جماعت اسلامی کے رہنماﺅںپر بنگلہ دیش میں بغاوت کے مقدمات

جماعت اسلامی کے رہنماﺅںپر بنگلہ دیش میں بغاوت کے مقدمات
جماعت اسلامی کے رہنماﺅںپر بنگلہ دیش میں بغاوت کے مقدمات

  


کسی طویل بحث میں جائے بغیر تمام پاکستانی اس امر سے بخوبی واقف ہیں کہ حکومت بنگلہ دیش 16 دسمبر1971ءتک حکومت پاکستان کا ایک حصہ مشرقی پاکستان تھی۔ 1971ءمیں ہم سے کروڑوں پاکستانی بھائیوں کو کیسے الگ کیا گیا، اس کے معاملات تین اہم کردار ہی بہتر جانتے ہیں، جن کے نام بیرسٹر ذوالفقار علی بھٹو، اندرا گاندھی اور شیخ مجیب الرحمن ہیں۔آج یہ سارے لیڈر اس دنیا میں نہیں ہیں، لیکن کیا آج کی تاریخ کا طالب علم اس بات کو جانتا اور سمجھتا ہے کہ ان تینوں سیاسی لیڈروں کی موت کیسے واقع ہوئی ؟اندرا گاندھی کو اس کے ایک سپاہی نے اپنی رائفل کی نوک سے مار دیا۔ بیرسٹر بھٹو کو قتل کے ایک مقدمے میں پھانسی دے دی گئی اور شیخ مجیب الرحمن (وزیراعظم بنگلہ دیش) کو ان کی فوج نے گھر پر حملہ کر کے اس طرح مارا کہ ان کی میت 9 روز تک گھر کے لان میں پڑی رہی اور وہاں پر فوجی پہرے داروں نے اس لاش کو کھانے کے لئے آنے والی چیلوں، کوو¿ں، گدھوں کو تاک تاک کر ایسے نشانے لگائے کہ تین سو گدھیں، تیرا سو کوے اور بارہ سو چیلوں کو وہاں نشانہ بنایا گیا۔ گویا بنگلہ دیشی فوجیوں کے لئے یہ ایک ایکسر سائز تھی۔ لاش کو عدالتی حکم پر دسویں روز اٹھایا گیا اور عوامی لیگ کے بانی سربراہ کو قبر کی آخری عافیت نصیب ہوئی۔ ان کے خاندان کے سارے لوگ مارے گئے تھے، لیکن ایک بیٹی جو شادی کر کے بیرون ملک تھی، وہ زندہ بچ گئی اور آج وہ بنگلہ دیش کی وزیراعظم ہے۔

ہماری بنگلہ دیش کے ساتھ بھائی بندی1947ءسے بھی بہت قبل کی ہے ،کیونکہ جدوجہد آزادی میں سب سے زیادہ کام، اکٹھ، جلسے جلوس، جیلیں، ہمارے بنگالی بھائیوں کے ہی کارنامے ہیں۔ ہم اگر آج لاہور، کراچی، پشاور، کوئٹہ اور گلگت میں سُکھ کا سانس لے رہے ہیں تو یہ ہمارے انہی بنگالی بھائیوں کی ہی مہربانی ہے جنہوں نے پاکستان کی تحریک اور جدوجہد میں ہر طرح سے دل و جان کے ساتھ اور تن، من، دھن ہی نہیں، بلکہ پورے دھیان کے ساتھ حصہ لیا۔ آج جس آزادی کے ساتھ ہمارے بچے آنے والے پاکستان کے لئے کام کر رہے ہیں۔ یہ سب کچھ ہمارے بنگالی بھائیوں کا ہی دیا ہوا ہے، لیکن ہمارے مغربی پاکستانی میڈیا نے اس ساری قربانی کی قدر نہ کی اور 16 دسمبر 1971ءکی رات بارہ بجے ایک ایسے سانحہ کی خبر سنا دی گئی کہ مشرقی پاکستان اب ایک آزاد مملکت ”بنگلہ دیش“ کے نام سے دنیا کے نقشے پر اُبھر آئی ہے۔

 مو¿رخین نے اس واقعہ کومختلف انداز میں لکھا۔ بھارتی تاریخ دانوں نے اسے بھارتی جاسوس ایجنسی”را“ کی فتح قرار دیا اور لکھا کہ اس نے پاکستان کو توڑنے کی جو منصوبہ بندی کی تھی، وہ اس میں کامیاب رہی، جبکہ بنگلہ دیشی عوامی لیگ نے اسے آزادی سے روشناس کرایا،حالانکہ اس وقت یہ سارا حصہ پاکستان کے نام سے جانا جاتا تھا۔ ایک طرف کا حصہ مغربی پاکستان کہلاتا تھا اور دوسری طرف کا حصہ مشرقی پاکستان، لہٰذا ایسے میں اگر کوئی ایک حصہ کسی بھی جارحانہ کارروائی کے نتیجے میں قبضے میں بھی لے لیا جائے تو وہ یا تو سابقہ پاکستان کا نام پاتا ہے اور یا 1947ءکی آزادی کی جدوجہد کے حوالے سے ایک بھائی کی دوسرے بھائی سے علیحدہ رہنے کی تعبیر پاتا ہے، جس میں ہرگز مخالفت یا دشمنی کی بات نہیں ہوتی۔ ایسی ہی صورت تھی، لیکن ہمارے یہاں بنگلہ دیش، نامنظور کے نعروں نے حالات بدل دئیے۔ بیرسٹر بھٹو نے جب بنگلہ دیش کا یہ مطالبہ سنا کہ ہمارے 95 ہزار فوجی اور سویلین قیدیوں پر مقدمات چلائے جائیں تو انہوں نے ڈھاکہ کا دورہ کیا، پھر بھارت کے ساتھ مذاکرات کئے کہ ہمارے فوجیوں نے اپنی ہی ایک آئینی حکومت کی امداد کی،پیروی کی یعنی حکم کی پیروی کی،اس لئے اُن پر کسی قسم کا مقدمہ نہیں چلایا جاسکتا، لہٰذا اس سارے تناظر میں معاملات حل ہوئے۔

