اسلام میں عورت کا مقام

اسلام میں عورت کا مقام

تاریخ عالم کے صفحات عورت کے رنگا رنگ کردار سے بھرے پڑے ہیں۔ ایک طرف وہ دنیا کے اولین قتل کی وجہ بنی اور دوسری طرف نسل انسانی کی بقاءکی ضامن بھی ہے۔ اگر ماں کے کردار میں ہو تو جنت ہے، بیوی کے کردار میں ہو تو شوہر کے لئے باعث سکون، بہن ہو تو بھائی کے لئے ڈھال اور بیٹی ہو تو باپ کی آبرو ہوتی ہے۔ غرض اس دنیا نے عورت کے سینکڑوں کردار دیکھے ہیں، مگر یہ مسئلہ ہر دور، ہر قوم اور ہر ملک میں زیر بحث ہے کہ معاشرے میں عورت کا اصل مقام کیا ہے؟

موجودہ دور میں مغربی تہذیب نے خواتین میں یہ احساس پیدا کیا ہے کہ وہ خد کو گھر کی چار دیواری تک محدود نہ کریں، بلکہ زندگی کی دوڑ دھوپ میں مردوں کے شانہ بشانہ کام کریں اور ملکی ترقی میں حصہ لیں۔ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ اسلام میں مردو عورت دونوں برابر ہیں، جس طرح مرد عزت و احترام کا حق دار ہے، اسی طرح عورت بھی عزت و تکریم کی حق دار ہے۔

خالق کائنات نے انسان کو مرد و عورت کی صورت میں تخلیق اس لئے کیا کہ وہ دونوں مل کر دنیا میں زندگی کا نظام چلائیں۔ مرد و عورت کا باضابطہ قانونی ملاپ ہی خاندان کی تشکیل کا ذریعہ ہے، اسی ملاپ کی بدولت عورت گھر کی چار دیواری کے اندر کی ذمہ داریاں سنبھال لیتی ہے اور مردگھر سے باہر کی ذمہ داریاں انجام دیتا ہے۔ بیوی اور ماں کی حیثیت سے وہ اپنے فرائض درست طور پر صرف اسی صورت میں انجام دے سکتی ہے، جب اس کا ذہن تمام مسائل سے آزاد ہو۔ ان مسائل کی بدولت اس کے فرائض لازماً متائر ہوتے ہیں۔

اسلام نے معاشرے میں عورت کا مقام متعین کرنے کے سلسلے میں فطرت کو پیش نظر رکھا ہے۔ اسلام ، چونکہ دین فطرت ہے، اس لئے اس نے دونوں کو یکساں معاشرتی درجہ دینے کے ساتھ ساتھ الگ دائرہ عمل بھی متعین کر دیا ہے۔ اس تعین کے مطابق گھر کے اندر کی زندگی کا نظام عورت کے سپرد ہے اور گھر سے باہر کے تمام معاملات مرد کے ذمے ہیں.... چنانچہ فرمان خداوندی کے مطابق مرد کی حیثیت خاندان کے حاکم اور معاشی کفالت کے ذمہ دار کی ہے، جبکہ عورت کا فرض شوہر کی اطاعت اور اس کی آبرو، مال و دولت کی حفاظت کرنا ہے۔ الغرض اسلام دنیا کا وہ واحد مذہب ہے، جس نے عورتوں کو حقوق دیئے.... اسلام سے قبل معاشرے میں عورتوں کو کوئی حقوق حاصل نہیں تھے، انہیں نفرت کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا، یہاں تک کہ لڑکی کے پیدا ہوتے ہی اسے زندہ درگور کر دیا جاتا تھا۔ عورتوں کو عموماً زر خرید غلام تصور کیا جاتا تھا، مگر اسلام نے اسی تمام تفاوت کو ختم کیا اور عورت کو اس کے جائز حق سے نوازا۔

