو شامل کرنا مقصود ہے تو پھر ان سب کو بے دخل کرنا پڑے گا۔ جھیل بن تو جائے گی، لیکن شہر لاہور کے سیوریج کے اخراج کا کیا ہو گا؟ اور یہ سب کدھر جائیں گے۔ سرمایہ کاری تو اولاً ادھار سے ہوئی جو پنجاب حکومت دے گی، عرض یہ ہے کہ ان تحفظات کا  شافی جواب عوام کے سامنے تو رکھیں۔

مزید :

رائے -کالم -