مسرور کیفی ؒ : سچے عاشق نبی رحمت

مسرور کیفی ؒ : سچے عاشق نبی رحمت

  

کہنہ مشق شاعر حضرت مسرور کیفی ؒ مرحوم اپنی ذات میں ایک ایسی انجمن تھے، جن میں عشق و محبت کی جلوہ گری،ایثار و اخلاق کی تابانی اور انسانی اوصاف کی فراوانی اس طرح یکجا ہو گئی تھیں کہ کوئی بھی بغور دیکھے تو حیرت کی تصویر بن جائے۔ سوز و گداز، نرمی اور شفقت کے ساتھ ساتھ دوسروں کے لئے کچھ کرنے کا جذبہ عمر بڑھنے کے ساتھ ساتھ مزید بڑھتا رہا۔ انہوں نے زندگی بھر محنت، دیانت اور خدمت کو عبادت سمجھا اور اپنے عمل سے ثابت کیا کہ گمان سے یقین کی منزل تک رسائی مشکل سہی ناممکن نہیں ہے۔

حضرت مسرور کیفی ؒ عصر حاضر کے قابل ذکر نعت گو شاعر ہیں، ان کی نعتیہ شاعری کا سفر کئی عشروں پر محیط ہے۔ اس طویل عرصے میں اہل زبان نہ ہوتے ہوئے بھی انہوں نے بیس سے زائد نعتیہ مجموعے پیش کر کے اپنی قادر الکلامی، زود گوئی اور نبی کریمﷺ سے شعوری، وابستگی، وارفتگی اور عقیدت کے گہرے نقوش چھوڑے۔ اس کے باوجود اُن کی طبیعت کی سادگی اور معاشرتی معاملات میں سر مو فرق نہ آیا۔ حد درجہ انکساری ان کی فطرت کا خاصہ تھی۔ پہلی ملاقات میں ایک غیر متعارف شخص کے لئے یہ اندازہ کرنا مشکل نہیں ہوتا تھا کہ وہ عاشق صادق ہیں اور اظہار پر کس درجہ دسترس رکھنے والے شخص ہیں۔ مزاجاً بے نیاز تھے اور یہ بے نیازی اس حد تک تھی کہ ہمیشہ مشاعروں سے دُور رہے۔ خود میرے اصرار پر انہوں نے میرے غریب خانے پر منعقدہ مشاعرہ میں اس شرط کے ساتھ شرکت کی ان کو زحمت کلام نہیں دی جائے گی۔

نعت گوئی میں حضرت مسرور کیفی ؒ ہمہ وقت منہمک رہتے تھے۔ یہ کہنا زیادہ مناسب ہے کہ اُن کی فکر کا محور اور ان کے فن کا مرکز صرف ذاتِ محبوب رب العالمین ہی رہی۔ مَیں پہلے ان کے کسی مجموعہ پر گفتگو کرتے ہوئے لکھ چکا ہوں کہ ذکرِ رسول مکرم کے ساتھ ہی اُن کی آنکھ نم ہو جاتی تھی اور اکثر اشکوں کی جھڑی لگ جاتی تھی۔ ذکرہی میں نہیں ، اُن کے کردار میں یہ وابستگی دیکھی جا سکتی تھی۔ ہمارے عہد کے معتبر اور واجب التعظیم شعراءمیں یہ امتیاز حضرت مسرور کیفی ؒ کو حاصل تھا کہ اُن کی نعت سادگی و سلامت کا نمونہ تھی۔ وہ مفاہیم کو برجستگی کے ساتھ نظم کرتے تھے۔ زبان و بیان کا لطف بھی دوبالا ہو جاتا، اس کے باوجود اُن کے مزاج میں فخر کا پہلو نہیں آیا۔ اُن کی شخصیت کے یہ عکس انہیں انفرادیت کے درجے پر فائز کرتے ہیں۔بھائی محمد رمضان صاحب مبارک باد کے مستحق ہیں کہ وہ حضرت کیفی ؒ مرحوم کی کمیاب کتابوں اور غیر مطبوعہ کلام کی اشاعت میں مسلسل کوشاں ہیں۔ ہمارا فرض ہے کہ ان سے تعاون کیا جائے۔   ٭

مزید :

کالم -