کیا پولیس میں میرٹ پر تعیناتیاں شروع ہو گئی ہیں؟

کیا پولیس میں میرٹ پر تعیناتیاں شروع ہو گئی ہیں؟
کیا پولیس میں میرٹ پر تعیناتیاں شروع ہو گئی ہیں؟

  

یہ ایک تلخ موقف اور ناقابل تردید حقیقت ہے کہ محکمہ پولیس ہمیشہ سے سیاسی مداخلت کی جکڑ میں ہے۔ میرٹ کو بالائے طاق رکھ کر پسند و ناپسند کی بنیاد پر پولیس افسروں کی تعیناتی حکومتوں کا وتیرہ رہاہے اور یہ ان کیلئے کامیاب طرز حکمرانی کی بنیاد ہے۔ پولیس کے معاملات میں سیاسی مداخلت سیاستدانوں کا طرہ امتیاز بن چکا ہے، معاشرے کی ذہنی پستی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ وہ سیاستدان عوام میں اتنا ہی مقبول اور قابل قبول ہے جس قدر وہ پولیس کو زیر اثر رکھنے میں قدرت رکھتا ہے۔سیاستدانوں کی معاشرے میں کامیابی اور ناکامی اور انتخابات میں جیت اور ہار کا دارومدار تھانے کچہریوں میں عوام کے جائز اور ناجائز کام کرانے کی استطاعت پرموقوف ہے اور یہ سب اس وقت ہی ممکن ہے جب سیاستدان ”اپنا“ ایس ایچ او اپنے حلقہ انتخاب میں تعینات کرائے۔ پولیس کے ادارے کی تباہی میں سیاسی حکومتوں کا کردار ہمیشہ بد سے بدتر رہا ہے، ہر سیاسی جماعت نے اپنے اپنے ادوار میں ہزاروں نااہل افراد کو پولیس میں بھرتی کیا، یہ بھرتیاں سپاہی اور پرموشن پاکر اے ایس آئی سے ایس پی تک کے عہدوں پر ہوتی ہیں اور سیاسی اثرورسوخ اور سفارشوں کی بنیاد پر بھرتی ہونے والے ہمیشہ اپنی سیاسی جماعتوں کے وفادار رہتے ہیں اور ان کے حکم پر ہر جائز اور ناجائز کام کرتے ہیں۔اس حوالے سے پنجاب پولیس ہمیشہ سے سیاسی مداخلت کی بدترین لپیٹ میں رہی ہے اور سیاسی اثرورسوخ رکھنے والے پولیس امور پر حاوی دکھائی دیتے ہیں۔ ہر صوبے میں سیاستدانوں کا یہی وتیرہ ہے کہ وہ پولیس کو اپنے دست نگر رکھنے کے عمل کو علاقائی سیاست کا استحکام سمجھتے ہیں اور پولیس کو غلام رکھنے میں ہی آسودگی اور خوشی محسوس کرتے ہیں۔اگرچہ پنجاب میں بھی پولیس کے عمل میں سیاسی مداخلت کی کئی مثالیں موجود ہیں لیکن  جب سے آئی جی پولیس راؤ سردار علی خان اور سی سی پی او لا ہور فیاض احمد دیو آئے ہیں،پولیس افسروں کی تعیناتی کا عمل میرٹ پر شروع ہو گیاہے۔ پنجاب بھر میں آر پی اور ڈی پی او صاحبان کو بھی یہ ہی ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ایس ایچ او سمیت دیگر افسران کی تعیناتی میں میرٹ کا سو فیصد خیال رکھیں، اس کے لیے لاہور پولیس کے سربراہ فیاض احمد دیو نے بھی شہر میں ہنگامی بنیادوں پر امن قائم کرنے کے لیے خاطر خواہ اقدامات کیے ہیں جن کے مثبت اثرات سامنے آرہے ہیں سی سی پی او لاہور نے جرائم کی بڑھتی ہوئی شرح کو روکنے کے لیے سی آئی اے سیل میں انسپکٹر کی جگہ سب ڈویژنل ڈی ایس پی کی تعیناتی کو میرٹ پر یقینی بنانے کا حکم دیا ہے جس سے سی آئی اے لاہور پولیس کی کارکردگی میں بہتری آئی ہے  اسی طرح لاہور میں موٹر سائیکل چوری کی وارداتوں میں خوفناک حد تک اضافے نے لاہور پولیس کے افسران کی کارکردگی پر سوالیہ نشان لگایا رکھا تھا  اس کی روک تھام کے لیے سی سی پی او لاہور نے اے وی ایل ایس کی ٹیم کے لیے جو اقدامات کیے ہیں وہ بھی قابل ستائش ہیں اس سیل میں ایس پی آفتاب پھلروان اور ڈی ایس پی سلیم مختار بٹ کی تعیناتی کے بعد شہر میں موٹر سائیکل چوری کی وارداتوں میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے، ایک ہفتہ قبل ڈی آئی جی انوسٹی گیشن شہزادہ سلطان نے میڈیا بریفینگ میں بتایا کہ اینٹی وہیکل لفٹنگ سٹاف نے وہیکل سنیچروچور10گینگزکے 25ملزمان سمیت130  ملزمان گرفتار کر کے ان سے 3کروڑ43لاکھ ر وپے سے زائد مالیت کی 29گاڑیاں اور  534موٹر سائیکلیں برآمد کی گئی  ہیں یہ ملزمان لاہور پولیس کو560 مقدمات میں مطلوب تھے۔یہ رواں سال”اے وی ایل ایس“ پولیس کی ایک بڑی کامیابی ہے، دیکھنے میں آیا ہے کہ لاہور سمیت پنجاب بھر میں اب میرٹ پر افسران کی تعیناتیوں کا عمل شروع ہو گیا ہے ڈی آئی جی آپریشنز لاہورڈاکٹر عابدراجہ اور سی پی او فیصل آباد مبشر میکن سمیت پنجاب بھر میں تعینات ہونے والے کسی ایک افسر کے بارے میں بھی یہ نہیں کہا جاسکتا کہ”میرٹ“ کا خیال نہیں رکھا گیا  سبھی افسران اچھی”شہرت“ کے حامل ہیں اورمیرٹ پر لگائے جانے والے پولیس افسر پیشہ وارانہ انداز میں اپنی مرضی سے فیصلے بھی کر رہے ہیں۔ آئی جی پولیس اورسی سی پی او لاہور کی ان تھک محنت اور لگن سے دکھائی دیتا ہے کہ وہ  لاہور جیسے بڑے شہر کو جرائم پیشہ افراد سے نجات دلانے اور جرائم کی شرح کو کنٹرول کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ تھانہ کلچرکے خاتمے کیلئے نیک نیتی، حب الوطنی اور سنجیدگی ضروری ہے۔اس سنجیدگی اور نیک نیتی کا عکس اب پنجاب اور لاہور میں دکھائی دینا شروع ہو گیاہے۔ جہاں پولیس کے سربراہ نے انتہائی قلیل مدت میں اپنی فورس کو ایک مثالی فورس بنادیا اور صوبے سے تھانہ کلچر کا خاتمہ کردیا ہے۔ دوسری جانب انٹیلی جنس بیورو میں تعینات پولیس سروس کے گر یڈ21 کے افسر بی اے ناصرکے پنجاب میں آنے سے بھی پنجاب پولیس کے قد کاٹھ میں اضافہ ہوا ہے انھیں جہاں بھی تعینات کیا جائے گاوہ بھی ادارے کے مورال کی سر بلندی کا باعث بنیں گے۔

مزید :

رائے -کالم -