 قرآن پاک میں ارشاد باری تعالیٰ ہے: ”اور عورتوں کے حقوق مردوں پر اسی طرح ہیں، جس طرح مردوں کے عورتوں پر ہیں“.... اسی طرح حضوراکرم نے ان کے حقوق کی وضاحت اس طرح فرمائی ہے: ”بلاشبہ عورتیں (حقوق انسانیت) میں مردوں کے برابر ہیں“.... حتیٰ کہ اسلام نے ازدواجی زندگی کے لئے نکاح کے مسئلے میں بھی عورت کو بھی اقرار و انکار کی اسی طرح آزادی دی ہے، جس طرح مرد کو دی گئی ہے۔ اسلام میں مرد کو طلاق اور عورت کو خلع کا اختیار دیا ہے۔

 دیگر مذاہب اسلام کے خلاف عموماً یہ پروپیگنڈا کرتے ہیں کہ اسلام نے عورت کو گھر کی چار دیواری تک محدود رہنے کا حکم دیا ہے۔ ایسے تمام دعوے اور پروپیگنڈے غلط اور جھوٹ ہیں، کیونکہ اسلام ایک نہایت وسیع مذہب ہے۔ اسلام میں بھی عورت کو مرد کے برابر حقوق سے نوازا گیا ہے۔ عہد رسالت میں خواتین کا معاشی کا کام کرنا ان تمام جھوٹے دعوو¿ں کا منہ توڑ جواب ہے۔

عہد رسالت میں ام المومنین حضرت ام سلمہؓ سوت کاتنے میں مہارت رکھتی تھیں، اس طرح دور اول میں خواتین ضرورت پڑنے پر کھیتوں میں کام کاج کرتی تھیں۔ اس کے علاوہ مسلم خواتین تجارت و کاروبار کے معاملات بھی چلاتی تھیں اور کہیں سے ایسی کوئی شہادت نہیں ملتی کہ حضوراکرم نے ان میں سے کسی کو ان کاموں سے منع کیا ہو۔ حضرت خدیجہؓ کی تجارت کا سلسلہ بہت وسیع تھا، وہ شام کے تاجروں سے لین دین کرتی تھیں اور ان کا شمار مکہ کے معروف تاجروں میں ہوتا تھا۔ نکاح سے قبل حضوراکرم خود ان کا سامان تجارت لے کر جاتے تھے۔ اسی طرح دیگر صحابیاتؓ نے بھی عہد رسالت میں تجارتی معاملات میں حصہ لیا تھا، حتیٰ کہ عہد رسالت میں مسلم خواتین نے جنگوں میں بھی حصہ لیا۔ کچھ مسلم خواتین نے درس و تدریس کے فرائض بھی انجام دیئے، لہٰذا ایسی تمام مثالیں تاریخ اسلام کا اہم حصہ ہیں اور ظاہر کرتی ہیں کہ اسلام میں عورت کو گھر کی چار دیواری تک محدود نہیں کیا جاتا، بلکہ وہ خاندان کی بقاءکے لئے کام بھی کر سکتی ہے، لیکن اس کام سے اس کی عزت و حرمت مجروح نہ ہوتی ہو۔

اسلامی تاریخ کی مثالیں یہ بات واضح کرتی ہیں کہ عورت کو یہ اجازت ہے کہ وہ گھر سے باہر کام کر سکے، مگر اسے اس بات کا خیال رہنا چاہیے کہ اس کے اس کام سے اس کے بنیادی فرائض میں کوئی خلل پیش نہ آئے اور اس کا خاندانی نظام نہ خراب ہو۔معاشرے میں عورت کا اصل مقام تو اس کا گھر ہے، لیکن اگر وہ چاہے تو اپنے مقام پر رہتے ہوئے، اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے گھر کی چار دیواری سے باہر فلاح و بہبود اور معاشرے کے کام کر سکتی ہے، جس سے اس کے مقام پر کوئی فرق نہ پڑتا ہو۔ اس طرح اس کے گھر کے آنگن میں بھی اجالا رہے گا اور گھر سے باہر بھی دنیا روشن ہو جائے گی۔  ٭

مزید : کالم