 قیدی بھارت سے آزاد ہو کر واپس آئے اور معاہدہ طے پایا کہ کبھی اُن پر مقدمہ نہیں چلایا جائے گا، لیکن آج تاریخ نے نیا رُخ اختیار کررکھا ہے، جس بھارت نے پاکستان توڑا، اب تجارتی روابط ہمارے ساتھ بڑھتے دیکھ کر اُسی بھارتی سرکار نے اپنی کٹھ پتلی وزیراعظم حسینہ واجد کے ذریعے ایک نئی تحریک شروع کرا دی کہ جن لوگوں نے 1971ءمیں پاکستانی فوج کی حمایت کی تھی، ان پر مقدمات قائم کئے جائیں اور انہیں سزائیں دی جائیں۔ یہ دراصل ایسی سازش ہے کہ کل کلاں بنگلہ دیش کی حکومت عالمی عدالت میں جا کر یہ کہہ سکتی ہے کہ جو 95 ہزار جنگی قیدی بھارت نے آزاد کئے تھے،انہیں واپس بنگلہ دیش کی تحویل میں دیا جائے تاکہ جو زندہ ہیں، ان پر مقدمہ چلایا جائے اور جو دفن ہو چکے ہیں، ان کی ہڈیاں نکال کر ان کو علامتی پھانسی دی جائے۔

یہ ایک ایسا عمل ہے جو عالمی سازش کے زمرے میں آتا ہے۔ ہماری وزارت خارجہ اس سارے عمل سے باخبر ہے اور ہو سکتا ہے کہ او آئی سی (آرگنائزیشن آف اسلامک کنٹریز) اس ضمن میں کوئی حکمت عملی اپنائے ،لیکن ہمیں ایک ایسے وقت میں ان معاملات میں ڈالا جا رہا ہے، جب الیکشن سر پر ہیں اور ہم کسی بھی ایسے معاملے میں اپنا ہاتھ نہیں ڈال سکتے۔ آج ہمارے ساڑھے 4 ہزار سے زائد صنعت کار بنگلہ دیش میں صنعتیں لگا چکے ہیں اور کامیابی سے کام کر رہے ہیں ،جبکہ ہزاروں اور بھی جانے کا سوچ رہے ہیں۔ یہی ایک ایسی وجہ ہے جو بھارت کو قبول نہیں۔ ایک تو اس کا مال وہاں نہیں جائے گا، دوسرے وہ دو بھائیوں کے ملاپ کے خلاف ہے۔ آج ایک ایسی حکمت عملی کی ضرورت ہے کہ ہم بنگالی بھائیوں سے اپنے روابط بڑھائیں اور انہیں باور کرائیں کہ اگر دو بھائی الگ بھی ہوئے ہیں تو وہ اصل میں تو بھائی ہی ہیں، لہٰذا انہیں اگر کوئی لالچ یا کسی دباو¿ کے تحت مجبور کرتا ہے کہ وہ ہم سے رشتہ نہ رکھیں تو وہ کبھی تاریخ میں ان کا دوست نہیں ہو سکتا۔ اس معاملے کو حکومت بنگلہ دیش خوب سمجھتی ہے ،لیکن بیورو کریسی، فوج، عدلیہ، پارلیمینٹ ان لوگوں پر مشتمل ہے جن میں سے 99 فیصد کی تعلیم بھارت میں مکمل ہوئی، یعنی پاکستان دشمن تعلیمی اداروں میں جہاں انہیں بتایا ہی یہ گیا کہ ان پر پاکستان نے کس قدر ظلم کیا۔ دوسرے کسی بھی طرح سے بنگلہ دیشی عوام کو یہ نہیں بتایا جاسکا کہ بھارت صرف آپ کو ایک تجارتی”منڈی“ یعنی مارکیٹ خیال کرتا ہے۔ جب بھی بھارت یہ دیکھے گا کہ بنگلہ دیش میں سب کچھ پاکستان سے جا رہا ہے وہ یہ برداشت نہیں کرے گا اور آج یہی کچھ ہو رہا ہے۔ 42 برس کے بعد مقدمات چلانا ایک ایسا معاملہ ہے جس پر ساری دنیا کا میڈیا بحث کر رہا ہے۔ اگر کوئی نہیں کر رہا تو وہ ہمارا اپنا میڈیا ہے، افسوس صد افسوس۔     ٭

مزید : کالم